عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا۔۔۔ قسط نمبر 5

عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا۔۔۔ قسط نمبر 5
عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا۔۔۔ قسط نمبر 5

  


ابو جعفر اور مارتھا کو شاہ البانیہ کی طرف سے بغاوت کا انتظار تھا۔ ابو جعفر نے معصوم شہزادوں کے گھناؤنے قتل کے بعد قیصر قسطنطنیہ کو اپنی رپورٹ میں لکھا۔

’’شہنشاہ معظم ! محافظ مسیحیت ! جناب قیصر قسطنطنیہ !

میں نے تین عیسائی بچوں کے پاکیزہ خون سے سلطان مراد خان کے لیے عذاب مسلسل کا نوشتہ لکھ دیا ہے۔ میں نے سلطنت عثمانیہ کی البانوی سرحدوں میں بغاوت کا بارود بھر دیاہے۔ سلطان نے ہماری توقع کے مطابق چوتھے شہزادے کو اپنی خاص تحویل میں لے لیا ہے۔ اب میں چوتھے شہزادے جارج کسٹریاٹ کی دین مسیح کے مطابق ذہنی تربیت کررہاہوں ۔ بہت جلد میں اس سلطان کے گھر میں اس کا ایک طاقتور دشمن تیار کرلوں گا۔

قیصر کا خیر اندیش

ڈیمونان۔‘‘

عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا۔۔۔ قسط نمبر 4 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

اب ابو جعفر نے مارتھا کو یہ ذمہ داری سونپی کہ وہ شہزادہ جارج کو سلطان کے خلاف پوری طرح بھڑکائے ۔ تہرے قتل جیسا سنگین جرم سرانجام دینے کے بعد مارتھا سر سے پاؤں تک ابو جعفر کی گرفت میں آچکی تھی۔ اس کے لیے ابوجعفر کی بات ماننے کے سوا کوئی راستہ نہ تھا ۔ چنانچہ مارتھا نے چپ چاپ وہی کچھ کرنا شروع کردیا جس کا حکم قیصر کا شاطر جاسوس ابوجعفر یعنی ’’ڈیمونان‘‘ اسے دیتا۔ مارتھا نے شہزادہ جارج کو یہ کہہ کر انتقام پر اکسایا کہ اس کے معصوم بھائیوں کو ’’سلطان مراد خان ثانی‘‘ نے زہر دے کر مروایا ہے۔ جارج دس گیارہ سال کا لڑکا تھا ۔ اپنے بے یارومددگار بھائیوں کی موت سے سخت دل گرفتہ تھا ۔ اسے مارتھا نے سلطان کے خلاف بھڑکایا اور اس کے تن بدن میں انتقال کی آگ دوڑنے لگی ۔ اسے یکے بعد دیگرے سلطان کے تمام اقدامات ظلم محسوس ہونے لگے۔ اس کی نگاہوں کے سامنے اپنے مفتوح وطن اور مغلوب باپ کا چہرہ گھومنے لگا۔ اسے اپنی کسمپرسی کا وہ وقت بھی یاد آیا جب اس کا باپ اور شفیق ماں اس سے بچھڑ رہے تھے اور وہ صغیر سنی کے عالم میں اپنے بھائیوں سمیت ایک اجنبی دیس کی جانب قیدی کی حیثیت سے روانہ ہو رہا تھا ۔پھر اسے اپنے کم سن بھائی تڑپتے، سسکتے اور بوجہ زہر قے کرتے یاد آئے۔ مارتھا نے نوعمر شہزادے کو اپنی چرب زبانی کے منحوس جال میں بری طرح سے جکڑ لیا تھا ۔

البانوی شہزادہ جارج کسٹریاٹ براہ راست سلطان کی نگرانی میں چلا تو گیا ۔ لیکن اس کے سینے میں غم و غصے کا ایک جہنم دہک رہاتھا ۔ مارتھا نے اسے بھڑکایا ۔ لیکن ساتھ کے ساتھ اسے فوری اشتعال سے باز رہنے پر آمادہ بھی کیا ۔ مارتھا اس سے کہتی۔

’’جارج! جلد بازی میں کوئی ایسا کام نہ کر بیٹھنا جس سے تمہارا راز کھل جائے اور تم اپنا انتقام لینے سے محروم رہ جاؤ۔‘‘

اب جارج براہ راست شاہی مکتب میں تعلیم و تربیت حاصل کر رہا تھا ۔ یہاں اس کی ملاقات شہزادہ ’’محمد‘‘ سے ہوئی جو عمر میں جارج سے کافی چھوٹا تھا ۔ جارج نے دل میں فیصلہ کیا کہ وہ بڑا ہو کر سلطان مراد خان ثانی کے فرزند شہزادہ محمد کو قتل کر کے اپنے انتقال کی پیاس بجھائے گا۔ جارج کا ناپختہ ذہن انہی خیالات کے ساتھ بتدریج پختہ ہوتا چلا گیا ۔ نفرت اور غم و غصے کی کیفیت نے اسے بد مزاج بنادیا۔ شاہی تربیت نے جارج کی پوشیدہ صلاحیتوں کو چار چاند لگادیئے اور جب وہ جوان ہوا تو ایک ضدی لیکن تجربہ کار شہزادے کی حیثیت سے جوان ہوا۔ شاہی مکتب سے فراغت کے بعد اسے ینی چری کی تربیت گاہ میں سپاہیانہ جوہر دکھانے کا موقع ملا۔ بہت جلد اس نے شمشیر زنی اور نیزہ بازی میں بھی کمال حاصل کرلیا۔ یہاں اس کا استاد’’طاہربن ہشام‘‘تھا۔

ینی چری کی تربیت گاہ جو فی الحقیقت عیسائی قیدیوں کو مسلمان کرنے اور تربیت دینے کے لیے قائم کی گئی تھی، جارج کا ذہن نہ بدل سکیں ۔ جارج نے سلطان کے کہنے پر ظاہراًاپنا مذہب تو تبدیل کرلیا لیکن دل میں وہ عیسائی تھا ابوجعفر اور مارتھا نے بھی جارج کو ظاہری طور پر مذہب بدل لینے کا مشورہ دیا۔

جارج نے مذہب تبدیل کرکے اسلام قبول کیا تو سلطان مراد خان بہت خوش ہوا۔ سلطان کو معلوم نہیں تھا کہ اس نے ایک سانپ کو اپنی آستین میں دودھ پلا پلا کر پال لیا ہے۔ ایک ایسا سانپ جس کے پس پشت پرابوجعفر جیسا زہریلا ناگ اور مارتھا جیسی بھیانک ناگن تھی۔

یہ 1443عیسوی کا آغاز تھا ۔ بہار کا موسم تھا اور تخت نشینی کا سالانہ تہوار جاری تھا ۔ آج سکندر بیگ کو پہلی مرتبہ دندان شکن شکست ہوئی تھی۔ جس کی وجہ سے مارتھا کی بیٹی مارسی بہت خوش تھی لیکن مارتھا اور ابو جعفر ، سکندر کی شکست کی وجہ سے خاصے ملول تھے۔ خود سلطان کو بھی سکندر کے ہار جانے کا افسوس ہواتھا۔ لیکن سلطان نے اس مقابلہ کو تہوار کا کھیل سمجھ کر نظرانداز کردیاتھا ۔

سلطان نے کھیل تماشے ختم ہونے کے بعد رات کے وقت سکندر بیگ کو محل میں طلب کیا اور اس کے بائیں بازو پر لگے گھاؤ کی بابت پوچھا۔ سکندر ابھی تک اپنی شکست کے اثر سے نکل نہیں پایا تھا۔ سلطان نے سکندر کو رنجور دیکھا تو کہا۔

’’سکندربیگ! ہم تمہاری بہادری اور طاقت کے قائل ہیں۔ تمہیں ملول اور پریشان ہونے کی چنداں ضرورت نہیں۔ ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ تمہیں مغربی سرحدات کی جاگیر کا ’’والی ‘‘مقرر کردیا جائے۔ اب وقت آگیا ہے کہ تمہیں حکمرانی کی ذمہ داری سونپی جائے ۔ ہم تمہاری تعلیم و تربیت سے مطمئن ہیں اور تمہیں اپنا فرزند سمجھتے ہیں ۔ تمہاری شکست کے دکھ کو دور کرنے کا یہی طریقہ ہمیں سوجھا ہے۔‘‘

سلطان کا فیصلہ سن کر سکندر بیگ کی تمام حسیں بیدار ہوگئیں۔ اسے یکلخت اپنی شکست کا دکھ بھول گیا اوراسے اچانک اپنی منزل انتقام نزدیک دکھائی دینے لگی۔ سکندر نے کمر تک جھک کرسلطانی فیصلے کو قبول کیااور مسکرانے کی کوشش کرتے ہوئے کہا۔

’’سلطان معظم ! ایک یرغمال شہزادے کو آپ نے اپنا بیٹا بناکر اور پھر اعلیٰ تربیت دے کر جو عزت بخشی ہے اس کا بدلہ میں کبھی نہیں چکا سکتا ۔ آپ کے احسانات کے عوض میں صرف وعدہ کر سکتا ہوں کہ سلطان معظم کی ہر خدمت دل وجان سے بجالاؤں گا۔‘‘

سلطان ، سکندر کی بات سن کر پدرانہ انداز میں مسکرایا اور کہا۔

’’ہمیں تم پر پورا بھروسہ ہے سکندر !...............تم کل ہی مغربی سرحدات کی جانب روانہ ہونے کی تیاری کرو۔ سرحدات کی جاگیر کے موجودہ والی کے پاس ہمارا شاہی حکم نامہ اپنے ہمراہ لیتے جانا۔ آج سے تم ہماری سلطنت کے ایک بڑے جاگیردار ہو اور ہمیں پوری امید ہے کہ تم اس فرض کو بخوبی نبھاؤگے۔‘‘

اور پھر تہوار سے تیسرے روز سکندر اپنے محافظ دستے سمیت مغربی سرحدات کی جانب روانہ ہورہا تھا۔ جانے سے پہلے سکندر اپنے محافظ دستے سمیت مغربی سرحدات کی جانب روانہ ہورہاتھا ۔ جانے سے پہلے سکندر نے مارتھا کو پوری طرح مجبور کیا کہ وہ مارسی کو اس کے ساتھ بیاہ کر روانہ کردے۔ مارتھا بھی یہی چاہتی تھی۔ لیکن مارسی نے صاف انکار کر دیا۔ سکندر نے مزید زور دیا تو مارسی نے ایک اور عجیب چال چلی اور علی الاعلان کہہ دیا کہ وہ ایک مسلمان کے ساتھ شادی نہیں کرسکتی ۔ اس نے یہ بھی کہا کہ اگر سکندر علی الاعلان پھر سے عیسائی ہوجائے تو وہ یہ شادی کرنے کے لیے تیار ہے۔

مارسی کا یہ فیصلہ سن کر سکندر ،ابوجعفر اور مارتھا سٹپٹا گئے۔ اب مارتھا کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہ تھا کہ مارسی کو اصل حقیقت سے آگاہ کردیتی۔ مارسی بھی آخر زمانہ شناس مارتھا کی بیٹی تھی۔اس نے ترپ کی چال چلی اور اپنی ماں سے اصل حقیقت اگلوالی ۔

مارتھا ، مارسی کو الگ کمرے میں لے گئی اور سچ سچ بتادیا کہ سکندر بیگ درحقیقت مسلمان نہیں ہے بلکہ اس نے اپنا اور اپنے بھائیوں کا انتقام لینے کے لیے اسلام قبول کرنے کا ڈرامہ کیا ہے۔ مارتھا کی بات سن کر مارسی کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ اس کے دل کی دھڑکن تیز ہوگئی اور اسے یکلخت یہ احساس ہوا کہ وہ ایک بہت بڑے راز سے واقف ہوگئی ہے۔ اس نے سنسنی زدہ لہجے میں ماں کو مزید کریدنے کی کوشش کرتے ہوئے پوچھا۔

’’ماں!آج مجھے سچ سچ یہ بھی بتادو کہ یہ شخص ابو جعفر فی الحقیقت کون ہے؟ کیونکہ یہ شخص اوپر سے جو کچھ نظر آتا ہے، حقیقت میں وہ نہیں۔‘‘

مارسی کی بات سن کر مارتھا لرز گئی۔ وہ تو سکندر کا راز بھی فاش نہ کرنا چاہتی تھی اور مجبوراً اسے ایسا کرنا پڑا تھا۔ لیکن ابو جعفر جیسے خطرناک جاسوس کے چہرے سے وہ کیسے نقاب الٹ سکتی تھی۔ اس کا رنگ زردپڑگیا۔ لیکن اس نے اپنے آپ کو سنبھالنے کی کوشش کی اور مارسی سے کہا ۔

’’بیٹی ! یہ وقت ان باتوں کا نہیں۔ تم نے شرط رکھی تھی کہ تم ایک عیسائی سے ہی شادی کروگی۔ چنانچہ میں نے تمہیں سکندر بیگ کی حقیقت بتادی۔ اب تم مزید وقت ضائع مت کرو اور جلدی سے اپنی شادی کی تیاری کرو۔‘‘

مارسی کے ذہن میں آندھیاں چل رہی تھیں ۔ اسے پہلی بار احساس ہو رہا تھا کہ اس کی ماں کتنی بڑی سازش میں شامل ہے۔ اس نے اپنی ماں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال دیں اور دلیری سے کہا ۔ ’’ٹھیک ہے۔ جس دن تم مجھے یہ بتادوگی کہ یہ مکار شخص ابوجعفر فی الحقیقت کون ہے؟ میں اس دن سکندر سے شادی کے لیے تیار ہو جاؤں گی۔‘‘

مارسی کی بات سن کر مارتھا سکتے میں آگئی۔ اب اس کے لیے اپنی بیٹی کو سنبھالنا مشکل ہوگیا تھا ۔ وہ یہ بھی نہیں چاہتی تھی کہ اس کی بیٹی کا ضدی رویہ سکندر یا ابو جعفر کے سامنے آئے۔ کیونکہ وہ جانتی تھی کہ ابو جعفر کتنا خطرناک شخص ہے۔ اگر وہ مارتھا کی بیٹی سے ایک بار بدظن ہوگیا تو اسے قتل کروادے گا۔ مارتھا کے لیے ہر طرح کا فیصلہ مشکل ہوچکا تھا۔ وہ سر جھکائے کچھ دیر تک سوچتی رہی اور پھر بالآ خر چپکے سے باہر نکل آئی۔ باہر سکندر اور جعفر اس کے منتظر تھے۔ مارتھا ڈھیلے قدموں سے چلتی ہوئی ان کے پاس آئی اور اپنے لب و لہجے کو سنبھالتے ہوئے کہا ۔

’’ سکندر بیٹا ! مارسی شادی کے لیے تیار ہے۔ لیکن اتنی جلدی میں شادی جیسے کام سے گھبرارہی ہے۔ تم اطمینان سے جاؤ ۔ میں بہت جلد مارسی کو لے کر تمہاری جاگیر میں آپہنچوں گی۔پھر ہم لوگ وہیں رہیں گے۔‘‘

ابوجعفر ، مارتھا کے چہرے پربڑے عجیب انداز میں نظریں ٹکائے ہوئے تھا ۔ اس نے بڑے غور سے مارتھا کی بات سنی اور پھر کسی قدر تفہیمی اور طنزیہ انداز میں سر ہلا دیا۔ مارتھا ، ابوجعفر کے تیور دیکھ کر من ہی من میں کانپ گئی تھی۔ یہ خطرناک شخص یقیناً اصل بات کا اندازہ لگا چکا تھا ۔ بہر حال مارتھا کی بات سن کر سکندر نے خلاف توقع کسی قسم کے غصے کا اظہار نہ کیا بلکہ مارتھا سے کہنے لگا۔

’’ٹھیک ہے ! میں وہاں کے ماحول کو دیکھنے کے بعد جلد ہی آپ لوگوں کو اپنے پاس بلوا لوں گا۔‘‘

سکندر کی بات سے کسی حد تک مارتھا کا خوف دور ہوا۔ اتنے میں ابوجعفر بھی بول اٹھا ۔

’’ہاں ،ہاں ! اس میں پریشان ہونے والی کون سی بات ہے۔ مارسی اور سکندر ایک ہی گھر کے بچے تو ہیں ۔ ہم لوگ جب چاہیں گے ان کی شادی کردیں گے..............آخر مارسی سکندر کے بغیر جاہی کہاں سکتی ہے؟‘‘ ابوجعفر کا آخری جملہ ذومعنی تھا جسے غالباً سکندر سمجھا نہ سمجھا البتہ مارتھا ضرور سمجھ چکی تھی۔

خدا خدا کر کے سکندر روانہ ہوا ور مارسی کی جان میں جان آئی۔ رات کو مارسی نے دیکھا کہ ان کی ماں بستر پر کروٹیں بدل رہی تھی۔ پھر تقریباً آدھی رات کے قریب مارتھا اپنے بستر سے اٹھی اور بیٹی کے پاس آگئی۔ وہ حد سے زیادہ بے چین تھی۔ مارسی نے ماں کی حالت دیکھی تو بلا تامل دریافت کیا۔

’’امی حضور ! آپ کس وجہ سے مضطرب ہیں؟‘‘

مارسی نے ماں کے بیٹھتے ہی کہا ۔ مارتھا نے ایک لمبی سی ٹھنڈی سانس لی اور انتہائی دھیمے لہجے میں کہا ۔ ’’مرسی ! میں تمہاری وجہ سے پریشان ہوں تم جانتی ہو سکندر ضدی اور جھگڑالو ہے۔ تمہارے انکار سے وہ بدک جائے گا۔ یہ تو غنیمت ہے کہ وہ ابھی تک تمہیں اپنی کنیز کی بیٹی سمجھتا ہے اور جانتا ہے کہ تم اس کے سوا کسی کی نہیں ہوسکتی ۔ خداوند نہ کرے اگر اسے یقین ہو گیا کہ تم اسے نہیں چاہتی تو بہت گڑبڑ ہوجائے گی۔‘‘

مارتھا کی بات سن کر مارسی اٹھ کر بیٹھ گئی اور ماں کے کندے سے سرٹکا کر بولی۔

’’ماں ! تم فکر نہ کرو ۔ کوئی گڑ بڑ نہ ہوگی۔‘‘

مارتھا اور مارسی دیر تک اسی قسم کی باتیں کرتی رہیں۔ اور صبح سے کچھ دیر پہلے دونوں ماں بیٹی کی آنکھ لگ گئی۔(جاری ہے)

عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا۔۔۔ قسط نمبر 6 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /سلطان محمد فاتح