فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر458

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر458
فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر458

  

مینا کماری شاعرہ بھی تھیں اور نثر بھی لکھا کرتی تھیں مگر ان دونوں ذرائع سے دراصل وہ اپنے دکھوں کا اظہار کرتی تھیں کہ ان کادکھ درد سننے والا بھی کوئی نہ تھا۔

ایک بار مینا کماری نے لکھا۔

’’میں عرصہ دراز تک دوسروں کے تخیل کے مطابق تراشی ہوئی مینا کماری کی زندگی بسرکرتی رہی ہوں۔ مداح، پرستار، پبلسٹی کرنے والے، اخبارات، رسائل و جرائد، کالم نگار، ہدایت کار، نقاد ہر ایک نے اپنے اپنے خیال کے مطابق ایک مینا کماری تخلیق کر لی تھی۔ ہرایک کی شکل مختلف ہے۔ میں سوچتی ہوں کیا کبھی ان تمام مینارکا ریوں کو یکجا کرکے ایک قالب میں دیکھنے کی بھی کوئی جستجوکرے گا؟ میں مختلف ٹکڑوں میں بٹی ہوئی ایک شخصیت ہوں۔ کیا کوئی ان سب کو اکٹھا کرکے ایک سانچے میں ڈھالے گا تاکہ میں یہ محسوس کر سکوں کہ انہوں نے حقیقی مینا کماری کو پا لیا ہے؟‘‘

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر457پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

اس طرح کی بے شمار تحریریں وہ لکھتی رہتی تھیں۔ شائع کرانے کے لیے نہیں صرف اپنے جذبات کا اظہار کرنے کی خاطر۔ انہوں نے شاعری بھی کی اور بہت اچھے اشعار لکھے مگر وہ انہیں چھپا کر رکھتی تھیں جس طرح کہ وہ اپنی اصلیت اور راز دل کو ہمیشہ چھپایا کرتی تھیں۔ اس کے باوجود ان کے کچھ اشعار ان کی زندگی ہی میں شائع ہو گئے تھے۔ یہ غم و الم سے بھرپور نوحے تھے۔ ان کی تحریروں کو پڑھئے تو مینار کماری خود اپنے اوپر ماتم کرتی ہوئی نظر آتی ہے۔

مینار کماری نے لگ بھگ ۹۱ فلموں میں کام کیا۔ فلم چاہے جیسی ہو۔ میناکماری کی شخصیت اور اداکاری اس میں نمایاں اور حاوی نظر آتی ہے۔ مہ جبیں نے اپنے چہرے پر مینار کماری کا نقاب پہن لیا کیونکہ انہیں اپنی بہنوں ، بھائیوں اور والد کی کفالت کرنی تھی۔ انہیں زندگی کی خوشیاں، آسائشیں اور نعمتیں فراہم کرتی تھیں۔ شاعرہ اور مصنفہ نازنے اپنے خوابوں کو دوسروں کے خرابوں پر قربان کر دیا۔ مینا کماری نے بہت دولت کمائی مگر پہلے وہ ان کے والد اور بہن بھائیوں کے کام آئی۔ ستم ظریفی دیکھیے کہ جب عمر میں خود سے کافی بڑے شادی شدہ لیکن بہت بڑے مصنف اور ہدایت کار کا سہارالیا اور اسے اپنا شریک حیات بنایا تو وہ بھی خوشیوں کا دشمن نکلا۔ بچی کچھی پونجی شوہر کی نذر ہوگئی اور وہ دونوں ہاتھ جھاڑ کر کھڑی ہوگئی۔ ستم یہ کہ شوہر نے قدرنہ کی یہاں تک کہ بیماری کے دنوں میں بھی کمال امروہوی کو اپنی فلم ’’پاکیزہ‘‘ مکمل کرنے کی دھن تھی۔ یہ پروا نہ تھی کہ ان کی بیوی اور فلم کی ہیروئن کس کرب سے گزر رہی ہے اور زندگی کی آخری سانسیں لے رہی ہے۔ مسلسل ناکامیوں، تلخیوں، مایوسیوں اور دل شکنیوں کے بعد بھی جب مینا کماری کو سکون کا سانس نصیب نہ ہوا تو اس نے شراب کا سہارا لیا۔ شراب خانہ خراب نے رہی سہی کسر بھی پوری کر دی۔ جس طرح سعادت حسن منٹو نے اپنے غموں کو شراب میں ڈبونے کی کوشش کی تھی ایسا ہی تجربہ مینا کماری نے بھی کیا اور دونوں نے گھاٹا ہی اٹھایا۔

مینا کماری کی زندگی اب ایک کھلی کتاب ہے۔ اس لیے بارے میں مزید بیان کرنے چنداں حاجت نہیں ہے۔ اس موقع پر مینار کماری کے ایک مخلص اور بے لوث پرستار کا ذکر کرنا مقصود ہے۔ ان صاحب کا نام شیبا چھا چھی ہے۔ انہوں نے نئی دہلی میں مینا کماری کی یادگار کے طورپر ایک میوزیم قائم کیا ہے۔ اس میوزیم میں میناکماری کی زندگی کے متعلق ہر طرح کی معلومات اکٹھی کر دی گئی ہیں۔ حالات زندگی، خاندانی حالات، بچپن سے جوانی اور پھر دم واپسیں تک کے تمام واقعات، تصاویر، تحریریں اور فلمیں۔ ان کے بارے میں لکھے گئے مضامین ان کی فلموں پر لکھے جانے والے تبصرے۔ شعبہ اداکاری میں انکی خدمات۔ اس عمارت میں داخل ہونے کا راستہ ، مینا کماری کی مشہور فلموں کے پوسٹروں سے آراستہ کیا گیا ہے۔ میرے اپنے صاحب بی بی اور غلام، کوہ نور، پھول اورکانٹے، منجھلی یددی، پاکیزہ اور دیگر معروف فلموں کے پوسٹر اس خوب صورتی سے ڈیزائن کرکے سجائے گئے ہیں کہ میوزیم کے اندر قدم رکھنے والے کویہ احساس ہو جاتا ہے کہ وہ ’’ملکہ غم‘‘ کے دربار میں حاضرہو رہا ہے ۔مینا کماری کوانکی زندگی ہی میں ’’کوئن آف ٹریجڈی‘‘ کا خطاب دے دیا گیا تھا جوکہ ان کے فلمی کرداروں کے علاوہ ان کی حقیقی زندگی کے بھی عین مطابق تھا۔

مینار کماری کاپسندیدہ رنگ، اگر اس کو رنگ کہا جا سکتا ہے تو سفید تھا۔ وہ عام طور پر سفید لباس پہنا کرتی تھیں۔ مشرقی معاشرے میں سیاہ رنگ ماتم اور سفید سوگ کے لیے مخصوص ہے۔ انہیں آغاز ہی سے سفید پوشی کا شوق تھا۔ شاید آنے والے واقعات ان پرمنکشف ہوگئے تھے۔

یہاں میناکماری کی تحریریں بھی آویزاں ہیں۔

’’جل پری‘‘ کے زیر عنوان یہ سطور ہیں۔

’’جل پری حسن مجسم، سراپا کشش لیکن ہمیشہ تنہا۔ جو ہمیشہ اس خواہش میں رہتی ہے کہ کاش اسکے پر لگ جائیں وہ تنہائی کے اس حصار سے پرواز کرکے باہر نکل جائے۔‘‘

ایک اور تحریر دیکھیے۔

’’اس کٹی پتنگ کو دیکھو۔ میری زندگی بھی ایک کٹی پتنگ کے مانندہے کیونکہ کٹی پتنگ کی طرح میرا بھی کوئی گھر۔کوئی سہارا، کوئی منزل، کوئی امید نہیں ہے۔ ہوا کے جھونکے اسے ایک طرف سے دوسری طرف اڑائے لیے پھرتے ہیں یہاں تک کہ یہ لوٹنے والوں کے ہاتھوں میں پہنچ کر پارہ پارہ ہوجاتی ہے۔‘‘

اس میوزیم میں مینا کماری کاایک حسین و جمیل پورٹریٹ بھی ہے۔ جس کے آگے ایک باریک اور خوب صورت شیشہ لگاہوا ہے۔ اس کو آپ ’’شیشہ گھر‘‘ بھی کہہ سکتے ہیں۔ اس ہال میں ہر طرف آئینے لگے ہوئے ہیں۔ ان آئینوں میں مینا کماری کی مختلف تصاویر کے عکس نظرآتے ہیں۔ دیکھنے والا حیران رہ جاتا ہے کہ ان میں مہ جبیں کون ہے۔ نازکون ہے اورمینارکماری کون سی ہے لیکن یہ ایک ایسا معما ہے جسے زندگی بھر خودمینا کماری بھی حل نہ کر سکی تھی۔

میوزیم میں مینا کماری کی اپنی آواز میں چند اشعار بھی سننے کو ملتے ہیں۔ اسکاعنوان ہے ’’قہقہہ‘‘

’’ہر مرتبہ جب میں خود کو تلاش کرنے اور جاننے کی کوشش کرتی ہوں۔

مجھے ایک بلند قہقہے کی آواز سنائی دیتی ہے

جیسے کوئی کہہ رہا ہو

دیکھنا۔ تم ایک بار پھر ہار گئیں!

لیجئے۔ مینا کماری کا یہ نیا روپ بھی ملاحظہ کر لیجئے۔(جاری ہے)

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر459 پرھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید :

کتابیں -فلمی الف لیلیٰ -