اگر آپ نے کسی ایسے مسلمان کا جنازہ پڑھ لیا ہے جو یہ کام کرتا ہے تو فوری توبہ کرلیں کیونکہ ۔۔۔۔۔

اگر آپ نے کسی ایسے مسلمان کا جنازہ پڑھ لیا ہے جو یہ کام کرتا ہے تو فوری توبہ ...
 اگر آپ نے کسی ایسے مسلمان کا جنازہ پڑھ لیا ہے جو یہ کام کرتا ہے تو فوری توبہ کرلیں کیونکہ ۔۔۔۔۔

  

لاہور(ایس چودھری) کسی مسلمان کا جنازہ پڑھنا کار ثواب ہے اور اس بارے احکامات موجود ہیں کہ جب کوئی مسلمان وفات پاجائے تو جان پہچان نہ رکھنے والے بھی اسکے جنازے میں شرکت کریں یا مغفرت کے لئے دعا کریں ۔لیکن سوالیہ ہے کہ اگر مرنے والا خدائے بزرگ وبرتر،اللہ کے حبیبﷺ ،صحابہ کرامؓ ،ازواج مطہراتؓ و اہل بیت اطہارؓ کی شان میں گستاخی کرتا رہا ہو تو اس بارے اسلام کیا کہتا ہے کہ آیااس گستاخ کا جنازہ پڑھنا چاہئے یا نہیں۔بہت سے مسلمان اس بارے میں کئی الجھنوں کا شکار ہیں اور چند سالوں سے سوشل میڈیا کی منفی یلغار سے ایسے سوالات اٹھائے جارہے جن کے مدلل جوابات نہ ملنے سے وہ تذبذب میں پڑے رہتے ہیں ۔

ممتاز عالم دین مفتی عبدالقیوم ہزاروی نے اس حساس اور اہم مسئلہ کے بارے فتویٰ آن لائن میں جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر کسی شخص سے صحابہ کرامؓ یا اہل بیت اطہار رضی اللہ عنہم کی گستاخی و بے ادبی زبان، فعل یا تحریر سے ثابت ہو تو ایسے بے ادب کی نماز جنازہ پڑھنی جائز نہیں اور اس سے بڑھ کر جو شخص اللہ تعالیٰ کی جناب میں یا اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں گستاخی کرے اس کی نماز جنازہ پڑھنا یا اس کے لئے دعائے مغفرت کرنا حرام ہے۔

مفتی عبدالقیوم ہزاروی  نے قرآن مجید کا حوالہ دیتے ہوئے بیان کیا کہ اللہ رب العزت نے   سورہ توبہ فرمایا ”اور اگر وہ اپنے عہد کے بعد اپنی قََسمیں توڑ دیں اور تمہارے دین میں طعنہ زنی کریں تو تم (ان) کفر کے سرغنوں سے جنگ کرو بے شک ان کی قَسموں کا کوئی اعتبار نہیں تاکہ وہ (اپنی فتنہ پروری سے) باز آ جائیں“ دوسری آیت میں ہے ”اور آپ کبھی بھی ان (منافقوں) میں سے جو کوئی مر جائے اس (کے جنازے) پر نماز نہ پڑھیں اور نہ ہی آپ اس کی قبر پر کھڑے ہوں (کیوں کہ آپ کا کسی جگہ قدم رکھنا بھی رحمت و برکت کا باعث ہوتا ہے اور یہ آپ کی رحمت و برکت کے حقدار نہیں ہیں)۔ بے شک انہوں نے اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ کفر کیا اور وہ نافرمان ہونے کی حالت میں ہی مر گئے“

قرآن مجید کے ان واضح احکامات کے مطابق گستاخ خدا کا ہو، رسولﷺ کا ہو، صحابہ ؓکا ہو، ازواج مطہراتؓ و اہل بیت اطہارؓ کا ہو، اس کی نماز جنازہ یا اس کے مرنے کے بعد اس کے لئے دعائے مغفرت جائز نہیں۔ ہاں زندگی میں اس کے لئے ہدایت کی دعا جائز ہے۔ جس شخص نے ایسا نماز جنازہ دانستہ پڑھا ہے وہ توبہ کرے۔ ہاں یہ حکم ان بدمذہبوں کے لئے ہے جو کفریات کو جانتے ہیں اور ان پر عامل ہیں بعض جہلاء محبت اہل بیت کو شیعہ مذہب سمجھتے ہیں۔ وہ صحابہ کرامؓ یا ازواج مطہراتؓ کی کوئی گستاخی نہیں کرتے اور ضروریات ایمان کو تسلیم کرتے ہیں۔ ان کا نماز جنازہ پڑھنا جائز ہے۔

مزید :

روشن کرنیں -