’’ آج ایک یوتھیا سے پوچھا کہ ۔ ۔ ۔‘‘ معروف صحافی ارشد شریف میدان میں آگئے

’’ آج ایک یوتھیا سے پوچھا کہ ۔ ۔ ۔‘‘ معروف صحافی ارشد شریف میدان میں آگئے
’’ آج ایک یوتھیا سے پوچھا کہ ۔ ۔ ۔‘‘ معروف صحافی ارشد شریف میدان میں آگئے

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان میں نام نہاد شعوراجاگر ہونے کے بعد گالیاں دیا جانا معمول بن گیاہے اور ایسے میں سب سے زیادہ صحافی نشانہ بنتے ہیں، جس پارٹی کی کمزوری یا کسی برے فعل کی نشاندہی کی جائے تو اسی کے کارکنان گالم گلوچ پراترآتے ہیں اور بعض تو بلیک میلر یعنی لفافہ صحافی بھی قراردے دیتے ہیں، ایسی ہی صورتحال کی عکاسی اس میسج نے کی جو سینئر صحافی ارشدشریف نے اپنے مداحوں کیساتھ شیئرکیا۔

ٹوئیٹرپر ارشد شریف نے میسج شیئرکیا کہ ” آج ایک یوتھیا سے پوچھا کہ یار جو صحافی کچھ دن پہلے ن لیگ پر تنقید کر رہے تھے وہ سب سچ تھا یا جھوٹ؟جواب آیا کہ سب سچ ہے، میں نے پوچھا کہ آج کل وہی صحافی پی ٹی آئی والوں کے پیچھے کیوں پڑ گئے۔۔۔اس نے جواب دیا کہ یار یہ سب لفافہ صحافی ہیں اور ان کا کام جھوٹ بولنا ہے “۔

ارشد شریف کی یہ ٹوئیٹ سامنے آئی تو روایتی طورپر تحریک انصاف اور دیگر جماعتوں کے کارکنان سوشل میڈیا پر بھی آپس میں لڑپڑے اور غلیظ زبان استعمال کرنا شروع کردی لیکن رابعہ ظفر نے لکھا کہ ’آپ کے ٹوئٹر ہینڈل پر ایسی زبان کا استعمال مناسب نہیں، یہ ضروری نہیں کہ بری زبان کو ہوا دی جائے‘۔

زین قریشی نے لکھا کہ ’ جناب یہ ہی ہمارا سوال آپ سے ہے۔ کہ اب اگر آپ سچ بول رہے ہو تو پہلے قوم کو کیوں اندھیرے میں رکھا آپ نے؟ کیا آپ نہیں جانتےتھے کہ عمران خان غلط ہے؟ اب یہ اچانک آپ کا حاجی بن جانا بھی سمجھ سے باہر ہے۔ کیا آپ جواب دو گے  کہ اچانک تبدیلی کیسے آئی؟‘

فضل نے لکھا کہ ’بھائی تنقید کرو، بدمعاشی نہیں، تم تو بدمعاشی کرتے ہو‘۔

رضا نے لکھا کہ ’جناب نے بھی تو وفاداری گرگٹ کے طرح بدلی ہے۔۔ سوال تو اٹھتا ہے‘۔

سادات نے لکھا کہ ارشد شریف نے وفاداریاں نہیں بدلیں، کیا صحافیوں کا یہی کام رہ گیا ہے کہ ہمیشہ تحریک انصاف کا دفاع ہی کرتے رہیں۔

مزید :

قومی -ڈیلی بائیٹس -