اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کی بیوی رنگے ہاتھوں پکڑی گئی

اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کی بیوی رنگے ہاتھوں پکڑی گئی
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کی بیوی رنگے ہاتھوں پکڑی گئی

  

تل ابیب(نیوز ڈیسک)اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کی اہلیہ سارہ نیتن یاہو ایک ایسے بیہودہ الزام میں پکڑی گئی ہے کہ جو بیک وقت شرمناک بھی ہے اور انتہائی مضحکہ خیز بھی۔ موصوفہ کے بارے میں پتا چلا ہے کہ اس نے مہنگے ریستورانوں کے کھانے منگوانے میں ہی سرکاری خزانے کا ایک لاکھ ڈالر (تقریباً سوا کروڑ پاکسانی روپے) اجاڑ ڈالا ہے۔

نیوز ویب سائٹ ’مڈل ایسٹ آئی‘ کی رپورٹ کے مطابق سارہ نیتن یاہو پر الزام تھا کہ اُس نے مہنگے ترین مقامی و غیر ملکی ریستورانوں سے لاتعداد بار کھانا اپنے سرکاری گھر میں منگوایا جبکہ اپنے عزیزوں رشتہ داروں کو بھی سرکاری خرچ پر مہنگے کھانے کھلاتی رہی ۔ خزانے کا یہ غلط استعمال 2010اور 2013کے درمیان جاری رہا۔ قانون کے مطابق وہ سرکاری خزانے کو استعمال کرتے ہوئے باہر سے کھانا نہیں منگوا سکتی تھیں البتہ انہیں گھر پر سرکاری باورچی اور کچن فنڈ کی مد میں محدود رقم استعمال کرنے کی اجازت تھی۔

اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کی اہلیہ نے تین سال تک ناصرف مہنگے ترین مقامی ریستورانوں سے کھانے منگوائے بلکہ وہ اکثر غیر ملکی کھانے بھی منگواتی تھیں جن میں اطالوی اور مراکشی ریستورانوں کے کھانے سرفہرست ہیں۔ وہ اسرائیل میں واقع واحد فرانسیسی ریستوران سے بھی اکثر کھانا منگواتی تھیں اور کئی بار شیراٹن پلازہ ریستوران سے بھی کھانا منگوایا۔

تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ سارہ نیتن یاہو کو اچھی طرح معلوم تھا کہ وہ سرکاری خزانے کو استعمال کرتے ہوئے باہر سے کھانا نہیں منگواسکتیں لیکن اس کے باوجود وہ تین سال تک یہ غیر قانونی کام کرتی رہیں۔ یاد رہے کہ وزیراعظم نیتن یاہو خود بھی فراڈ اور کرپشن کے متعدد مقدمات میں تحقیقات کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے اپنی اہلیہ کے خلاف الزامات کو بے بنیاد اور فضول قرار دیا ہے۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -