نبی کریم ﷺ نے سوار کو پیدل چلنے والے کو سلام کرنے کا حکم کیوں دیا ؟؟

نبی کریم ﷺ نے سوار کو پیدل چلنے والے کو سلام کرنے کا حکم کیوں دیا ؟؟
نبی کریم ﷺ نے سوار کو پیدل چلنے والے کو سلام کرنے کا حکم کیوں دیا ؟؟

  

سلام سے مراد دراصل سلامتی ، امن اور عا فیت ہے ،سلامتی میں انسان کی ساری زندگی اس کے معمولات ، تجارت ، اس کی زراعت اور اس کے عزیزو اقا رب گویا معاشرتی زندگی کے سب پہلو ، دین دنیا اور آخرت شامل ہوتے ہیں ۔پیغمبر اسلام ﷺ نے فرمایا:جب تک تم ایمان نہ لاؤ جنت میں نہیں جاؤ گے، اور اس وقت تک تم ایماندار نہیں بن سکتے جب تک تم آپس میں ایک دوسرے سے محبت نہ کرو، کیامیں تمہیں ایک ایسی بات نہ بتاؤں کہ جب تم اس پر عمل در آمد کرو تم آپس میں محبت کرنے لگو؟ اور وہ یہ ہے کہ تم آپس میں سلام کو پھیلا ؤ۔ایک اور حدیث میں مروی ہے کہ ’’ ایک شخص نے رسول اللہﷺ سے دریافت کیا کہ اسلام میں کون سا عمل زیادہ بہتر ہے ؟ آپ نے فرمایا : تم لوگوں کو کھانا کھلاؤ اور ہر شخص کو سلام کرو خواہ تم اسے جانتے ہو یا نہ جانتے ہو۔ (بخاری و مسلم)’’سلام‘‘ کااسلام میں کیامقام ہے اور قرآن مجیدمیں ’’سلام‘‘ کی اہمیت پر کس قدر وضاحت سے روشنی ڈالی گئی ہے اوربالخصوص جنت میں سلام کے متعلق جو وضاحتیں گزری ہیں ؟ اس سے ’’ سلام ‘‘ کی اہمیت کا اچھی طرح اندازہ ہوتا ہے۔نیز سلام کے بعدمصافحہ کرنا سونے پر سہاگہ کامصداق ہے اور اس سے دوسرے مصافحہ کرنے والوں کے گناہ بھی معاف ہوجاتے ہیں۔۔۔

۔۔۔ویڈیو دیکھیں۔۔۔

مزید :

ویڈیو گیلری -