انصاف اور میرٹ کس چڑیا کا نام ہے؟؟؟

انصاف اور میرٹ کس چڑیا کا نام ہے؟؟؟
انصاف اور میرٹ کس چڑیا کا نام ہے؟؟؟

  

تحریر:رضوان جرال 

جب اقتصادیات اخلاقیات پر غالب آ جائے ،جب مفاد نظریے پر حاوی ہو جائے ، جب مکاری راست بازی پر غالب آجائے ،جب الکٹیبلز کو نظریاتی کارکنوں پر برتری حاصل ہو جائے تو پھر ایسے ہی فیصلے ہوتے ہیں جو آج کل ٹکٹوں کی تقسیم کے حوالے سے تحریک انصاف کر رہی ہے ،کارکن کسی بھی سیاسی جماعت کا اثاثہ ہوتے ہیں اور یہی کارکن ہی ہوتے ہیں جو جماعت کی کامیابی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں مگر 22 سال کی جدوجہد میں خان صاحب اب اتنے ڈیسپریٹ ہو چکے ہیں کہ اب وہ صرف حکومت حاصل کرنا چاہتے ہیں چاہے میرٹ کا خیال رکھا جائے یا نہ رکھا جائے؟عمران خان نے ٹکٹوں کی تقسیم میں اپنے ہی نظریے کی نفی کی جس کی پچھلی دو دہائیوں سے راگنی بجا رہے تھے۔ چوہدری سرور نے ایک دفعہ کہا تھا کہ ہمارے نظریاتی کارکنان خدشات کا شکار ہو رہے ہیں کہ نئے لوگوں کے آنے کی وجہ سے پُرانے ورکرز کو نظر انداز کر دیا جائے گا اورمیں خود ایک نظریے کی تحت تحریک انصاف میں شامل ہوا ہوں اور مرتے دم تک نظریاتی کارکنوں کا دفاع کروں گا مگر موجودہ حالات میں تو چوہدری سرور بھی یہ وعدہ وفا نہ کر سکے اور شاید جون ایلیا نے اسی موقع کے لئیے شعر کہا تھا 

کون سُود و زیاں کی دنیا میں

دردِ غربت کا ساتھ دیتا ہے

جب مقابل ہوں عشق اور دولت 

حُسن دولت کا ساتھ دیتا ہے

اب خان صاحب کی الیکشن جیتنے کی خواہش میں اپنے کارکنوں کو نظر انداز کر کے دوسری جماعتوں کے الیکٹیبکلز کو ٹکٹ دے کر اپنے لئیے ایک بحران پیدا کر لیا اور اسی وجہ سےاپنے ہی گھر میں محصور ہو کر رہ گے ہیں۔ لاہور کے ایک پراپرٹی ٹائیکون نے2012 تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی اور انتہائی کم وقت میں عمران خان کے سامنے اپنی جگہ بنا لی کیونکہ عمران خان کا قرب حاصل کرنے کے لیے جو لوازمات چاہیے ہوتے ہیں وہ موصوف کے پاس کثرت سے موجود ہیں، جہانگیر ترین کے بعد اگر کسی کو پارٹی میں اعلیٰ اور ارفع مقام حاصل ہے تو وہ یہی صاحب ہے کیونکہ جب پیسا بولتا ہے کڑوی حقیقتوں میں بھی رس گھول دیتا ہے ۔ ان کے پیسوں کی چمک نے خان صاحب کی انکھوں کو چندھیا دیا اور میرٹ اور اخلاقیات انصاف اور برابری کی بات کرنے والے کو زہر کے پیالے میں ایسا دودھ پلایا کہ وہ رام ہو گئے ہیں ،حضرت علیؓ نے فرمایا تھاکہ ’’ جب بھی اللہ سے دعا مانگو مقدر مانگو کیونکہ میں نے بہت عقل والوں کو مقدر والوں کے در پر دیکھا ہے ‘‘مگر لگتا ہے ان صاحب کو قسمت اور خوش بختی دونوں عطا کر دی گئیں ہیں کہ ا تنے مختصر وقت میں سب نظریاتی کارکنوں کو روندھتے ہوئے اپنے 249ٹیلنٹ . کے بل بوتے پر خان کے اوپننگ بلے باز بن گئے مگر المیہ یہ ہے آج تحریک انصاف کے کارکنان جو تبدیلی انصاف اور میرٹ کے لیے خان صاحب کے ساتھ چلے تھے آج وہ خود اس تبدیلی کے چکر میں خوار ہو رہے ہیں اور پچھلے کئی دنوں سے بنی گالہ کے باہر دھرنا دئیے بیٹھے ہیں،گوکہ عمران خان نے انہیں طفل تسلی دے کر رام کرنے کی کوشش کی ہے اور کہا ہے کہ وہ یہ انتخابات جیتنے کے لئے لڑ رہے ہیں   تاہم عمران خان جس نے ہمیشہ روایتی سیاستدانوں کی مخالفت کی آج حکومت حاصل کرنے کی خاطر انہی روایتی سیاستدانوں کی زلف کے اسیر ہوئے بیٹھے ہیں، خان کی اس پالیسی پر میر کا شعر یاد آتا ہے 

میر کیا سادہ ہیں بیمار ہوئے جس کے سبب 

اسی عطار کے لونڈے سے دوا لیتے ہیں 

22سال پہلے خان نے جس جدوجہد کا آغاز کیا اور انصاف اور میرٹ پر مبنی جس معاشرے کا خواب اس ملک نوجوانوں اور عوام کو دکھایا اور جس صاف اور شفاف لیڈر شپ کی عمران خان دہائیاں دیتے رہے اس کا اختتام اُن لوگوں پر ہوا جن کے اپنے ہاتھ کرپشن، آف شور کمپنیوں اور لوگوں سے فراڈ میں رنگے ہوئے ہیں۔۔پانامہ کے ایشو پر عمران خان جن کی زبان نوازشریف پر تنقید کرتے ہوئے تھکتی نہیں انہیں اپنے حواری کی افشور کمپنی HEXAM INVESTMENT OVERSEAS LIMTEDنظرکیوں نہیں آتی ؟ن لیگ کی کرپشن کا واویلہ کرنے والے کوبیچارے پنشنرز کے دکھ کیوں نظر نہیں آتے؟ جن کا پیسہ خان صاحب کا بلے بازکھا گیا۔ باسٹھ تریسٹھ کی بات کرنیو الے کو اپنے حواری کے ہاوسنگ سوسائٹی کے گھپلے کیوں نظر نہیں آتے؟،نظر آئینگے بھی کیسے ؟جب سامنے پرائیویٹ جیٹ کھڑا ہو اور آپ کے جلسوں سے لے کر آپ کے ذاتی اخراجات کوئی اٹھا رہا ہو تو پھر زبانیں گنگ ہو جاتیں ہیں اور لفظ لبوں پر رک جاتے ہیں ۔آج تحریک انصاف کے نظریاتی کارکن جو نئے پاکستان کا خواب آنکھوں میں سجائے بیٹھے تھے وہ ٹکٹوں کی بندر بانٹ پر سراپا احتجاج ہیں ،یہاں تک الزام لگ رہے ہیں کہ ٹکٹوں کے عوض کروڑوں روپے اور چمچاتی لینڈ کروزر کے تحفے لیے جا رہے ہیں اور نظریاتی کارکن جو ایک عرصہ سے تحریک انصاف کے لیے جد وجہد کر رہے ہیں انہیں یکسر نظر انداز کیا جا رہا ہے ۔ابھی جب میں یہ تحریر  لکھ رہا تھا تو خبر آ رہی تھی کہ نگران حکومت خان صاحب کے دوست پر مہربان ہو گئی جس منصوبے کو شہری انتظامیہ اور اسلام آباد ہائیکورٹ منسوخ کر چکے ہیں ،سی ڈی اے نے اس کی منظوری کرا کہ صاحب کو بڑا تحفہ دیا ہے، قسمت کی دیوی اتنی مہربان ہوتی کہ نگران حکومت آنے سے پہلے دن ہی سو فٹ سڑک تعمیر کرانے کی اجازت بھی مل گئی،۔۔کیوں زلفی بخاری کا نام ای سی ایل سے نکلوانے اور سوسائٹی کو اجازت والے واقعہ میں مماثلت نظر آتی ہے؟ لگتا ہے قدرت کے ساتھ ساتھ کچھ لوگ بھی خان کے قریبی لوگوں پر کچھ زیادہ ہی مہربان ہو رہے ہیں مگر سوال یہ ہے کہ اس کا رکن کا کیا بنے گا جو ایک نئے پاکستان کے لیے خان کے ساتھ کھڑا تھا کہ امیر اور غریب میں کوئی فرق نہیں ہو گا ؟جہاں میرٹ کی بالادستی ہو گی جہاں انصاف ہو گا۔ خان صاحب ان کو کیسے جواب دیں گے؟ کیا ضمیر ملامت نہیں کریگا کہ ایک طرف شریف خاندان جس کی کرپشن کے خلاف وہ برسرپیکار رہے مگر اپنی آستنیوں میں آفشور زدہ لوگ پال رہا ہے ،شاہ محمود قریشی اور جہانگیر ترین کے درمیان اسی مسئلے کو لے کر کئی بار تلخ کلامی بھی ہو چکی ہے مگر جہانگیر ترین نے جواب دیا وہ بہت زیادہ سرمایا لگا چکے ہیں اور میر اخیال ہے کہ یہ صاحب بھی پچھلے 6سالوں میں کافی سرمایہ لگا چکے ہیں ،اب تو پھل کھانے کا وقت ہے اورویسے یہ انصاف اور میرٹ کس چڑیا کا نام ہے؟؟ ۔۔

 نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں,ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -