دم مارو دم

دم مارو دم
دم مارو دم

  

پاکستان کرکٹ ٹیم کو و رلڈ کپ میں ان رہنے کے لیے اپنے باقی چاروں میچز میں کامیابی حاصل کرنا بہت ضروری ہے اس کے بعد پاکستان کے میچز کے علاوہ انڈیا اور نیوزی لینڈ کے تمام میچز ہارنے یا بارش سے متاثر ہونے کی دعا لگنا بھی شاید بہت ضروری ہو چکا ہے۔تب ہی قومی ٹیم کے اوسان بحال ہوں گے اور ٹیم سیمی فائنل میں رسائی کی حقدار بن سکتی ہے۔ ٹیم کی موجودہ صورتحال اس طرح ہے کہ ایک مرتے ہوئے مریض کو ہسپتال داخل کروایا جاتا ہے اور ڈاکٹر اس کی زندگی کے لیے اگلے 72 گھنٹے اہم قرار دے دیتے ہیں۔ معاملہ دعاؤں اور گھر والوں کی عظیم محنت و خدمت پر آکر رک جاتا ہے۔ بالکل اسی طرح قومی ٹیم کو بھی اس وقت دعاؤں اور محنت کی اشد ضرورت ہے جس کے لیے آجکل سوشل میڈیا پر اشتہارات یعنی ایسی پوسٹوں کا کام خدمت خلق کے ساتھ جاری و ساری ہے۔تمام قوم تو نہیں ہاں ایسے افراد جو اپنے وطن کی محبت سے سرشار نظر آتے ہیں وہ دعائیں ضرور کر رہے ہوں گے۔ڈاکٹروں کے مطابق جب کسی مریض کو 72 گھنٹے دیئے جاتے ہیں تو اس کا مطلب چار دن ہوتا ہے اور قومی ٹیم کے پاس بھی چار میچز یعنی چار دن ہی ہیں۔اب دیکھتے ہیں کہ قومی ٹیم کیسے اپنی کھوئی ہوئی سانسیں بحال کرتی ہے۔اور دوبارہ زندگی میں خوشیاں لاتی ہے اس کا اندازہ چار میچز کے بعد ہو جائے گا۔

کسی بھی ملک کے باسیوں کو اپنے دشمن ملک سے ہار قابل قبول نہیں ہوتی اور شاید پاکستان اور بھارت کی عوام کا المیہ بھی یہی ہے کہ ہمیں ایک دوسرے کے خلاف صرف جیت ہی پسند ہے۔لیکن دنیا جس سمت جا رہی ہے ہمیں ہار یا جیت کے بارے سوچنے کی بجائے ایک دوسرے کی جانب دوستی کے ہاتھ کو مضبوطی سے بڑھانے اور تھامنے کی ضرورت ہے اور اس کے لیے ہمارے ملک کے وزیر اعظم عمران خان نے ایک مرتبہ نہیں کئی مرتبہ ہاتھ بڑھایا لیکن دوسری جانب سے اس کار خیر کا کوئی مثبت جواب نہیں ملا۔خیر یہ تو ہمارے سیاسی نظام کا حصہ ہے۔لیکن ہم دونوں ممالک کو ایسی سپورٹس اور کلچرل پالیسی بنانے کی ضرورت ہے جس کے تحت ان دونوں شعبوں سے وابستہ افراد ہمارے مضبوط تعلقات کی وجہ بن سکیں۔

قومی ٹیم کے ساتھ ساتھ پی سی بی میں بھی تبدیلیوں کی باز گشت سنائی دے رہی ہے اور قومی ٹیم کی وطن آمد سے قبل ہی محسن حسن خان نے اپنا استعفیٰ چیئر مین پی سی بی احسان مانی کو بھیجا جو قبولیت کی سند اختیار کر چکا ہے جس کے بعد ان کے خالی عہدے پر وسیم خان نے اضافی چارج بھی سنبھال لیا ہے۔ اطلاعات یہ ہیں کہ وسیم خان نے ایک بار پھر قومی ٹیم کے ریٹائرڈ کھلاڑیوں سے ملکی کرکٹ کی بہتری کے لیے رابطے شروع کر دیئے ہیں جس کے بعد اگلے استعفوں کے انتظار کا وقت آچکا ہے۔ان میں انضمام الحق سمیت سلیکشن کمیٹی کے ممبران و کوچ مکی آرتھر اور ان کے دیگر سٹاف ممبران بھی نمایاں ہیں۔جبکہ قومی ٹیم میں ہونے والی تبدیلیوں کی جو باز گشت سنائی دے رہی ہے وہ کھلاڑیوں کے وطن آنے کے بعد دکھائی بھی دے گی جس کے لیے چیئرمین پی سی بی احسان مانی انگلینڈ پہنچ چکے ہیں اور اب ان کے آنے سے قبل ہی یہ اعلان ان کی انگلینڈ میں موجودگی کے دوران کر بھی دیا جائے کیونکہ ہو سکتا ہے کہ ان کے انگلینڈ جانے کا مقصد بھی قومی ٹیم کے کپتان سرفراز سے معاملات طے کرنے کے علاوہ آئی سی سی کی میٹنگ میں شرکت ہو۔اب جب کہ قومی ٹیم اور پی سی بی میں تبدیلی کی ہو اچل پڑی ہے تو پھر پانچ سال کے لیے ایسا جھاڑو پھرنا چاہیے جس کے بعد قومی ٹیم کو احساس ہو کہ کروڑوں کمانے اور عزت کی زندگی ان کے لیے اس سے بہتر ہے کہ وہ باہر بیٹھ کر قومی ٹیم میں واپسی کی امید لیے بیٹھے رہیں۔خیر کل قومی ٹیم کا افریقہ سے اہم میچ ہونے جا رہا ہے جس میں ان کھلاڑیوں کو موقع دینے میں کوئی حرج نہیں جو ابھی تک اس ایونٹ کا ایک میچ بھی نہیں کھیل سکے یا ایک میچ کھیلنے کے بعد اپنی باری کے انتظار میں ہیں۔ان میں حارث سہیل،حسنین اور آصف علی قابل ذکر ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -