”مرے مصر میں تو کعبہ میں دفناﺅ مرسی کو“

”مرے مصر میں تو کعبہ میں دفناﺅ مرسی کو“
”مرے مصر میں تو کعبہ میں دفناﺅ مرسی کو“

  


کرسی اسے مل چکی تھی۔ لیکن وہ کرسی پر بیٹھ کر خالی جھولنا ہرگز نہیں چاہتا تھا۔ وہ، وہاں بیٹھ کر قلم چلانا چاہتا تھا۔۔۔ وہ اپنے ہم وطنوں کی خاطر بڑے فیصلے کرنا چاہتا تھا۔ اور اس کے ذہن کا ایک بڑا فیصلہ یہ تھا کہ عقیدہ بہرطور وطن سے کہیں بڑا ہے۔ آدمی کی پہلی اور گہری وفا کا حقدار عقیدہ ہے۔ پھر کہیں وطن ہے۔ اور، وطن تو ہوتا ہی محض اس لئے ہے کہ لوگ خاص اپنے عقیدہ کے مطابق جی سکیں، اور اس کی عظمت و افادیت دنیا پر بخوبی واضح کر سکیں۔ پھر، اٹھئے! ہم اپنے عقیدہ کی برکت سے اتنی عظیم قوم بن کر جیئں کہ دنیا خود ہمارااحترام کرے۔ یہی دنیا ہمیں امام کہے ۔ پھر، یہ مقام تو ہمیں صرف ہمارے عقیدہ کے عین مطابق جیا کرنے سے حاصل ہو سکتا ہے۔ پس،موجودہ مکار اور جابر دنیا سے بچ بچا کر،دھیرے دھیرے، ہمیں اپنے عقیدہ کو اپنے ریاستی نظام میں ہر ہر جا حاوی کرتے جانا ہے۔ مگر، دنیا کی امامت حاصل کرنے کی راہ میں یہ پہلا سنگِ میل ہے۔ بالآخر، یہ سنگ میل ہمیں، مل جل کر، عبور کرنا ہی کرنا ہے۔ اور، اس دوران ہمیں ہر وہ حلال کام بھی بڑھ چڑھ کے کرتے جانا ہے کہ جوہمارے وطن کو مضبوط سے مضبوط بناتا جاتا ہے۔ ۔۔ المختصر، اس نے کچھ ایسا کہا ۔ کروڑوں لوگوں نے سنا اور صاد کیا۔۔۔ وہ الیکشن جیت گیا۔

سپرپاور کو دکھ ہوا۔ سپرپاور کا نقطہءنظر ہی یکسر مختلف ہے۔ اس کا نظریہ ہے کہ جو بھی ریاست زمین پر ہے، اور زمینی انسانوں کے لئے ہے، اور زمینی انسانوں ہی کے دم سے ہے، اس کے پیش نظر پھر اسی کرئہ آب وخاک پر انسان کی سلامتی اور فلاح کا تصور ہونا چاہئے۔ بڑے آسمان کی بڑی باتیں، دل کے بڑے جہان کے لئے چھوڑ دی جائیں، تو نسل انسانی کے حق میں یہی بہتر ہے۔ ۔۔ پھر، فرد کے سینہ میں دھڑکتا دل اپنے خالق سے جتنی بھی محبت کرنا چاہے، اس کا حق ہے۔اور کسی بھی دوسرے انسان کو ، اک ذرا بھی نقصان پہنچائے بغیر، فرد اپنے رب سے جتنی بھی قربت بنانا چاہے، جس طور بھی چاہے، اس کا عین حق ہے۔ بے شک! فرد ایک اپنی زندگی پر اپنا پورا اختیار رکھنے کا پورا حق رکھتا ہے۔ مگر، کوئی بھی فرد دوسروں کی زندگیوں پر اپنا اختیار قطعی نہیں رکھتا۔ پھر، کوئی سی ہو، ریاست کا یہی فریضہ ہے کہ وہ اس امر کو لازم بنائے کہ کوئی بھی فرد، گروہ وغیرہ کسی بھی نام کے سہارے دوسروں کی حیات پر قابض ہرگز نہ ہو پائے۔ اور، ریاست کا اٹل فرض ہے کہ وہ انسانی جسم اور دماغ کی سلامتی اور نشوونما کو یقینی بنائے قوانین وضح کرے، اور ان کے نفاذ کو بھی یقینی بنائے۔۔۔

اب دیکھا جائے تو اس عاشقِ عقیدہ کے اور سپرپاور کے خیالات میں بنیادی لحاظ ہی سے بہت فرق تھا۔ سپرپاور پھر اس کے خلاف ہو گئی۔ اور، خاص اس نکتہ پر، سپرپاور کی ہمنوا کئی ریاستیں اور بھی رہتی ہیں۔۔۔ پھر، فرد اپنا تعارف اس جہان میں کچھ بھی کرواتا رہے، ریاست کے نزدیک مگر اس کے ہر باشندہ کا پہلا اور حتمی تعارف انسان ہو، یہی معقول ترین صورت ہے۔ تو، کچھ ایسا سپرپاور کا خیال ہے ۔ دنیا کی کئی اور بڑی طاقتوں کی بھی یہی رائے ہے۔ ۔۔ اور، مذکورہ ہم خیال سب قوتیں سب سے زیادہ خائف ،اسلام کے پھلنے پھولنے کے غیرمعمولی امکانات سے رہتی ہیں۔ اور، اس لئے بھی، سپرپاور اور اس کے فکری حلیف ممالک پھر ”ہندوتوا“ یا ”اہم ترین، افضل ترین اور عظیم ترین تو یہود، بس!“ جیسے تصورات کو ابھی سرتاسر نظرانداز بھی کرتے جاتے ہیں۔ جیسے کسی نے طے کر رکھا ہو کہ اپنے مخالفین سے یکے بعد دیگرے ہی نمٹنا ہے۔ اور، سب سے پہلے، سب سے خطرناک سے نبٹنا ہے۔ اور، ان کے نزدیک خطرناک ترین تو وہی ہے جو دنیا بھر پر اپنی دھاک پہلے بھی بٹھا چکا ہے، اور آئندہ بھی کسی دور میں جو پھر اٹھ سکتا ہے۔۔۔

پھر ، بڑی قوتوں کے دیگر چھوٹے موٹے مفادات وغیرہ کی راہ میں کوئی روڑا ہونے سے ہٹ کر، صدر مرسی کی ایک بڑی ہی خطا غالباً یہی تھی کہ انہوں نے کھڑے ہو کر اپنے عقیدہ کی عظمت کی گھنٹی خوب ہی بجا دی تھی۔ سپرپاور کے کان بری طرح کھڑے ہو گئے۔ ۔۔ قصہ مختصر، صدر مرسی کی کرسی چھن گئی۔ ان کا کڑا وقت شروع ہو گیا۔ اور پہلے تو ان سے یہی کہا گیا کہ وہ سیاست سے کنارہ کش ہو جائیں، انہیں کچھ بھی نہیں کہا جائے گا۔ انہوں نے انکار کر دیا۔ ان سے پھر کہا گیا کہ وہ مصر چھوڑ جائیں اور صرف چند برس خاموشی اختیار کر لیں۔ صدر مرسی نے یہ سن کر بھی سر تسلیم خم نہ کیا۔۔۔گویا، مجبوراً ، انہیں معزول اور پھر معتوب کرنا پڑ گیا۔۔۔

اور، وہ انسانی بدن جو خوش وخرم رہتا تو پھر برسوں عشروں اور جی جاتا، وہی جسم اذیت و کرب کی شدت سے کچھ ہی سال میں مر بھی گیا۔ اپنے عقیدہ کا عاشق صادق وہ مرسی اس جہان خراب سے باعزت رخصت ہو بھی گیا۔۔۔ کہا یہ بھی جاتا ہے کہ انہیں شہید کر دیا گیا۔ لیکن، بہرصورت ان کی وفاداری اور استواری اپنی جگہ ایک مثال تو ہے۔ پھر غیرمعمولی جینئس حضرت غالب تو اس برہمن کو بھی کعبہ میں گاڑنے کی تلقین کرتے ہیں کہ جس نے اپنی عمر بت خانہ میں گذار دی اور مرا بھی تو وہیں ۔ پھر، کوئی آج کہہ دے تو کیا حرج ہے کہ ہاں، مصر میں شہید ہو جانے والے محمد مرسی کو جنت البقیع میں دفن کیا جائے، تو یہ ان کا حق ہے! خیر، ”حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا“۔۔۔ اور، مصر میں سرائیکی یا پنجابی بولی جاتی تو آج کل ہر طرف یہی سنائی دیتا: ”مُرسی کدی نہ مَر سی!!!“

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں 

مزید : بلاگ