چینی کی قیمت کم کیسے ہو گی؟

چینی کی قیمت کم کیسے ہو گی؟

  

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے چینی بحران میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کا آغاز کر دیا ہے،شوگر انکوائری کمیشن کی رپورٹ کا معاملہ منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا،چینی سمیت کسی بھی شعبے میں موجود مافیاز کو نہیں چھوڑیں گے،اُنہیں بے نقاب کر کے اُن کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے گا، قوم سے کچھ نہیں چھپایا جائے گا، سچ سے آگاہ کرنے کا وعدہ پورا کریں گے، کسی کو غریب عوام کو نقصان پہنچا کر پیسہ بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔اُن کا کہنا تھا کہ عوام معاملہ دب جانے کی باتوں پر دھیان نہ دیں،پی ٹی آئی کی کور کمیٹی کے اجلاس میں وزیراعظم نے پنجاب اور خیبرپختونخوا کے وزرائے اعلیٰ کو ہدایت کی کہ ذخیرہ اندوزی میں ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے، ان سے کوئی رعایت نہ برتی جائے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے بھی وہ حکم ِ امتناع ختم کر دیا ہے، جو آل پاکستان شوگر ملزایسوسی ایشن کی درخواست پر جاری کیا گیا تھا۔

جب سے شوگر کمیشن کی رپورٹ منظر عام پرآئی ہے اس پر طرح طرح کے تبصرے ہو رہے ہیں،حکومتی حلقے اس کا کریڈٹ لینے کی ایسے کوشش کر رہے ہیں جیسے انہوں نے چینی کی دو سال پہلے والی قیمتیں بحال کر دی ہوں،جب مارکیٹ میں اس کے نرخ55روپے فی کلو تھے، پھر حکومت نے 11لاکھ ٹن(10لاکھ + ایک لاکھ ٹن) برآمد کرنے کی اجازت دے دی، سرکاری عہدیدار کہتے ہیں کہ اُس وقت چینی وافر تھی اور مُلک کو زرمبادلہ کی بھی ضرورت تھی، چنانچہ پہلے دس لاکھ ٹن چینی برآمد کرنے کا فیصلہ ہوا پھر مزید ایک لاکھ کی اجازت دے دی گئی، جن ملوں نے یہ چینی برآمد کی اُنہیں پنجاب کی حکومت نے سبسڈی بھی دی، یہ سارے کام درجہ بدرجہ متعلقہ اداروں کی منظوری سے ہوئے،چینی برآمد کرنے کی حتمی اور آخری منظوری وفاقی کابینہ نے دی،جس کی صدارت وزیراعظم عمران خان خود کر رہے تھے،آج بھی رزاق داؤد کہتے ہیں کہ چینی برآمد کرنے کا فیصلہ درست تھا، ہم نے چین کے دورے میں وہاں کی حکومت سے درخواست کی تھی کہ زرمبادلہ کے ذخائر بڑھانے کے لئے چین کی حکومت بھی ایسا ہی پیکیج دے جیسا کہ سعودی عرب اور یو اے ای نے دیا تھا،لیکن چین نے کہا کہ وہ ایسا نہیں کر سکتے۔ البتہ آپ ہمیں چینی، چاول وغیرہ برآمد کر دیں آپ کو زرمبادلہ حاصل ہو جائے گا۔یہ بتانے کے بعد جناب رزاق داؤد کہتے ہیں کہ ہم نے چینی برآمد کرنے کا درست فیصلہ کیا، چینی برآمد ہو گئی، مُلک کو وہ زرمبادلہ بھی حاصل ہو گیا جس کی اشد ضرورت تھی، برآمد کرنے والوں نے ضابطے کے مطابق سبسڈی بھی لے لی، جو پنجاب حکومت نے دی۔ یہ سارے کام قانون کے اندر رہ کر متعلقہ حکام اور حکومتوں کی اجازت سے کئے گئے۔

چینی برآمد ہونے کے بعد کیا ہوا؟ خرابی کا آغاز اُس وقت ہوا جب طویل عرصے سے 55روپے کلو بکنے والی چینی یکایک71روپے کلو تک پہنچ گئی، قیمتوں میں یہ اضافہ کیوں ہوا؟بظاہر تو قیمتیں بڑھانے میں چینی بنانے والوں کا کردار دکھائی دیتا ہے،لیکن اس میں مارکیٹ فورسز کا بھی فطری حصہ تھا،جس کا بنیادی اصول یہ ہے کہ جس چیز کی قلت ہو اس کی قیمت بڑھنا شروع ہو جاتی ہے،جب قیمتیں بڑھ گئیں اور اضافے کا رجحان بھی جاری رہا تو سارا بوجھ عوام نے برداشت کیا اور قہردرویش برجانِ درویش کے مصداق وہ اب تک مہنگی چینی خریدنے پر مجبور ہیں، جو ہوتے ہوتے 90روپے کے لگ بھگ فروخت ہو رہی ہے،پیکٹوں میں بند جو برانڈڈ چینی بِک رہی ہے اس کی قیمتیں اس سے بھی زیادہ ہیں جب سے شوگر کمیشن کی رپورٹ آئی ہے، دعوے تو یہی کئے جا رہے ہیں کہ اب چینی سستی ہو گی،لیکن تاحال یہ کرشمہ نمودار نہیں ہوا، بس ایک گردان ہے کہ جاری ہے ”عوام کو لوٹنے کی اجازت نہیں دیں گے“کچھ معلوم نہیں اس طرح کا سلوک کب تک جاری رہے گا۔ رمضان میں یوٹیلٹی سٹورز نے حکومت سے سبسڈی لے کر مارکیٹ سے مہنگی چینی خریدی اور عوام کو کم نرخوں پر فراہم کی، لیکن یوٹیلٹی سٹورز سے کتنے لوگ خریداری کرتے ہیں اور یہ سٹورز کتنی آبادی کی دسترس میں ہیں یہ سوال اگر نظر انداز بھی کر دیا جائے تو بھی ان سٹورز پر اکثر چینی دستیاب ہی نہیں ہوتی یہ کون خرید لے جاتا ہے سب جانتے ہیں،جن دِنوں اسلام آباد ہائی کورٹ نے مشروط حکم ِ امتناع جاری کر کے مل مالکان کو ہدایت کی تھی کہ وہ70روپے کلو چینی فروخت کریں، اُن دِنوں بعض ملوں کے گیٹ پر فیئر پرائس شاپس میں اس نرخ پر چینی بکتی رہی، ملیں عموماً شہروں سے دور ہی واقع ہیں اب کون عقل مند ہو گا جو فیئر پرائس سے سستی چینی خریدنے کے لئے پہلے وقت نکال کر مل پر پہنچے،آنے جانے کا کرایہ وغیرہ شامل کر لیں تو یہ سستی چینی بھی مہنگی ہی پڑے گی،اصل ضرورت تو یہ ہے کہ مارکیٹ میں مقررہ نرخوں پر چینی کھلے عام دستیاب ہو، جب تک ایسا نہیں ہو گا عوام کی حمایت میں کھوکھلے اور بے روح بیانات سے کچھ حاصل نہ ہو گا،پریس کانفرنسیں اور میڈیا شوز کسی کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے، قیمتیں اُس وقت کم ہوں گی،جب مارکیٹ میں سپلائی ضرورت کے مطابق ہو گی،تب اگر کوئی مہنگی چینی فروخت کرے گا تو اس کے خلاف قانونی کارروائی کرنا ہو گی،لیکن اب تک ایسا نہیں ہوا مہنگی چینی کی فروخت اور بیان بازی کے درمیان ریس لگی ہوئی ہے۔ یہاں یہ بتانا بے محل نہیں ہو گا کہ مسلم لیگ(ن) کے پورے پانچ سالہ دور میں چینی کی قیمت صرف دو روپے بڑھی، جب اس کی حکومت کا آغاز ہوا تو یہ قیمت53روپے کلو تھی، جب یہ حکومت (31مئی2018ء) رخصت ہوئی تو چینی55روپے کلو بک رہی تھی، آج جو نرخ ہیں اس کا تفصیلی تذکرہ اوپر کی سطور میں ہو چکا ہے،اِس لئے اگر حکومت نے چینی کی قلت پیدا کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا آغاز کر دیا ہے تو پتہ چلنا چاہئے کہ کیا اور کس قسم کی کارروائی ہو رہی ہے،کارروائی تو جو بھی ہو گی، ہوتی رہے گی،لیکن عوام کو ریلیف فوری ملنا چاہئے اور یہ اسی صورت ملے گا جب اُنہیں سستی چینی محلے کی دکانوں پر آسانی سے دستیاب ہو گی۔ دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ حکومت چینی کی قیمت مقرر ہی نہیں کرتی، وہ صرف کاشتکاروں سے خریدے جانے والے گنے کی قیمت طے کرتی ہے۔ سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ جب کوئی قیمت مقرر نہیں کی جاتی تو پھر طرح طرح کے نعرے لگا کر عوام کا پیٹ بھرنے کی کوشش کیوں ہوتی ہے۔

مزید :

رائے -اداریہ -