آرزو ساحل کی مجھ طوفان کے مارے کوہے

آرزو ساحل کی مجھ طوفان کے مارے کوہے
آرزو ساحل کی مجھ طوفان کے مارے کوہے

  

اللہ اکبر!وقت کتنی تیزی سے گزرتا ہے۔ لگتا ہے ابھی کل ہی کی بات ہے لیکن اس کو آج 21برس گزر چکے ہیں …… میں اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد 5مارچ1999ء کو راولپنڈی سے لاہور شفٹ ہوا۔ خیال تھا کہ فکرِ معاش سے تو یک گو نہ آزاد ہوں، خود کو مصروف رکھنے کے لئے کوئی چھوٹا موٹا کاروبار کر لوں گا۔ بچوں کی شادیوں وغیرہ سے فراغت حاصل ہو چکی تھی اور الحمد اللہ سر پر کوئی اضافی مالی بوجھ نہیں تھا۔ چنانچہ ظہور الٰہی روڈ پر ایک اچھی سی بلڈنگ کا سروے کیا اور سوچا کہ ا یک متوسط لیول کا پرائیویٹ سکول شروع کیا جائے۔ دو اور دوست بھی جو میرے ساتھ ہی ریٹائر ہوئے تھے انہوں نے بھی اس منصوبے میں دلچسپی ظاہر کی۔

مجھے 1980-82ء میں برن ہال سکول ایبٹ آباد میں سروس کا دو سالہ تجربہ تھا۔ یہ سکول اس وقت (اور آج بھی) ملک کے چند معروف اقامتی تعلیمی و تدریسی اداروں میں شمار ہوتا تھا۔ اس کا انتظام و انصرام پاک آرمی چلاتی تھی اور ایک حاضر سروس بریگیڈیئر اس کے پرنسپل تھے۔ تدریس اور بورڈنگ ہاؤسز وغیرہ کا عملہ95%خواتین پر مشتمل تھا۔ اس کا بجٹ کروڑوں میں تھا۔ ڈائریکٹر آرمی ایجوکیشن اس کے چیف پیٹرن تھے۔ اس کے دو حصے تھے …… ایک نرسری سے کلاس ششم تک اور دوسرا کلاس ہفتم سے انٹرمیڈیٹ تک جو برن ہال کالج کہلاتا تھا۔ دونوں مانسہرہ روڈ پر تھے اور ان کا درمیان فاصلہ سات آٹھ کلو میٹر تھا۔

میں 1980ء میں کھاریاں میں 6آرمرڈڈویژن ہیڈ کوارٹر میں بطور GSO-2 (ایجوکیشن) تعینات تھا۔ ایک دن کرنل سٹاف (کرنل باسط) نے دفتر میں بلایا اور کہا کہ آپ کی پوسٹنگ ایبٹ آباد میں ہو گئی ہے۔ میں نے کہا:”سر!میں تو پہلے بھی وہاں فرنٹیئر فورس رجمنٹ سنٹر میں دو سال نوکری کر آیا ہوں۔ دوبارہ نجانے کیوں بھیجا جا رہا ہے۔“……

انہوں نے جواب دیا:”یہ پوسٹنگ نیم عسکری نوعیت کی ہے…… اس میں 25%اضافی تنخواہ ملے گی۔آپ کے بچوں کی تعلیم مفت ہو گی…… ہے تو یہ تدریسی ادارہ، لیکن تمہاری پوسٹنگ انتظامی امور کی دیکھ بھال کے لئے کی گئی ہے۔”پڑھانے والیاں“ کافی لکھی پڑھی ہیں اور بیرونی ممالک سے تدریسی ڈگریاں بھی لے رکھی ہیں۔ سکول کی ٹرانسپورٹ کئی چھوٹی بڑی گاڑیوں پر مشتمل ہے۔ بچوں کے کھانے کے لئے تین ڈائننگ ہال ہیں۔ انتظامی عملہ تقریباً ایک سو سے زائد مردوں اور خواتین پر مشتمل ہے۔ کام چونکہ زیادہ تھا اس لئے جی ایچ کیو نے ایک اور وردی پوش آفیسر بھی یہاں تعینات کر دیا ہے اور قرعہ فال تمہارے نام نکلا ہے۔ ایک ہفتے کے اندر اندر تم کو وہاں رپورٹ کرنا ہے۔“……

کرنل سٹاف کی یہ بریفنگ بعض ابتدائی معلومات کی حدود تک محدود تھی۔ لیکن جب میں سکول میں پہنچا اور کام کاج کا جائزہ لیا تو یہ ایک خاصا Up-hillٹاسک تھا۔ میری رہائش گاہ بھی سکول کے احاطے میں تھی۔ میں نے اس برن ہال سکول میں دو برس گزارے اور جون1982ء میں یہاں سے پوسٹ آڈٹ ہو کر 16انفنٹری ڈویژن، کوئٹہ چلا گیا۔ سکول کا یہ انتظامی تجربہ بعد میں فوجی یونٹوں اور فارمیشنوں میں میرے بڑے کام آیا۔ میں نے کئی بار ڈویژن ہیڈ کوارٹرز میں بطور او سی(آفیسر کمانڈنگ) ہیڈ کوارٹر کمپنی اضافی خدمات انجام دیں۔ میرے سینئرز میرے انتظامی تجربات سے کافی متاثر بھی تھے اور خوش بھی!

یہ تفصیل اس لئے لکھی ہے کہ یہ بتاؤں کہ مجھے اوائل 1999ء میں بعد از ریٹائرمنٹ لاہور میں برن ہال سکول کی سطح کا وہ پرائیویٹ سکول کھولنے کا شوق کیوں چرایا جس کا ذکر اوپر کر آیا ہوں۔

پھر ایک دن برادرم مجیب الرحمٰن شامی کافون آیا۔ روزنامہ ”پاکستان“ انہوں نے حال ہی میں ”خریدا“ تھا (مجھے معلوم نہیں کہ اسے خرید کا نام دوں یا حوالگی یا سپردگی یا تبدیلی ملکیت کہوں)……مجھے کہنے لگے: ”کرنل صاحب! میں نے اس اخبار کی باگ ڈور چند ہفتے قبل سنبھالی ہے۔ دفاعی امور پر آپ کا کالم جو روزنامہ ”جنگ“ میں چھپتا تھا اس کا قاری ہوں۔ آپ اب راولپنڈی سے لاہور منتقل ہو چکے ہیں۔ ……کیا میرے اخبار کو جوائن کرینگے؟“

اس طرح 13اپریل 1999ء میں میرا پہلا کالم روزنامہ ”پاکستان“ میں شائع ہوا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ اگر8صفحات پر مشتمل ہفتہ واری دفاعی میگزین بھی شروع کر دیں تو قارئین کو دفاعی امور پر جانکاری حاصل کرنے میں مد د ملے گی ………… میں نے حامی بھر لی …… لیکن اس اخبار کے سارے عملے میں کوئی دوسرا صحافی ایسا نہ تھا جو دفاعی امور کا کوئی شعور رکھتا ہو اور مجھ اکیلے کے لئے کالم نگاری اور دفاعی میگزین کی ادارت ایک طرح کا بوجھ بن گئی۔ چھ ماہ تک تو یہ سلسلہ چلتا رہا لیکن بعد میں اسے بند کر دیا گیا۔ اس ”آغاز و انجام“ کی دو وجوہات تھیں …… مجھے اخبار جوائن کئے ابھی ایک مہینہ ہی گزرا تھا کہ کارگل کی جنگ شروع ہو گئی۔6یا7مئی 1999ء کو خبر آئی کہ ”مجاہدین“ نے کارگل کے عقب میں واقع ایک بڑے ایمونیشن ڈپو کو اڑا دیا ہے۔………… اس کے بعد مجاہدین کی کامیابیوں اور انڈین ٹروپس کی ناکامیوں کی خبریں بڑے تواتر سے آنے لگیں۔ فارن میڈیا بھی بڑا سرگرم ہو گیا یوں معلوم ہوتا تھا کہ یا تو بھارت ستمبر 1965ء کی طرح بین الاقوامی سرحد پار کر کے واہگہ کے راستے پاکستان پر حملہ کر دے گا، یا سیالکوٹ محاذ یا جنوب میں سلیمانکی محاذ پر وہی آپریشنز دہرائے جائیں گے جو وسط ستمبر 1965ء میں بروئے عمل لائے گئے تھے۔ لیکن ایسا کچھ بھی نہ ہوا۔ انڈیا نے لائن آف کنٹرول پر بہت سرمارا لیکن مجاہدین کو کارگل، دراس اور بٹالک کی بلندیوں سے بے دخل نہ کر سکا۔

مجاہدین (پاک آرمی) کو پے بہ پے کامیابیاں مل رہی تھیں۔ ان دنوں مرحوم ذوالقرنین میرے کولیگ تھے اور روزنامہ ”پاکستان“ کا اداریہ لکھا کرتے تھے۔ ایک دن وہ میرے پاس آئے اور پوچھا:

”کرنل صاحب! اس جنگ کا کیا انجام ہو گا؟“

”بہت جلد مجاہدین کو واپس آنا پڑے گا۔“ میرا جواب تھا۔

ذوالقرنین یہ جواب سن کر حیران ہوئے اور کہا:”دونوں ملکوں نے ایک برس پہلے جوہری بموں کے تجربے کئے ہیں۔ کیا پاکستان کارگل سے اتر کر سری نگر کا رخ نہیں کرے گا؟“…… میرا جواب نفی میں تھا…… میں نے کہا تھا: ”جب تک امریکہ، انڈیا کے ساتھ ہے اور وہ مسئلہ کشمیر، پاکستانی امنگوں کے مطابق حل کرنے کا حامی نہیں، تب تک کشمیر کا کوئی فیصلہ نہیں ہو سکتا۔“

بعد میں کئی بار ذوالقرنین مرحوم دوستوں سے میری اس پیشگوئی کا ذکر کر کے مجھے زیر باراحسان کیا کرتے تھے۔ آج وہ زندہ ہوتے اور پوچھتے کہ:”کرنل صاحب! لداخ میں 20انڈین ٹروپس کی ہلاکت کے بعد کیا انڈو، چائنا وار ہو گی اور کیا پاکستان، مسئلہ کشمیر پر اپنے موقف کے مطابق کوئی فیصلہ کروا سکے گا؟‘………… تو میرا جواب ہوتا”بالکل نہیں!“ اور اس کا سبب بھی وہی ہوتا جو 1999ء میں کارگل کی وار میں پاکستان کا پلہ بھاری ہونے کے تناظر میں تھا۔ آج بظاہر لداخ کی اس جھڑپ میں چین کا پلہ بھاری ہے لیکن جب تک امریکہ بھارت کی پشت پر ہے، بھارت مار کھا کر بھی شکست تسلیم نہیں کرے گا اور ایل او سی پر اس کی درازدستیاں جوں کی توں جاری رہیں گی!

ایسا کیوں ہو گا، انڈو- چائنا اور انڈو- پاک سٹرٹیجک بیلنس کیا ہے، آیا دو جوہری ممالک جن کی سرحد آپ میں ملتی ہو کسی ٹیکٹیکل بیٹل کا رسک لے سکتے ہیں،26فروری 2019ء کو انڈیا نے ایل او سی عبور کر کے پاکستانی علاقے پر فضائی حملہ کیوں کیا تھا اور اگلے روز 27فروری 2019ء کو دن دہاڑے ایل او سی کراس کیوں کی تھی، پاکستان اور بھارت کا وار سٹیمنا (War Stamina) کتنے روز کا ہے، دو دن پہلے وادی گلوان پر قبضہ کر کے چین نے CPECکو کتنا محفوظ بنایا ہے، چین کی سمندری آرٹری (Artery) براستہ آبنائے ملاکا، زیر خطر لانے کا پلان کس کا ہے، اگر CPECکو دولت بیگ اولدی کے فضائی اور زمینی مستقر سے بلاک کرنے کا منصوبہ تھا تو وہ کیا تھا، کیا انڈیا کا تھا یا کسی اور سپریر پاور کا، اب وادی گلوان پر چینی قبضے کے بعد کیا لیہ - دولت بیگ روڈ قابل استعمال (Sustainable)رہے گی، بھارت اب دولت بیگ مستقر سے اپنا بوریا بستر سمیٹ کر کہاں جائے گا، کیا چین وادی گلوان سے اٹھ کر درہ قراقرم کی راہ سیاچن گلیشیئر کی فضائیں مسدود کر سکے گا۔ دوسری طرف کیا بھارت گلگت، بلتستان کو متنازعہ علاقہ قرار دے کر CPECکو زیر خطر لا سکے گا، کیا چین، نیپال کے ساتھ مل کر انڈیا کو اس ٹرٹیجک اہمیت والی سڑک سے محروم کر دے گا جو نیپال کے علاقے میں ہے؟…… اور قارئین گرامی! ان کے علاوہ اور ایسے کون کون سے موضوعات ہیں جن پر ہمارے میڈیا کو پاکستانی پبلک کو بریف کرتے رہنا چاہئے؟ کیا آپ نے آج تک کسی معروف نیوز چینل پر کسی ریٹائرڈ پاکستانی جنرل کو ”نمودار“ ہو کر درج بالا امور و نکات پر کوئی سیر حاصل گفتگو کرتے سنا ہے؟ ہم ہر روز ٹی وی کے پرائم ٹائم میں ایسی سیاسی بحثیں کر کے اپنا وقت ضائع کرتے رہتے ہیں جن کا کوئی براہ راست فائدہ نہیں۔ ہماری محترم عدلیہ بھی ہر روز ایسے موضوعات پر کھلم کھلا تبصرے کرتی ہے جو زیرِ قالین رہنے چاہئیں۔ میڈیا کو عدالتی کارروائی دیکھنے اور سننے کی اجازت نہیں ہونی چاہئے۔

(یہ میرا ذاتی خیال ہے اس کے برعکس ایسے سامعین و ناظرین بھی ہوں گے جو مجھ سے اتفاق نہیں کریں گے۔)

میں تو یہاں تک بھی جاؤں گا کہ کسی خدا کے بندے سائل (Applicant) کو یہ درخواست بھی ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ میں دائر کرنی چاہئے کہ اگر کل کلاں بھارت، پاکستان پر حملہ کر دیتا ہے تو پاکستان کا دفاعی (یا جوابی) وار کیا ہو گا اس پر کھلی بحث کی جائے۔ اگر ان دنوں حکومت کے بہت سے راز طشت از بام ہو رہے ہیں تو کیا جی ایچ کیو کے ملٹری آپریشنز ڈائریکٹوریٹ میں ”حملہ اور دفاع“ پر جو خفیہ پلان بنائے گئے ہیں ان کے حسن و قبح پر بحث نہیں ہو سکتی؟……اور اگر یہ دفاعی راز (ِSecrets) پردۂ اخفا میں رکھے جاتے ہیں تو وہ غیر دفاعی راز بھی پوشیدہ کیوں نہیں رکھے جا سکے جن کی بنیاد پر حکومتیں گرائی اور قائم رکھی جاتی ہیں؟…… آپ دیکھتے رہیئے ایک دن وہ بھی آئے گا جب کچھ بھی پوشیدہ نہیں رہے گا …… ہمارے اٹیک اور ڈیفنس پلان آخر ورطہء تحریر میں تو لائے جاتے ہیں۔ یہ تحریر (یا تحریریں بھی) ہرگز پوشیدہ نہیں رہتیں ان کو قفل در قفل مقفل کیا جائے تو پھر بھی ان قفلوں کی کشاد آج نہیں تو آنے والے کل میں ایک حقیقت بن جائے گی!

مزید :

رائے -کالم -