رواں سال 10فیصد زیادہ بارشیں متوقع، سیلاب، ٹڈی دل کاخطرہ بڑھ جائیگا؛ این ڈی ایم اے

رواں سال 10فیصد زیادہ بارشیں متوقع، سیلاب، ٹڈی دل کاخطرہ بڑھ جائیگا؛ این ڈی ...

  

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے متنبہ کیا ہے کہ آئندہ مون سون کے سیزن میں ملک کو تین بڑے خطرات درپیش ہیں جن میں تمام بڑے شہروں میں سیلاب، پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ اور گلیشیئرز پھٹنے اور بارش کے دوران ٹڈیوں کے جاری حملے مزید سنگین ہونے کا خدشہ شامل ہے۔ جمعہ کے روز مون سون سے قبل کی تیاری کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے این ڈی ایم اے کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل محمد افضل نے کہا کہ متوقع بارشوں کی وجہ سے بڑے شہروں میں واٹر کورسز اور نالوں کو فوری طور پر صاف کرنا چاہئے۔تمام بڑے شہروں کو سیلاب کا خطرہ ہے اور میں کراچی میں حکام سے درخواست کروں گا کہ وہ تمام نالوں کی صفائی کریں جبکہ سکھر، حیدرآباد، گوجرانوالہ، راولپنڈی، لاہور، جہلم اور نوشہرہ کو بھی مقامی حکام کی فوری توجہ کی ضرورت ہے۔اجلاس میں این ڈی ایم اے کے ذریعہ تیار کردہ قومی ہنگامی منصوبہ 2020 پیش کیا گیا جس میں متعلقہ وفاقی اور صوبائی اداروں کے تمام عہدیداروں اور آفات سے نمٹنے کے شعبے میں کام کرنے والی اقوام متحدہ کی ایجنسیوں، این جی اوز اور آئی این جی اوز کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ ہر سال مون سون کے موسم میں سیلاب کا خطرہ رہتا ہے جو عام طور پر ملک کے اندر جون کے آخر میں شروع ہوتا ہے اور ستمبر تک جاری رہتا ہے۔این ڈی ایم اے کے چیئرمین نے گزشتہ سال کراچی میں آنے والے سیلاب کا حوالہ دیا اور ان چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے تمام شہروں کے خطرناک علاقوں کے نقشے کی تیاریوں کا مطالبہ کیا۔انہوں نے کہا کہ ہمیں روایتی تیاریوں کے ساتھ ساتھ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے۔این ڈی ایم اے کا ہنگامی منصوبہ 2020 مقامی سطح پر تیاری کو یقینی بناتا ہے جس میں تیز بارش کے نتیجے میں ابتدائی انتباہی انتظامات اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داریاں شامل ہیں۔یہ منصوبہ متعلقہ تمام سرکاری اور غیر سرکاری اداروں سے مشاورت کے بعد تیار کیا گیا ہے۔ صوبائی ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹیز مکمل طور پر تیار ہوں گی اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مقامی حکام کے ساتھ رابطے میں رہیں گی۔اجلاس میں ملک بھر میں ٹڈی دل کے حملے میں شدت اور مون سون کے سیزن کے دیگر چیلنجز پر قابو پانے کے لیے ایک مربوط حکمت عملی کا مطالبہ کیا۔محکمہ موسمیات نے بتایا ہے کہ اس سال مون سون کی بارشیں پورے ملک میں معمول سے 10 فیصد زیادہ متوقع ہیں جبکہ سندھ اور کشمیر میں اس دوران عام بارشوں سے 20 فیصد زیادہ بارشوں کا امکان ہے۔جس کے نتیجے میں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں سیلاب کے زیادہ امکانات ہیں۔

این ڈی ایم اے

مزید :

صفحہ آخر -