کراچی میں کوروناسے تابوتوں کی طلب بڑھنے کی اطلاعات غلط

کراچی میں کوروناسے تابوتوں کی طلب بڑھنے کی اطلاعات غلط

  

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) شہر میں تابوت بنانے والوں نے کورونا کی وبا کی وجہ سے تابوتوں کی طلب بڑھنے کی اطلاعات کو غلط قرار دے دیا۔تفصیلات کے مطابق تابوت کے کاریگروں کا کہنا ہے کہ شہر میں تابوتوں کی طلب عام دنوں سے بھی کم ہوچکی ہے جس کی وجہ سے روزگار میں کمی کا سامنا ہے۔ عام دنوں میں 2 سے 3 تابوت یومیہ فروخت ہوتے ہیں اور مہینے میں 50 سے 60 تابوت فروخت ہوجاتے ہیں، 90 فیصد تابوت وہ لوگ خریدتے ہیں جنہیں اپنے پیاروں کی میتیں شہر سے باہر لے جانی ہوتی ہیں لیکن اب تابوت بنانے والوں کا کاروبار بھی ماند پڑچکا ہے، اس وقت 2 سے 4 روز میں کوئی ایک دو تابوت فروخت ہوجاتے ہیں اور ماہانہ فروخت 70 فیصد تک کم ہوچکی ہے۔کاریگروں کے مطابق ایک عام تابوت ایک سے ڈیڑھ گھنٹے میں تیار کرلیا جاتا ہے جو چار سے ساڑھے چار ہزار روپے میں فروخت ہوتا ہے، فینسی اور مضبوط لکڑی کا تابوت 12 سے 14 ہزار روپے میں فروخت کیا جاتا ہے ایسے تابوت زیادہ تر ملک سے باہر میتوں کو بھجوانے کے لیے استعمال ہوتے ہیں یا صاحب حیثیت مسیحی خاندان اپنے پیاروں کی آخری رسومات کے لیے فینسی تابوت استعمال کرتے ہیں۔

تابوت

مزید :

صفحہ آخر -