ایل اے سی پرتعینات بھارتی فوج کوآتشیں اسلحہ کے استعمال کی اجازت

  ایل اے سی پرتعینات بھارتی فوج کوآتشیں اسلحہ کے استعمال کی اجازت

  

نئی دلی(خصوصی رپورٹ)بھارتی میڈیا کے مطابق بھارتی فوج نے لداخ میں لائن آف ایکچول کنٹرول پرچین فوج کے ہاتھوں کے زبردست جانی نقصان اٹھانے کے بعدمخصوص علاقے میں فائر بندی کے قوانین کو یکطرفہ طور پر تبدیل کر تے ہوئے بھارتی فیلڈ کمانڈرز کو اختیاردیا ہے کہ وہ غیر معمولی حالات میں آتشیں اسلحے کا استعمال کر سکتے ہیں جبکہ اس سے قبل بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی کہا تھا کہ فوج کو زمینی صورتحال سے نمٹنے کے لئے پوری آزادی دی گئی ہے۔فائر بندی کے پچھلے قواعد کے تحت دونوں ممالک میں 1996 اور 2005 میں معاہدوں پر دستخط ہوئے تھے جس کے مطابق کسی بھی فریق کی جانب سے دوسری جانب فائرنگ نہیں کی جائے گی اور دھماکہ خیز مواد کا ستعمال نہیں کیا جائے گا۔ دونوں ممالک نے ایل اے سی کے اطراف دو کلومیٹر تک فائرنگ اور دھماکا خیز مواد یا آتشیں اسلحہ استعمال نہ کرنے پر اتفاق کیا تھا۔20 ہندوستانی فوجیوں کی ہلاکت کے واقعہ کے سبب بھارت بھر میں زبردست ہلچل مچ گئی جس پر اعلیٰ فوجی حکام نے دباؤ میں آ کر یکطرفہ طور پر فیصلہ کیا ہے کہ وہ غیر معمولی حالات میں آتشیں اسلحے کا استعمال کر یں گے۔ واضح رہے کہ ہندوستانی فوجیوں پر پوائنٹ 14 کے قریب لڑائی میں لوہے کی سلاخوں، کیل کانٹوں سے لیس ڈنڈوں سے حملہ کیا گیا تھا۔معاہدے میں یکطرفہ تبدیلی پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے چینی اخبار گلوبل ٹائمز نے ٹویٹ کیا کہ اگر یہ سچ ہے تو یہ معاہدے کی سنگین خلاف ورزی ہے،ایسی کسی بھی کارروائی کے جواب میں ہندوستان کو بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی۔

اسلحہ اجازت

مزید :

علاقائی -