وزیرستان میں دہشتگردی، کیپٹن اور جوان شہید، کنٹرول لائن پر فائرنگ، بچی شہید، بھارتی ناظم الامور کو طلب کر کے پاکستان کا احتجاج

وزیرستان میں دہشتگردی، کیپٹن اور جوان شہید، کنٹرول لائن پر فائرنگ، بچی ...

  

راولپنڈی (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) وزیرستان میں دہشتگردوں کے ساتھ فائرنگ تبادلے میں پاک فوج کا ایک کپتان اور جوان شہید، 2 سپاہی زخمی ہو گئے، جوابی فائرنگ میں ایک دہشت گرد بھی مارا گیا۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق شمالی اور جنوبی وزیرستان کی سرحد پر دہشتگردوں نے پاک فوج کی گشت کرنے والی ٹیم پر حملہ کر دیا، فائرنگ کی زد میں آکر کیپٹن صبیح اور نوید نامی جوان شہید ہو گئے جبکہ 2 سپاہی شدید زخمی ہوئے۔جوابی فائرنگ میں ایک حملہ آور دہشت گرد مارا گیا جبکہ فورسز نے دہشتگردوں کا ایک کمپاونڈ بھی تباہ کر دیا۔ واقعے کے بعد سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا جبکہ زخمی سپاہیوں کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔دوسری طرف پاکستان مسلم لیگ(ن)کے صدر اور قائد حزب اختلاف شہباز شریف، چیئرمین بلاول بھٹو اور دیگر قیادت نے جنوبی وزیرستان میں پاک فوج کے افسر اور جوان کی شہادت، دو جوانوں کے زخمی ہونے پر اظہار افسوس کرتے ہوئے جنوبی وزیرستان کے سرحدی علاقے گیروم کے قریب سیکیورٹی فورسز پر دہشت گردوں کی فائرنگ کی شدید مذمت کی اورپٹرولنگ پارٹی پر فائرنگ کے نتیجے میں کیپٹن صبیح اور سپاہی نوید کی شہادت پر متاثرہ خاندانوں سے اظہار ہمدردی کرتے ہوئے کہا کہ شہدا کی قربانیاں ناقابلِ فراموش ہیں اللہ تعالی شہدا کے درجات بلند فرمائے اور اہل خانہ کو صبر جمیل دے۔ آمین

دہشت گردی

مظفرآباد(مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) لائن آف کنٹرول پر بھارتی فوج کی بلااشتعال فائرنگ کے نتیجے میں ایک کمسن لڑکی جاں بحق جبکہ اس کی ماں اور ایک کمسن لڑکا زخمی ہو گیا۔ بھارتی شیلنگ صبح ساڑھے 10بجے شروع ہوئی اور شام 4بجے تک مستقل جاری رہی جس میں بھارتی فوج نے خورشید آباد سب ڈویڑن میں ہلانا، کالا ملا اور دیگر گاؤں کی آبادی کو بلاامتیاز نشانہ بنایا۔کالاملا میں ایک متاثرہ گھر میں 35سالہ خاتون زاہدہ شبیر زخمی اور 14سالہ کمسن لڑکی اقرا شبیر جاں بحق ہو گئی۔اسی گاؤں میں ایک 9سالہ لڑکا صدام بھی بھارتی فوج کی شیلنگ سے زخمی ہو گیا۔ ہلان گاؤں میں شیلنگ سے ایک گھر مکمل تباہ ہو گیا جبکہ ایک کو جزوی طور پر نقصان پہنچا البتہ مکانوں میں رہائش پذیر افراد کو زخمی ہونے سے بچا کر محفوظ مقام پر منتقل کردیا گیا ہے۔آزاد جموں و کشمیر کے وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر کا کہنا ہے کہ بھارتی فوج کی اشتعال انگیزی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے کیونکہ نئی دہلی میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت عالمی برادری کی توجہ لداخ کے علاقے میں چینی فوج کے ہاتھوں پہنچنے والی ہزیمت سے ہٹانا چاہتی ہے۔راجہ فاروق حیدر نے بھارتی فوج کی فائرنگ کے نتیجے میں کمسن لڑکی کی موت اور دو افراد کے زخمی ہونے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی فوج دونوں طرف کے کشمیریوں کو نشانہ بنا رہی ہے اور یہ اس بات کی متقاضی ہے کہ اقوام متحدہ اور عالمی برادری سنجیدگی سے اس بات کا نوٹس لے۔ترجمان پاک فوج کے مطابق پاکستان آرمی کی جانب سے بھی بھارتی اشتعال انگیزی کا بھر پور جواب دیا گیا۔

ایل او سی

اسلام آباد(آئی این پی) جنگ بندی کی خلاف ورزیوں پر پاکستان کابھارت سے شدید احتجاج، بھارتی ناظم الامور کی دفتر خارجہ طلبی تفصیلات کے مطابق ڈائریکٹرجنرل (جنوبی ایشیا و سارک)زاہد حفیظ چوہدری نے بھارتی ناظم الامور گوراو اہلووالیا کو دفتر خارجہ طلب کیا اور 20جون کو لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر بھارتی قابض فوج کی جنگ بندی کی خلاف ورزیوں، بلا اشتعال فائرنگ کے نتیجے میں ایک بے گناہ شہری کی شہادت اور دو کے زخمی ہونے پر پاکستان کی طرف سے شدید احتجاج کیا۔ بھارت پر زوردیا گیا کہ وہ 2003کے جنگ بندی سمجھوتے کا احترام کرے، تازہ ترین اور اس سے قبل ہونے والی جنگ بندی کی دانستہ خلاف ورزیوں کے واقعات کی تحقیقات کرائے، بھارت اقوام متحدہ کے فوجی مبصر گروپ برائے پاکستان اور بھارت کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق تفویض کردہ کردار ادا کرنے کی اجازت دے،بھارتی فوج کی بلااشتعال اور بلاامتیاز فائرنگ کے نتیجے میں ایل او سی کے حاجی پورہ اور بیدوری سیکٹرز میں 13 سالہ اقرا شبیر دختر شبیر احمد شہید ہوگئی جبکہ 32سالہ زاہدہ بانو زوجہ شبیر احمد اور 12 سالہ صدام رفیق ولد رفیق بٹ شدید زخمی ہوگئے تھے۔ تمام متاثرین گاؤں مانسر کے رہائشی ہیں۔ بھارتی قابض فوج ایل او سی اور ورکنگ باونڈری پر بھاری اور خودکارہتھیاروں اور گولہ باری سے مسلسل شہری آبادی کو نشانہ بنارہی ہے۔رواں سال بھارت نے جنگ بندی کی 1440 خلاف ورزیوں کا ارتکاب کیا جس کے نتیجے میں 13 بے گناہ شہری شہید اور 104 زخمی ہوگئے۔ بھارتی فوج کی جانب سے بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانے کی مذمت کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل(جنوبی ایشیاوسارک)نے زوردیا کہ بے حسی پر مبنی یہ بھارتی اقدامات نہ صرف 2003کے جنگ بندی معاہدے بلکہ عالمی انسانی حقوق اور عالمی اقدارکی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔

احتجاج

مزید :

صفحہ اول -