ماسک نہ پہننے پر جرمانے، قید کا فیصلہ، کورونا سے مزید 122افراد جاں بحق، وبا ء خطرناک مرحلے میں داخل ہو گئی، ڈبلیو ایچ او، وائرس سے جاں بحق ہونیوالے 75فیصد افراد پہلے ہی کسی بیماری میں مبتلا تھے: ظفر مرزا

        ماسک نہ پہننے پر جرمانے، قید کا فیصلہ، کورونا سے مزید 122افراد جاں بحق، ...

  

لاہور،اسلام آباد، پشاور، کراچی (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)ملک بھر میں کورونا سے مزید 122 افراد جاں بحق، 4901 نئے کیسز بھی سامنے آ گئے جس کے بعداموات کی مجموعی تعداد 3558 ہوگئی جب کہ نئے کیسز سامنے آنے کے بعد مریضوں کی تعداد 179602 تک پہنچ گئیاب تک پنجاب میں کورونا سے 1407 اور سندھ میں 1089 افراد انتقال کرچکے ہیں جب کہ خیبر پختونخوا میں 821 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔اس کے علاوہ بلوچستان میں 102، اسلام آباد میں 98، گلگت بلتستان میں 22 اور آزاد کشمیر میں مہلک وائرس سے 19 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔اتوار کو ملک بھر سے کورونا کے مزید 4901 کیسز اور 122 ہلاکتیں سامنے آ ئیں جن میں پنجاب سے 1523 کیسز اور 60 ہلاکتیں، سندھ میں 41 ہلاکتیں اور 2275 کیسز جب کہ خیبرپختونخوا سے 13 اموات اور 553 کیسز سامنے آئے۔اس کے علاوہ اسلام آباد سے 383 کیسز اور 3 ہلاکتیں اور بلوچستان سے 147 کیسز اور 2 ہلاکتیں جب کہ آزاد کشمیر سے 10 کیسز اور دو ہلاکتیں اور بگلگت بلتستان سے 10 کیسز اور ایک ہلاکت سامنے آئی ہے۔پنجاب سے کورونا کے مزید 1523 کیسز اور 60 ہلاکتیں سامنے ا?ئی ہیں جن کی تصدیق سرکاری پورٹل پر کی گئی ہے۔سرکاری پورٹل کے مطابق صوبے میں کورونا کے کل کیسز کی تعداد 65739 اور اموت 1407تک جا پہنچی ہے۔پورٹل کے مطابق پنجاب میں اب تک کورونا سے 18692 افراد صحت یاب ہوچکے ہیں۔وفاقی دارالحکومت سیکورونا کے مزید 383 کیسز اور 3 اموات سامنے آئی ہیں جس کی تصدیق سرکاری پورٹل پر کی گئی ہے۔آزاد کشمیر سے بھیکورونا کے مزید 10 کیسز اور دو اموات سامنے آئی ہیں جو سرکاری پورٹل پر رپورٹ ہوئے ہیں۔سندھ میں اتوار کو کورونا وائرس کے باعث مزید 41 افراد جان کی بازی ہار گئے جس کے بعد صوبے میں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 1089 تک پہنچ گئی ہے۔سندھ میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 2275 افراد میں مہلک وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جس کے بعد صوبے میں متاثرہ مریضوں کی تعداد 69 ہزار 628 تک جاپہنچی ہے جب کہ صحت یاب مریضوں کی تعداد 36278 ہوگئی ہے۔اتوار خیبر پختونخوا میں کورونا وائرس سے مزید 13 افراد جاں بحق ہوگئے جس کے بعد صوبے میں ہلاکتوں کی تعداد 821 ہوگئی۔محکمہ صحت کے پی کے مطابق پشاور میں 8، کوہاٹ میں 2 جب کہ خیبر، لوئر دیر اور ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک ایک شخص جاں بحق ہوا۔صوبائی محکمہ صحت نے بتایا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران صوبے میں مزید 553 افراد میں مہلک وائرس کی تشخیص ہوئی جس کے بعد متاثرہ مریضوں کی مجموعی تعداد 21997 ہوگئی ہے۔صوبے میں اب تک 6536 افراد کورونا وائرس سے صحت یاب بھی ہو چکے ہیں۔اتوار کو بلوچستان میں کورونا کے باعث مزید 2 افراد جان کی بازی ہارگئے جس کے بعد صوبے میں ہلاکتوں کی تعداد 102 ہوگئی۔صوبائی محکمہ صحت کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 147 افراد میں مہلک وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جس کے بعد صوبے میں متاثرہ افراد کی تعداد 9475 ہوگئی ہے۔بلوچستان میں کورونا وائرس سے صحت یاب ہونے والوں کی تعداد 3650 ہے۔گلگت بلتستان میں اتوار کو کورونا کے باعث ایک شہری انتقال کرگیا جس کے بعد وادی میں جاں بحق افراد کی تعداد 22 ہوگئی ہے۔ لاہور میں 24 گھنٹوں کے دوران 721 نئے کیسز رپورٹ ہوئے۔ گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں شہر میں 33 افراد وائرس سے جاں بحق ہوئے مجموعی تعداد 545 تک پہنچ گئی۔ترجمان محکمہ صحت کے مطابق ننکانہ 13، قصڈور 13، شیخوپورہ 14، جہلم 1، چکوال 1، گوجرانوالا 58، سیالکوٹ 51، نارووال 4، گجرات 48، حافظ ا?باد 11، منڈی بہاوالدین 4، ملتان 134، مظفر گڑھ 18، وہاڑی 25، فیصل ا?باد 168، چنیوٹ 14، ٹوبہ 34، رحیم یار خان 40، میانوالی 12، خوشاب 2، بہاولنگر 20، بہاولپور 40، لودھراں 5، ڈی جی خان 12، لیہ 5، اوکاڑہ 4، جھنگ 6، خانیوال 15، بھکر 3، ساہیوال 23، پاکپتن میں 5 کیسز سامنے ا?ئے۔ترجمان پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کے مطابق پنجاب بھر میں کورونا وائرس سے مزید 60 اموات، تعداد 1407 ہو گئی۔ اب تک 4 لاکھ 17 ہزار 271 ٹیسٹ کیے جا چکے۔ کورونا سے صحت یاب ہونے والوں کی تعداد 18 ہزار 692 ہو چکی۔ عوام سے گزارش ہے حفاظتی تدابیر اختیار کر کے خود کو محفوظ بنائیں۔ کورونا وائرس کی علامات ظاہر ہونے پر 1033 پر فوری رابطہ کریں۔۔دنیا بھر میں کورونا وائرس سے اموات کی تعداد 4 لاکھ 66 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ متاثرہ افراد کی تعداد 89 لاکھ 15 ہزار ہو گئی ہے۔غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق کورونا وائرس سے صحت یاب ہونے والوں کی تعداد 47 لاکھ 38 ہزار سے زائد ہوگئی ہے۔ دنیا بھرمیں کورونا سے متاثرہ 54 ہزار 501 افراد کی حالت تشویشناک ہے۔امریکہ میں کورونا سے جاں بحق ہونے والوں کی مجموعی تعداد ایک لاکھ 21 ہزار 9 سو سے بڑھ گئی ہے۔ امریکہ میں 23 لاکھ 30 ہزار سے زائد افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔برازیل امریکہ کے بعد 10 لاکھ سے زائد کورونا کیسز والا دوسرا ملک بن گیا ہے جہاں کورونا سے اموات کی تعداد 50 ہزار سے زائد ہو گئی ہے جبکہ کیسز کی تعداد 10 لاکھ 70 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔روس میں کورونا سے اموات کی تعداد 8 ہزار سے تجاوز کر گئی۔ روس میں کورونا سے متاثرہ افراد کی تعداد 5 لاکھ 76 ہزار سے بڑھ گئی۔بھارت میں کورونا سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 13 ہزار 2 سو سے بڑھ گئی ہے جبکہ متاثرہ افراد کی تعداد 4 لاکھ 11 ہزار سے زیادہ ہو گئی۔برطانیہ میں کورونا سے اموات کی تعداد 42 ہزار 5 سو سے بڑھ گئی جبکہ 3 لاکھ سے زائد افراد کورونا وائرس سے متاثر ہیں۔برطانیہ میں کورونا ٹیسٹ اینڈ ٹریس سسٹم لاگو کردیا گیا ہے اور کورونا مریضوں سے ملاقات کرنے والوں کو ا?ئسولیٹ کیا جا رہا ہے۔اٹلی میں کورونا سے ہلاکتوں کی تعداد 34 ہزار 6 سو سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ دو لاکھ 38 ہزار سے زائد افراد متاثر ہوچکے ہیں۔سپین میں کورونا سے ہلاکتوں کی تعداد 28 ہزار تین سو سے تجاوز کرگئی ہے جبکہ مجموعی کیسز کی تعداد دو لاکھ 93 ہزارسے تجاوز کرگئی ہے۔پیرو میں میں کورونا سے ہلاکتوں کی تعداد 7 ہزار 8 سو سے تجاوز کر گئی جبکہ مجموعی کیسز کی تعداد دو لاکھ 51 ہزار سے تجاوز کرگئی ہے۔سعودی عرب میں مکہ مکرمہ کے سواتمام شہروں میں لاک ڈاؤن اور کرفیو ختم کر دیا گیا ہے۔عرب میڈیا کے مطابق سعودی وزارت داخلہ کے ترجمان نے بتایا ہے کہ رات 8 بجے سے صبح 6 بجے تک کا کرفیو ختم کر دیا گیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی پروازوں پر تاحکم ثانی پابندی برقرار رہے گی جبکہ کاروباری سرگرمیاں احتیاطی تدابیر کے مطابق جاری رہیں گی۔سعودی وزارت داخلہ کے مطابق ضرورت پڑنے پر لاک ڈاؤن اور کرفیو دوبارہ بھی شروع کیا جا سکتا ہے جبکہ بیوٹی پارلر اور حجام کی دکانیں بدستور بند رہیں گی۔انہوں نے بتایا کہ سعودی عرب میں کل سے معاملات زندگی معمول کے مطابق گزارے جائیں گے۔ عرب میڈیا کے مطابق مکہ مکرمہ کی 1500 مساجد کو اتوار سے کھولا جائے گا۔ سماجی فاصلہ سمیت کورونا سے بچاوَ کی حفاظتی تدابیر کے تحت مساجد کھولی جائیں گی۔

کورونا ہلاکتیں

اسلام آباد،لاہور( جنرل رپورٹر،خبر نگار، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) ماسک نہ پہننے پر جرمانوں کے بعد دفعہ144 کے تحت کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس میں ماسک نہ پہننے پر پہلے مرحلے میں جرمانہ اور چالان جبکہ دوسرے مرحلہ میں دو مہینے قید کی سزا دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ جس میں سپیشل مجسٹریٹس کو اختیارات دے دئیے گئے ہیں اور اس میں پولیس کو بھی ہائی الرٹ کردیا گیا ہے۔اس فیصلے پر پر آج سے سختی کے ساتھ عملدرآمد کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کے حکم پر کورونا کے پھیلاؤ میں تیزی اور سنگینی آنے کے باعث ماسک پہننے کو لازمی قرار دیدیا گیا ہے اور اس میں ماسک پہننے کو لازمی قرار دینے کے حکم پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کیلئے انتہائی سخت اقدام اٹھانے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے جس میں گھر سے نکلتے ہی ماسک پہننا لازمی قرار دیا گیا ہے اور اس میں شہریوں کی جانب سے کسی قسم کی کوتاہی یا غفلت پر کارروائی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ماسک نہ پہننے پر موٹر سائیکل سواروں، رکشہ ڈرائیورز اور گاڑی سواروں کو 300 سے 500 روپے جرمانہ کرنے کیساتھ ساتھ مزید سخت اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس میں ماسک نہ پہننے پر سپیشل مجسٹریٹوں کو دو ماہ تک قید سنانے کا بھی حکم دیا گیا ہے۔ ذ اس سے قبل سٹی ٹریفک پولیس اور ضلعی انتظامیہ کو ماسک نہ پہننے پر چالان اور جرمانے کرنے کا ٹاسک دیا گیا تھا،ذرائع کا کہنا ہے کہ ماسک نہ پہننے پر پہلے مرحلہ میں جرمانے کرنے کے اختیارات دئیے گئے تھے جبکہ دوسرے مرحلہ میں سپیشل مجسٹریٹس کو دفعہ 144 کے تحت دو ماہ قیدکی سزا دینے کے اختیارات دئیے گئے ہیں۔ معاون خصوصی صحت ظفرمرزا کا کہنا ہے کہ کورونا سے بحق ہونے والے 75 فیصد افراد پہلے سے کسی بیماری میں مبتلا تھے۔اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران ظفرمرزا نے کہا کہ کورونا وائرس سے3 ہزار 500پاکستانی جاں بحق ہوچکے ہیں، تقریباً 72 فیصد جاں بحق افراد کی عمر 50 سال سے زائد تھی، 70سے 75 فیصد افراد پہلے سے کسی بیماری میں مبتلا تھے، کورونا سے جاں بحق افراد کو بلڈ پریشر،ذیابطیس یا دل کے عارضے تھے۔ظفر مرزا کا کہنا تھا کہ بیمارافراد کے کورونا وائرس میں مبتلا ہونے کے زیادہ امکانات ہوتے ہیں، کورونا سے بچنے کیلئے بزرگوں اور بیمار افراد کا خاص خیال رکھنا ہے وزارت صحت نے بزرگ افراد کے لئے گائیڈ لائنز بنائی ہیں۔ ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا ہے کہ مو ثر احتیاطی تدابیر اختیار نہ کی گئیں تو جولائی کے آخری دو ہفتے مہلک ثابت ہو سکتے ہیں جبکہ وزیر مذہبی امور نور الحق قادری نے کہا ہے کہ صوبوں اور گلگت بلتستان، آزادکشمیر سے آنے والی تجاویز کی روشنی میں مشاورت کے ساتھ قومی لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔ کورونا وبا سے محفوظ عید الاضحیٰ کے لیے ضوابط کی تیاری پر علماء و مشائخ کے ساتھ مشاورتی اجلاس منعقد کیا گیا۔ وفاقی وزیر مذہبی امور کی زیر صدارت اجلاس میں وزیر داخلہ، مشیر صحت، پارلیمانی سیکرٹری اور صوبائی حکومتی ارکان نے شرکت کی جس میں کورونا سے محفوظ عیدالاضحیٰ کے لیے ضوابط کی تیاری سے متعلق علماء و مشائخ کے ساتھ مشاورت کی گئی۔ مشاورتی اجلاس میں وزر اعظم کے معاون خصوصی صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ مو ثر احتیاطی تدابیر اختیار نہ کی گئیں تو جولائی کے آخری دو ہفتے مہلک ثابت ہو سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کورونا وائرس کی بڑھتی ہوئی شرح کے حوالے سے پہلے تین ممالک میں شامل ہو چکا ہے۔ دوسری جانب وزیر مذہبی امور نور الحق قادری کہتے ہیں کہ صوبوں اور گلگت بلتستان، آزادکشمیر سے آنے والی تجاویز کی روشنی میں مشاورت کے ساتھ قومی لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔ وفاقی حکومت نے کورونا کیخلاف نجی ٹیچنگہسپتالوں کی مدد لینے کا فیصلہ کیا ہے۔تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہیلتھ کیئر ریگولیٹری اتھارٹی نے نجی ٹیچنگ اسپتالوں کو مراسلہ لکھ کر ہدایات دیں ہیں کہ وفاق کے نجی ٹیچنگ اسپتال نصف مریضوں کامفت علاج معالجہ کریں۔مراسلے میں کہا گیا ہے کہ نجی ٹیچنگ اسپتال پی ایم ڈی سی قواعد پر عملدر آمد کے پابند ہیں ان قواعد کے تحت نجی اسپتالوں کو نصف مریضوں کے مفت علاج کا پابند بنایا گیا ہے۔مراسلے کے مطابق کورونا کے پیش نظر ملک میں ہیلتھ کیئر ایمرجنسی کی صورتحال ہے اور وبائی صورتحال کے پیش نظرنجی ٹیچنگ اسپتال اپناکردار ادا کریں وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے کہا ہے کہ ملک کے 20بڑے شہروں میں 92 ہاٹ اسپاٹ علاقوں میں لاک ڈاؤن کیا ہے۔ ہاٹ اسپاٹ والے علاقوں میں اسمارٹ لاک ڈاؤن سے مہلک وبا کا پھیلاؤ روکنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار اتوار کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے اسپتالوں کے دورے کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا وفاقی وزیر اسد عمر کی سربراہی میں حکومتی ٹیم نے شہر کے مختلف اسپتالوں کا دورہ کیا اور وہاں دستیاب سہولتوں کا جائزہ لیا۔اسپتالوں کا دورہ کرنے والی حکومتی ٹیم کو اسپتالوں کی انتظامیہ کی جانب سے مریضوں کو فراہم کی جانے والے سہولتوں سے آگاہ کیا گیا۔اسپتالوں کی انتظامیہ نے حکومتی ٹیم کو اپنی ضروریات کی بابت بھی آگاہ کیا اور دیگر متعلقہ امورپر بھی تفصیلی بریفنگ دی۔اسدعمرنے کہا کہ جولائی 2020کے آخر تک 2100سے زائد آکسیجن بیڈز کا اسپتالوں میں اضافہ کردیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد کے اسپتالوں میں 189 آکسیجن بیڈز فراہم کیے جارہے ہیں۔پولی کلینک، سی ڈی ایاسپتال اور پمزمیں آکسیجن بیڈزفراہم کیے جائیں گے۔ اسد عمر نے زور دے کر کہا کہ عالمی سطح پر وبا قرار دیے جانے والے کووڈ 19 کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے جاری کردہ ایس او پیز پر عمل درآمد نہایت ضروری ہے

جرمانہ، سزا

لاہور،جنیوا(جنرل رپورٹر،این این آئی)عالمی ادارہ صحت نے کاپاکستان اور دنیا بھر کیلئے کورونا کے حوالے ایک بار پھر خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے ڈبلیو ایچ او کے مطابق کووڈ انیس کی وبا کا دنیا بھر میں پھیلاؤ اب مزید تیز رفتار ہو گیا ہے اور یہ مرض عالمی سطح پر اب ایک ’نئے اور خطرناک مرحلے‘ میں داخل ہو گیا ہے۔جنیوا سے ملنے والی رپورٹوں کے مطابق اقوام متحدہ کے صحت سے متعلق عالمی ادارے نے کہا ہے کہ بین الاقوامی سطح پر کووڈ انیس کی عالمگیر وبا اب نہ صرف مزید تیز رفتاری سے پھیل رہی ہے بلکہ دنیا کے بیسیوں ممالک میں اس وائرس سے بچاؤ کے لیے نافذ کیے گئے لاک ڈاؤن سے عام انسان تنگ بھی پڑتے جا رہے ہیں۔ڈبلیو ایچ او کے سربراہ ٹیڈروس آڈانوم گیبرائیسس نے جنیوا میں ایک پریس کانفرنس میں کہاکہ کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد ایک نئی انتہا کو پہنچ گئی ہے اور ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام اقوام اور ان کے باشندے انتہائی محتاط رہیں۔گیبرائیسس نے صحافیوں کو بتایاصرف جمعرات اٹھارہ جون کے روز ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) کو عالمی سطح پر کورونا وائرس کے ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ نئے کیسز کی اطلاع دی گئی تھی۔ یہ بین الاقوامی سطح پر اس بیماری سے متاثرہ افراد کی اب تک کسی ایک دن میں ریکارڈ کی جانے والی سب سے زیادہ تعداد تھی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ عالمی سطح پر یہ وبا اور اس کا پھیلاؤ اب تیز رفتار ہوتے جا رہے ہیں۔عالمی ادارہ صحت کے سربراہ کے مطابق کورونا وائرس کے ان ڈیڑھ لاکھ سے زائد نئے مریضوں کی نصف سے زائد تعداد کا تعلق دونوں امریکی براعظموں، جنوبی ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے ممالک سے تھا۔ٹیڈروس آڈانوم گیبرائیسس نے کہاکہ دنیا اس وقت ایک نئے اور خطرناک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے پاکستان میں جولائی اور اگست میں کرونا وائرس کے مریضوں میں خوفناک حد تک اضافہ ہو جائے گا اور اگست تک پاکستان میں کرونا مریضوں کا پھیلاؤ اس قدر بڑھ جائے گااور متاثرین اور ہلاکتوں کی تعداد موجودہ کے مقابلے میں دو سے تین گنا ہو جائے گی پاکستاناگر یہ تعدادکم کرنا چاہتا ہے تو اس سلسلے میں عالمی ادارہ سے کے وضع کردہ قوانین پر فوری طور پر عملدرآمد شروع کر دنا ہو گا جس میں ماسک کے استعمال کو پہلی ترجیح کے طور پر لیا جائے عالمی ادارہ صحت کے سے جاری کردہ الرٹ اور وارننگ کے بعد پنجاب بھر میں عومی مقامات پرماسک کا استعمال لازم قرار دے دیا گیا،جس کا نوٹیفکیشن؎بھی جاریکر دیا گیا ہے۔مارکیٹوں، بازاروں اور دکانوں میں بھی ماسک پہنے بغیر داخلے پر پابندی عائد ہوگی عمل درآمد کے لیے مقامی پولیس کے علاوہ محکمہ انڈسٹری محکمہ لیبر محکمہ سے ضلعی انتظامیہ کو خصوصی ٹاسک دیا گیا ہے ذرائع کا کہنا ہے کہ ماسک پہننے پر پابندی پر عمل درآمد کے لئے خصوصی فورس میں اساتذہ کو بھی شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، احکامات نہ ماننے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔کورونا کے بڑھتے کیسز کے سبب پنجاب میں بازاروں، مارکیٹوں اور شاپنگ مالز سمیت عوامی مقامات پر منہ ڈھانپنے کی پابندی عائد کی گئی ہے، بغیر ماسک گاہکوں کو کسی قسم کی سروس فراہم نہ کرنے کے احکامات جاری کئے گئے ہیں، پٹرول پمپس پر ماسک نہ لگانے والوں کو پٹرول فروخت نہیں کیا جائے گا

عالمی ادارہ صحت

مزید :

صفحہ اول -