21برس بعد 21جون کا بڑا سورج گرہن، دن میں شام کے مناظر، گرہن کے صحت، ماحول پر کوئی اثرات مرتب نہیں ہوتے: ماہرین

  21برس بعد 21جون کا بڑا سورج گرہن، دن میں شام کے مناظر، گرہن کے صحت، ماحول پر ...

  

اسلام آباد(ایجنسیاں،مانیٹرنگ ڈیسک)دنیا بھر کی طرح پاکستان میں گزشتہ روز رواں برس کا پہلا سورج گرہن اختتام پذیر ہوگیا۔ سورج گرہن نے دوپہر کو شام میں بدل دیا۔ ملک کے مختلف شہروں میں اس کے نظارے دیکھے گئے۔پاکستان میں سورج گرہن کا عملکل صبح 9 بج کر 26 منٹ پر شروع ہوا جو 11 بج کر25 منٹ پر اپنے عروج پر تھا۔سورج گرہن کے دوران کراچی سمیت لاڑکانہ اور سکھر میں 'رنگ آف فائر' کا نظارا دیکھا گیا۔محکمہ موسمیات کے مطابق کراچی میں سورج گرہن کا آغاز صبح 9بج کر 26 منٹ پر ہوا جو 11 بجے کے بعد عروج پر پہنچا اور مکمل اختتام دوپہر 12 بج کر 46 منٹ ہوگیا۔کوئٹہ میں سورج گرہن کا آغاز صبح 9 بجکر 26 منٹ پر ہوا،دورانیہ 3گھنٹے 20منٹ رہا جو ایک بجکر 6 منٹ پر اختتام پذیر ہوگیا۔دارالحکومت اسلام آباد میں جزوی سورج گرہن کا آغاز 9 بج کر 50 منٹ پر ہوا جو 1 بج کر 6 منٹ پر ختم ہوا۔اسی طرح لاہور میں سورج گرہن کا آغاز 9 بجکر 50 منٹ پر ہوا جس کا مکمل اختتام ایک بجکر 10 منٹ پر ہوگیا۔ محکمہ فلکیات کے مطا بق رواں سال کا دوسرا سورج گرہن 14دسمبر کو ہو گا مگر وہ انتا شدید نہیں ہو گا۔ ملک بھر میں سورج گرہن کے باعث مختلف شہروں میں نماز کسوف ادا کی گئی جس میں اللہ پاک کے حضور سجدہ ریز ہو کر استغفار طلب کی گئی۔ملک بھر سورج کو گرہن لگا، شہر شہر نماز کسوف کے اجتماعات ہوئے اور قدرتی آفات سے محفوظ رکھنے کی دعائیں کی گئیں۔ سعودی عرب میں بھی نماز کسوف کی ادا کی گئی۔ماہرین صحت کے مطابق سورج گرہن کے سے منسلک توہمات کی سائنس میں کوئی حقیقت نہیں۔سورج گرہن کے دوران بیمار یا حادثاتی طور پر معذور افراد کو زمین یا ریت میں دبانے کے کوئی سائنسی اثرات مرتب نہیں ہوتے البتہ سورج گرہن کو براہ راست دیکھنے سے بینائی جا سکتی ہے جو ناقابل واپسی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ سورج گرہن کے انسانی صحت، موڈ پر کوئی اثرات مرتب نہیں ہوتے۔

سورج گرہن

مزید :

صفحہ اول -