امریکی عدالت نے جا ن بولٹن کی ٹرمپ مخالف کتاب شائع کرنے کی اجازت دیدی

امریکی عدالت نے جا ن بولٹن کی ٹرمپ مخالف کتاب شائع کرنے کی اجازت دیدی

  

واشنگٹن(اظہر زمان، بیورو چیف) ایک امریکی عدالت نے صدر ٹرمپ کے سابق سکیورٹی ایڈوائزر جان بولٹن کو اپنی کتاب کی اشاعت دیدی ہے جس میں انہوں نے سکیورٹی معلومات کی بنیاد پر صدر ٹرمپ پر سخت نکتہ چینی کی ہے۔وفاقی ڈسٹرکٹ جج رائس لیمبرتھ نے جان بولٹن کو اپنی کتاب”وہ کمرہ جہاں یہ واقعہ پیش آیا“ کو شائع کرنے کی اجازت ضرور دی لیکن ساتھ ہی اپنے فیصلے میں یہ بھی لکھا کہ مصنف نے امریکہ کی قومی سلامتی کیساتھ جواء کھیلا ہے۔ انہی ریمارکس کی بناء پر صدر ٹرمپ نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فیصلہ ان کی فتح ہے۔ محکمہ انصاف نے امریکی سلامتی کو خطرات درپیش ہونے کی بناء پر اس کتاب کی اشاعت کے خلاف عدالت میں اپیل دائر کی تھی جسے رد کر دیا گیا۔جان بولٹن کییہ کتاب اب منگل کے روز پورے ملک میں دستیاب ہو گی جس کی دو لاکھ کا بیان پہلے ہی کتاب فروشوں کے پاس پہنچی چکی صدر ٹرمپ نے ہفتے کے روز ایک ٹویٹ پیغام میں لکھا ہے کہ بولٹن نے کلاسیفائیڈ معلومات جاری کر کے قانون کو توڑا ہے جس کی اس کو بھاری قیمت ادا کرنی ہو گی۔ سابق سکیورٹی ایڈوائزر جان بولٹن نے صدر ٹرمپ پر بہت سے الزامات لگائے ہیں جن میں انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ صدر نے خارجہ پالیسی میں امریکی مفادات کے خلاف متعدد غیر مناسب اقدامات کئے ہیں۔ انہوں نے اس کتاب میں یہ الزام بھی لگایا کہ صدر ٹرمپ نے اپنے چینی ہم منصب ژی جن پنگ کے ساتھ تجارتی مذاکرات میں انہیں امریکی زعی اشیاء خریدنے کے لئے آمادہ کیا تاکہ ان کی امریکہ کے زرعی مالکوں کے سامنے ان کی سیاسی امیج بہتر ہو جس سے ان کو امریکہ کا دوبارہ صدر منتخب ہونے میں مدد مل سکے۔جان بولٹن نے ایک بیان میں اس بات کی تردید کی ہے کہ ان کی کتاب میں حساس نوعیت کا مواد موجود ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وائٹ ہاؤس کے حکام اپریل میں کتاب کے مسودے کی منظوری دے چکے تھے جس پر انہوں نے بعد میں اعتراضات اٹھائے اس دوران ری پبلکن سینیٹرٹم سکاٹ نے ”اے بی سی نیوز“ ٹی وی چینل کو انٹرویو یدتے ہوئے کہا کہ جان بولٹن نے ماضی میں ایوان نمائندگان میں صدر ٹرمپ کے مواخذے کی کارروائی میں شہادت دینے سے انکار کر دیا تھا۔ ان کا مقصد یہ تھا کہ وہ اپنی کتاب کے ذریعے سکیورٹی معاملات پر لکھ کر منافع حاصل کر سکیں۔ سینیٹر کا کہنا تھا کہ بولٹن نے کتاب کی تیس ڈالر قیمتک ے بدلے امریکی سکیورٹی بیچ دی ہے۔

اجازت

 انٹرویومیں شبلی فراز نے کہا کہ پاکستان ایک غریب ملک ہے اور ملکی معیشت پر لاک ڈاؤن کے سنگین منفی اثرات کے باعث مکمل لاک ڈاؤن کا متحمل نہیں ہو سکتا۔کورونا وائرس ایک عالمی مسئلہ ہے اور وزیراعظم کی سمارٹ لاک ڈاؤن کی پالیسی کو ’دنیا بھر نے سراہا ہے۔ حکومت مکمل لاک ڈاؤن کا نفاذ نہیں کرے گی کیونکہ یہ مہلک وائرس کا حل نہیں ہے۔ کورونا وائرس وبا کی روک تھام کے لیے نیشنل کمانڈ آپریشن سینٹر کے اجلاسوں کے دوران تمام فیصلے فریقین کے اتفاق رائے سے کیے گئے ہیں۔

شبلی فراز

”ہیپی برتھ ڈے بینظیر“ سنتھیا رچی نے پیغام جاری کر کے سب کو حیران کر دیا

لاہور (آن لائن) امریکی خاتون سنتھیا ڈی رچی نے بینظیر بھٹو کی 67 ویں سالگرہ پر نہایت حیران کن پیغام جاری کر کے سب کو دنگ کر دیا۔ پیپلز پارٹی نے گزشتہ روزاپنی لیڈر کی 67 ویں سالگرہ منا ئی، تاہم اس حوالے سے کورونا وائرس کے باعث کسی بڑی تقریب کا انعقاد نہیں کیا گیا۔ سنتھیا ڈی رچی نے بینظیر بھٹو شہید کی سالگرہ کے موقع پر ٹویٹر پر پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ ”پاکستان کی پہلی خاتون وزیراعظم جو بہت سے لوگوں کی یادوں میں زندہ ہیں، بینظیر بھٹو کو سالگر مبارک۔“یاد رہے معروف امریکی بلاگر نے سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو شہید اور پیپلز پارٹی کی سینئر قیادت پر نہایت سنگین ترین الزامات عائد کیے جس کے بعد اب اس کیخلاف قانونی چارہ جوئی کا آغاز ہو چکاہے تاہم سنتھیا نے پیپلز پارٹی کی سینئر قیادت کیخلاف مقدمہ کیلئے ہونیوالے اخراجات کیلئے اپنے چاہنے والوں سے چندہ بھی مانگا۔

سنتھیا رچی

مزید :

صفحہ اول -