حضرت سیّدہ فاطمہ رؓ کو ”اُم الانبیاء کہنا انکارِ ختم نبوت اور کلمہئ کفر ہے،اشرف آصف جلالی

حضرت سیّدہ فاطمہ رؓ کو ”اُم الانبیاء کہنا انکارِ ختم نبوت اور کلمہئ کفر ...

  

لاہور (پ ر) تحریک لبیک یا رسول اللہ صلی اللہ علیک وسلم کے سربراہ اور تحریک صراط مستقیم کے بانی ڈاکٹر محمد اشرف آصف جلالی نے مرکز صراط مستقیم تاج باغ لاہور میں ہنگامی پریس کانفرنس میں سندھ اسمبلی میں حضرت سیدہ طیبہ طاہرہ سیدہ فاطمۃ الزہراء ؓکے بارے میں بولے گئے غیر شرعی الفاظ پر شرعی فتویٰ صادر کرتے ہوئے کہا ہے کہ حضرت سیّدہ فاطمہ رؓ کو ”اُم الانبیاء یعنی انبیاء کی ماں“ کہنا واضح طور پر انکارِ ختم نبوت اور کلمہئ کفر ہے۔ جبکہ رسول اکرم ؐ کے خاتم النبیّن ہونے کا مطلب یہ ہے کہ آپؐ کے بعد کسی نبی کی ولادت نہیں ہو سکتی۔

جو شخص رسول اکرم ﷺ کے بعد کسی ایک نبی کی ولادت کو جائز سمجھے وہ کافر اور ختم نبوت کا منکر ہوتا ہے۔ جو شخص حضرت سیّدہ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو ”اُم الانبیاء یعنی انبیاء کی ماں“ کہہ رہا ہے وہ رسول اکرم ﷺ کے بعد ایک نہیں بلکہ کئی انبیاء کی ولادت کا صرف تصور ہی پیش نہیں کر رہا بلکہ نفس الامر اور واقع میں تاجدارِ ختم نبوت حضرت محمد مصطفی ﷺ کے بعد کئی انبیاء کی ولادت کو تسلیم کر رہا ہے۔ قادیانی کافر ہے اس لیے کہ وہ رسول اکرم ﷺ کے بعد ایک شخص کو نبی مانتا ہے اور جو شخص رسول اکرم ﷺ کے بعد 12 انبیاء مان رہا ہے وہ کتنا بڑا کافر ہوگا۔ یہ لفظ سندھ اسمبلی میں ناصر حسین شاہ نامی وزیر نے بولے جوکہ ریکارڈ پر موجود ہیں۔ یہ لفظ غیر ارادی طور پر اور سبقت لسانی سے نہیں بولے گئے، بلکہ پہلے یہ لفظ لکھے گئے، پھر کمپوز کیے گئے، پھر اسمبلی میں پیش کرنے سے پہلے بھی پڑھے گئے،پھر اسمبلی میں پیش کیے گئے اور صرف عربی الفاظ ہی نہیں بلکہ اردو میں اس کا ترجمہ بھی پیش کر رہا ہے۔ ایک فرقہ جو اماموں کو معصوم یعنی مبہم لفظوں میں منصبِ نبوت پر فائز مانتا ہے۔ اس نظریے پر سیّدہ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا جنہیں بارہ اماموں کی عظیم ماں ہونے کی وجہ سے اُم الائمہ کہا جاتا ہے، اس فرقے کے مطابق حضرت سیّدہ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکے لقب اُم الائمہ کی جگہ ارادی طور پر اُم الانبیاء یعنی انبیاء کی ماں کے الفاظ بولے گئے ہیں۔ یہ الفاظ ختم نبوت سے انکار، قرآن سے تصادم اور آئین پاکستان سے بغاوت ہے۔ نیز اسلام کے خلاف قادیانیت سے ایک بڑے فتنے کا دروازہ کھولنے کے مترادف ہے جن کو قادیانیوں کا نہایت ہی خطرناک اور شریر ٹولہ اپنی دلیل کے طور پر استعمال کر سکتا ہے۔ چنانچہ اس نہایت ہی حساس مسئلے پر حکومت اور ادارے فوری ایکشن لیں۔ یہ الفاظ سندھ اسمبلی کی کاروائی سے حذف کروائے جائیں۔ ان الفاظ کا قائل ناصر حسین شاہ نامی شخص اعلانیہ توبہ کرے اللہ تعالیٰ، اللہ تعالیٰ کے رسول ﷺ اور تمام امت مسلمہ سے معافی مانگے اور تجدید ایمان بھی کرے اور تجدید نکاح بھی کرے۔، نیز جن ارکان اسمبلی نے اس قرارداد پر دستخط کیے یا وہاں بیٹھ کر حمایت کی ان کلمات کفریہ کی وجہ سے سب پر تجدید ایمان اور تجدید نکاح ضروری ہے۔ انہوں نے مزید کہا: سندھ اسمبلی میں ہونے والے اس بہت بڑے واقعہ پر ملک کے مفتیان کرام اور علماء و مشائخ کا کوئی نوٹس نہ لینا نہایت قابل افسوس ہے۔ ڈاکٹر محمد اشرف آصف جلالی نے گزشتہ دن قومی اسمبلی میں پیش کی گئی ایک قرارداد جس میں ان کی طرف سیدّہ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی معاذاللہ توہین کی نسبت کی گئی اس قرارداد کو جھوٹ کا پلندہ قرار دیتے ہوئے یہ مطالبہ کیا کہ مجھے قومی اسمبلی میں بلایا جائے اور وہاں میرا نقطہئ نظر سنا جائے اور توہین کے اس جھوٹے الزام کو ثابت کیا جائے۔ الزام ثابت ہو جانے کی شکل میں مجھے صرف فورتھ شیڈول میں ہی نہ ڈالا جائے یا مجھ پر 295C کے تحت صرف ایف آئی آر ہی نہ کاٹی جائے بلکہ مجھے پارلیمنٹ کی عمارت سے باہر نہ نکلنے دیا جائے اور اسی وقت ہی اسمبلی کے اندر ہی مجھ پر 295C نافذ کر دی جائے۔ بصورتِ دیگر یہ قرارداد پیش کرنے والی شگفتہ جمالی پر حد قذف یعنی 80کوڑے لگائے جائیں اور مذکورہ خاتون پر اپنی طرف سے سیّدہ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے بارے میں گستاخانہ الفاظ لکھنے کی وجہ سے 295C لگائی جائے۔ نیز آزاد کشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں اسی الزام کے تحت قرار داد منظور کروانے والے علی رضا نامی شخص کو بھی اور اس قرارداد کی حمایت کرنے والوں کو بھی اسی اسی کوڑے مارے جائیں اور پھر ان پر 295C لگائی جائے۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -