پولیس سیٹ اپ میں تبدیلوں کی اشد ضرورت

پولیس سیٹ اپ میں تبدیلوں کی اشد ضرورت
پولیس سیٹ اپ میں تبدیلوں کی اشد ضرورت

  

نگران سیٹ اپ کے دوران جب پنجاب میں سید کلیم امام کو آئی جی پولیس اور لاہورمیں سی سی پی او ایڈیشنل آئی جی بی اے ناصر کو تعینات کیا گیا تو اس ٹیم نے پنجاب بھر بالخصوص لا ہور میں امن و امان کی صورت حال کو بہتر بنانے کے لئے ٹارگٹ کلر بھتہ مافیا اور دیگر جرائم میں ملوث عناصر کے خلاف آپریشن کر کے جہاں صوبہ بھرکا امن بحال کیا تو پی ٹی آئی کی آنے والی حکومت اور پنجاب میں دوبارہ تعینات ہو نے والے آئی جی پولیس پنجاب کیپٹن ریٹائرڈ عارف نواز نے وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کی مشاورت سے پنجاب بھر میں ایک ایسی ٹیم تشکیل دی جس سے پولیس کا مورال بلند ہوا کیپٹن عارف نواز نے حکومت کی مشاورت سے اپنی چند ایک تبدیلیوں کے ساتھاشفاق احمد خاں جو کہ سی پی او گوجرانوالہ کے بعدفیصل آباد میں بھی بطور ایک کامیا ب آفیسر کے طور پرپہچانے جاتے تھے اور وہاں کے آر پی او غلام محمود ڈوگر بھی کسی صورت ان کی ٹرانسفر کے حق میں نہیں تھے انھیں لاہور میں آئی جی پولیس نے ڈی آئی جی آپریشن تعینات کرکے فورس کے اندر ایک نئی جدت پیدا کر دی اشفاق احمد خاں نے بھی اس وقت کے کمانڈربی اے ناصر کے ساتھ مل کر لاہور میں نہ صرف ریکارڈ کامیابیاں حاصل کیں بلکہ محرم الحرام سمیت ہر موقع پر بہترین سکیورٹی انتظامات اور کمونٹی پولسینگ کی بدولت شہر میں امن بحالی کی ایک نئی روایت قائم کی جسکی بدولت آج حکومت نے انھیں دوبارہ لاہور میں بگڑتے ہوئے حالات کو درست کر نے کے لیے دوبارہ تعینات کیا ہے اشفاق احمد خان جہاں بہت سی خوبیوں کے مالک ہیں ان میں ایک خوبی یہ بھی ہے کہ وہ نیک نیتی،محب الوطنی اور محنت سے کام کرنے کے علاوہ ہمیشہ اپنے سینئراور کمانڈر کی انتہا درجے تک دل کی اتھاہ گہرائیوں سے عزت کرنے کے قائل ہیں۔

پو سٹنگ ان کا ایشو نہیں یہ کوارڈی نیشن پر یقین رکھتے ہیں،کمانڈر کے احکامات کی بجا آوری فرض سمجھتے ہیں،ماتحت پرور ہیں،میڈیا سمیت تمام طبقہ فکر سے یہ اپنی مشاورت جاری رکھتے ہیں یہ ہی وجہ ہے کہ فورس سمیت ہر طبقہ فکر کے افراد ان کی دل سے عزت کرتے ہیں۔یہ بات درست کہ کہ اس ملک کہ عسکری اداروں نے ہر مشکل وقت میں وطن عزیز کا بھر پور دفاع کیا ہے کہا جاتا ہے کہ ہر صوبے کہ امن وامان کی ذمہ دار پولیس کا محکمہ ہوتا ہے جس کی اولین ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اپنے صوبے سے جرائم مافیا کا مکمل خاتمہ ممکن بنانے کی ہر ممکن کوشش کرے بد قسمتی سے آج ہمارے ملک کی پولیس کو اتنا معیوب بنا دیا گیا ہے کہ عوام کا پولیس پر سے مکمل اعتماد اْٹھ چکا ہے جس کہ ذمہ دار جہاں سیاسی حلقے ہیں وہاں پولیس کہ محکمے میں کچھ ایسے عناصر بھی ہیں جن کی وجہ سے آج عوام چور ڈاکوں سے زیادہ پولیس سے خوف کھا تی ہے پولیس کی بدنامی کا سبب زیادہ تر سیاستدان ہیں جو اپنے کالے کرتوتوں کو چھپانے کے لئے پولیس کہ محکمہ کا ناجائز ا ستعما ل کرتے ہیں جس کی وجہ سے کچھ پولیس افسران فرائض کو بھول کر سیاستدانوں کہ ناجائز کاموں کو سپورٹ کرتے رہتے ہیں جن کی دیکھا دیکھی نچلی سطح پر بھی رشوت کا بازار گرم ہوجاتا ہے جو آج ایک نا سور کی صورت میں پولیس پر لگا ہوا ہے پولیس کی کار کردگی کو بہتر بنانے کہ لئے جب بھی چند فرض شناس افسران کی جانب سے کوشش کی گئی ہے تو ان کہ فرائض میں روکاٹ ڈالنے کہ لئے ایک مافیا سر گرم ہوجاتا ہے وہ چاہے سیاستدان ہو ں یا پولیس کے اپنے افسران، اور یہ کہ ان پر اتنا دبا? ڈالا جاتا ہے کہ بڑے بڑے ایماندار پولیس افسران ان کے سامنے اپنے فرائض کو انجام دینے سے مجبور ہوجاتے ہیں۔

اس وقت پنجاب پولیس کہ محکمہ میں بہت سے فرض شناس افسران موجود ہیں جو پولیس کہ محکمے کی بہتری کہ لئے کام کرنا چاہتے ہیں مگر ان افسران کو ہمیشہ اپنے کمانڈر یا سیاسی مشکلات درپیش رہی ہیں پنجاب پولیس کو اس وقت بہت حد تک بہتر بنانے کی کوشش کی جارہی ہے جس میں وزیر اعلی پنجاب کا کردار بڑا اہم ہے پنجاب پولیس کی تاریخ میں پہلی بار ترقیاں میرٹ کی بنیاد پر کی گئی ہیں جس کا کریڈت ایڈیشنل آئی جی اسٹیبلشمنٹ بی اے ناصر کو جا تا ہے لاہور کہ حالات میں سابق سی سی پی او بی اے ناصر کی جانب سے جو بہتری لائی گئی تھی اس کو بر قرار رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ لاہور پولیس کی کارکردگی کو بہتر سے بہتر بنایا جائے تاکہ شہر کا امن مستحکم بنیادوں پر قائم رہ سکے جس کہ لئے ضروری ہے کہ پنجاب پولیس کے آپس میں اختلافات کا خاتمہ کیا جائے،پولیس کے ا ختلافات ایک بار پھر زندہ دلان لاہورکہ امن کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔وزیر اعلی پنجاب کو چاہیے کہ وہ لاہور میں ایڈیشنل آئی جی عہدے کے ایک ایسے پولیس آفیسر کو بطور سی سی پی او تعینات کریں جو بہترین کمانڈر ثابت ہو،موجودہ سی سی پی او زوالفقار حمید انوسٹی گیشن کے ماہر اور تجربہ کار آفیسر ہیں لیکن وہ ایک اچھے کمانڈر ثابت نہیں ہوسکے حکومت کو چاہیے کہ وہ وقت ضائع کے بغیرانھیں ڈی آئی جی انوسٹی گیشن پنجاب تعینات کرکے ان کے تجربات سے فائدہ اٹھایا جائے جبکہ موجودہ آئی جی پولیس کو بھی ہدایت کی جائے کہ وہ عاجز بن کر اپنے دوازے میڈیا سمیت ہر آفیسر اور عام شہری کے لیے کھولیں اور ایک ایسی ٹیم تشکیل دیں جس سے صوبے بھر میں امن قائم ہوسکے یہ بات درست ہے جب تک پولیس کا نظام غیر سیاسی نہیں بنایا جائے گا اْس وقت تک پولیس کی کار کردگی پر سوالیہ نشان قائم رہے گا جس کے لئے جہاں پنجاب حکومت ذمے دار ہے وہاں اپنے فرائص کو با خوبی انجام دینے والے پولیس افسران کی مایوسی بھی تشویش کا باعث ہے اگر ہمارے معزز اداروں کی جانب سے ایسے فرض شنا س افسران کی حوصلہ افزائی کی جائے تو کوئی دو آراء نہیں کہ پولیس کا نظام بہتری کی جانب گامزن ہوسکتا ہے اور پولیس اور عوام میں دوریاں ختم ہوسکتی ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -