18ویں ترمیم میں تبدیلی ناگزیر؟

18ویں ترمیم میں تبدیلی ناگزیر؟

  

پاکستان تحریک انصاف کے اقتدار میں آنے کے بعد یہ موضوع بڑی شد و مد سے زیر بحث ہے کہ دستور میں شامل کی جانے والی 18ویں ترمیم کو تبدیل کر دیا جائے اور دلیل اس کی یہ دی جا رہی ہے کہ اس ترمیم میں کئی سقم ہیں اور جن مقاصد کے حصول کے لئے یہ ترمیم پاس کی گئی تھی،اول تو وہ حاصل ہی نہیں کئے جا سکے دوسری اہم بات یہ کہ صوبوں کو جو اختیارات اس ترمیم کے تحت تفویض کئے گئے ہیں وہ لامحدود ہیں،پھر صوبوں نے طے شدہ امور کے مطابق بلدیاتی اداروں کو متعلقہ اختیارات منتقل بھی نہیں کئے۔موجودہ حکومت نے اس ترمیم کو تبدیل کرنے کے لئے پارلیمنٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ اس حوالے سے اپوزیشن جماعتوں کو بھی اعتماد میں لیا جائے گا،اتحادی جماعتوں سے مشاورت بھی مکمل کر لی گئی ہے۔ویسے بھی پی ٹی آئی حکومت تبدیلی کے نام پر برسر اقتدار آئی ہے اور نظام میں تبدیلی کو ہی اپنی اولین ترجیح قرار دے رہی ہے۔وزیر اعظم عمران خان خود کئی بار برملا اس بات کا اظہار کر چکے ہیں کہ ہم 18ویں آئینی ترمیم میں بھی تبدیلی لانا چاہتے ہیں ابھی گزشتہ دنوں کراچی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ 18ویں ترمیم میں جلدبازی میں کئی ایسی چیزیں ڈال دی گئی ہیں جنہیں ختم کرنا ہوگا، اختیارات صوبوں کو پہنچ گئے لیکن صوبوں نے اختیارات بلدیات تک منتقل نہیں کئے جبکہ وزیراعلیٰ کے پاس وہ اختیارات ہیں جو کسی آمر کے پاس بھی نہیں تھے۔ان کا کاکہنا تھا کہ اختیارات نچلی سطح پر پہنچائے جائیں گے تو عوام بہتر فیصلے کریں گے، پوری دنیا میں میئر کے انتخابات براہ راست ہوتے ہیں،کراچی اور لاہور کا مسئلہ کبھی حل نہیں ہوگا جب تک میئر براہ راست منتخب ہو اور اس کے پاس اختیارات ہوں۔این ایف سی ایوارڈ کے حوالے سے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ یہ کیسا سسٹم بنایا ہے کہ وفاق صوبوں کو پیسے دے دیتا ہے اور خود 700 ارب خسارے میں چلا جاتا ہے، این ایف سی ایوارڈ میں بھی خامیاں ہیں، یہ ناقابل عمل ہے۔

جن چیزوں کی اصلاح ضروری ہے اگرچہ وزیر اعظم نے اس کی کوئی تفصیل تو نہیں بتائی لیکن یہ ترمیم جیسی کچھ بھی ہے، بُری ہے یا بھلی، یہ بات ذہن نشین رہنی چاہئے کہ آئین میں متعین طریقِ کار کے تحت ضابطوں کی کارروائی مکمل کرکے کی گئی تھی، یہ جو کہا جا رہا ہے کہ یہ جلد بازی میں کی گئی درست معلوم نہیں ہوتا کیونکہ اس کے لئے تو طویل ترین مشاورت کی گئی اور شائد ہی کسی آئینی ترمیم پر اس قدر طویل بحث کی گئی ہو جتنی اس ترمیم کے لئے کی گئی، ہزاروں گھنٹے غور کے بعد یہ پیکیج پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا چونکہ کمیٹیوں میں تفصیلی غور و خوض ہو چکا تھا اور اس وقت پارلیمنٹ کے اندر جو جماعتیں موجود تھیں ان کے نمائندے بھی پارلیمانی کمیٹیوں میں تھے، اس لئے پارلیمنٹ میں منظوری پر زیادہ وقت نہیں لگا، شائد اسی کو جلد بازی قرار دیا جا رہا ہے۔ ترمیم دراصل آئین کی اس روح کو بحال کرتی ہے جو 1973ء کے دستور کا مدعا و مقصود تھا۔ غلط فیصلوں کا امکان تو ہر وقت ہوتا ہے اور حکومت کا کوئی بھی فیصلہ کبھی اس عنصر سے خالی نہیں رہا، یہ بات بھی ٹھیک ہے کہ ماضی میں غلط فیصلے ہوتے رہے،لیکن اب ضرورت اس امر کی ہے کہ 18ویں ترمیم میں تبدیلی سمیت قومی امور کے تمام اہم فیصلے مکمل سوچ بچار اور فریقین سے ہر قسم کی مشاورت کے بعد کئے جانے چاہئیں۔

دستور میں کی جانے والی 8ویں ترمیم کے پس منظر پر نگاہ ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ ترمیم 8 اپریل 2010 کو قومی اسمبلی نے پاکستان پیپلزپارٹی کے دور حکومت میں منظور کی۔ اس وقت پارٹی کے سربراہ آصف علی زرداری پاکستان کے صدر تھے۔ اٹھارویں ترمیم نے صدر کے پاس موجود تمام ایگزیکٹو اختیارات پارلیمان کو دے دیئے، چونکہ وزیر اعظم قائدِ ایوان ہوتا ہے لہٰذا زیادہ اختیارات وزیر اعظم کے پاس بھی آئے۔ اس کے علاوہ پاکستان کے شمالی مغربی سرحد صوبے کا نام تبدیل کرکے خیبر پختونخوا رکھا گیا گیا۔ وفاق سے زیادہ تر اختیارات لے کر صوبوں کو دیے گئے۔ پاکستان کے مختلف حلقوں اور افراد نے آئین میں ترامیم کیلئے 988 سفارشات ارسال کیں جبکہ پارلیمنٹ نے 18 ویں ترمیم کے ذریعے پورے آئین کو بدل کر رکھ دیا۔ اٹھارہویں ترمیم کے بعد صوبے خودمختار ہو گئے۔ ان کو وفاقی اختیارات اور وزارتیں منتقل کر دی گئیں۔ صوبوں نے مرکز سے اختیارات تو لے لئے مگر ان کے مطابق ان کو مقامی حکومتوں تک منتقل نہ کیا جس سے صوبائی خودمختاری کا مقدمہ کمزور ہوا۔وزیر اعظم اور دیگر اتحادی جماعتوں کے رہنماؤں کا یہ موقف درست معلوم ہوتا ہے کہ بلدیاتی اداروں کو با اختیار نہ کرنا آئین کی متعلقہ شقوں سے انحراف ہے، کئی ادوار حکومت میں ایسا کیا جاتا رہا لیکن کوئی بھی حکمران یا اس کی جماعت اس کی معقول وجہ نہیں بتا سکی۔سوال یہ ہے کہ کیا بلدیاتی اداروں کا قیام صوبوں کی آئینی ذمہ داری ہے؟ اس حوالے سے آئین کا آرٹیکل 140(اے) بہت واضح ہے۔ جس میں کہاگیا ہے کہ ہر ایک صوبہ قانون کے ذریعے مقامی حکومت کا نظام قائم کرے گا اور سیاسی، انتظامی اور مالیاتی ذمہ داری اور اختیار مقامی حکومتوں کے منتخب نمائندوں کو منتقل کرے گا۔ یہ آرٹیکل جنرل پرویز مشرف کے جاری کردہ لیگل فریم ورک آرڈر کے ذریعے آئین میں شامل کیاگیا جسے 17 ویں آئینی ترمیم کے ذریعے تحفظ دیاگیا۔ 18 ویں آئینی ترمیم میں نہ صرف اس آرٹیکل کو برقرار رکھا گیا بلکہ اسے مزید موثر بنانے کے لئے اس میں ذیلی آرٹیکل کا اضافہ بھی کیاگیا جس میں کہا گیاہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان بلدیاتی انتخابات منعقد کروائے گا۔جہاں تک بلدیاتی نظام کا تعلق ہے بدقسمتی کی بات ہے کہ کسی سیاسی جماعت نے اس نظام کی مضبوطی کی کبھی کوئی کوشش نہیں کی چونکہ ارکان اسمبلی ہر قسم کے بلدیاتی فنڈ اپنی وساطت سے خرچ کرنا چاہتے ہیں اور ایسا کرتے وقت اپنے حلقوں اور سیاسی مفادات کو پیش نظر رکھتے ہیں اس لئے کوئی بھی حکومت بلدیاتی نظام مضبوط کرنے کے حق میں نہیں، وزیراعظم نے کراچی اور لاہور کے مسائل کی بات کی، سندھ کی حکومت کراچی کے میئر کو اختیارات نہیں دینا چاہتی تو پنجاب میں بلدیاتی ادارے ہی سرے سے ختم کر دیئے گئے ہیں حالانکہ اگر یہ ادارے موجود ہوتے تو کورونا بحران میں غریبوں تک رسائی میں بہتر کردار ادا کر سکتے تھے لیکن تحریک انصاف کی حکومت نے اقتدار سنبھالتے ہی بلدیاتی اداروں کا خاتمہ ضروری سمجھا اب جس نظام کی برکات گنوائی جا رہی ہیں کوئی پتہ نہیں وہ کب قائم ہو گا کب بلدیاتی الیکشن ہوں گے اور کب لوگوں کے مسائل حل ہوں گے لوگوں کو جن مسئلوں کا سامنا اب ہے ان کے حل کے لئے انہین مزید کتنے برس درکار ہوں گے۔ وزیراعظم اگرچہ اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی کے بڑے پُرجوش حامی ہیں لیکن رکاوٹیں اس قدر ہیں کہ شاید انہیں یہ پل صراط عبور کرنے میں خاصی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ یہ ایشو چونکہ آج کل خاصا گرم ہے اس لئے روزنامہ پاکستان نے اس حوالے سے خصوصی نشست کا اہتمام کیا، ”مکالمے“کے عنوان سے منعقدہ اس نشست نے ممتاز قانون دان، سیاسی تجزیہ نگار منیر احمد خان نے ملک کے ممتاز دانشوروں، تجزیہ کاروں اور قانون دانوں سے 18ویں ترمیم میں تبدیلی پر سیر حاصل گفتگو کی، اس دوران سامنے آنے والی آراء نذر قارئین ہیں۔

مجیب الرحمان شامی:

ممتاز تجزیہ کار اور روزنامہ پاکستان کے چیف ایڈیٹر مجیب الرحمان شامی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک پراسیس ہے، بنیادی بات یہ ہے جو ادارہ دستور بناسکتا ہے وہ اس میں ترمیم بھی کرسکتا ہے۔ اس کی مشکلات کیا ہیں؟ اس میں کنکرٹ لسٹ ختم کی گئی ہے۔ آپ مجھے ایک بات بتائیے جو دستور تھا ہمارا اس میں تین قسم کی فہرستیں تھیں یا تین قسم کے اختیارات تھے، ایک وہ جو وفاق کا اختیار ہے، ایک وہ جو صوبوں کا ختیار ہے، ایک وہ جو دونوں کا اختیار ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کئی معاملات ایسے ہیں کہ وہ اوورلیپ کرتے ہیں۔ صوبے بھی متعلق ہوتے ہیں، وفاق بھی متعلق ہوتا ہے۔ انڈیا میں بھی کم و بیش 50 ایسے سبجیکٹ ہیں جو کنکرٹ لسٹ میں شامل ہیں۔ دنیا میں جہاں جہاں پارلیمانی طرز حکومت ہے، میں نے دیکھا ہے کہ اکثر ممالک میں وہ کنکرٹ لسٹ بھی موجود ہے۔ تو پاکستان کے دستور میں وہ کنکرٹ لسٹ ختم کردی گئی۔ اس کے نتیجے میں جو وفاقی محکمے تھے بہت سے وہ صوبوں کو چلے گئے۔ اس کے بعد وفاق میں، وفاق میں وہ محکمے ختم ہوجانے چاہئیں تھے او روفاق میں بڑے پیمانے پر رد و بدل ہونا چاہیے تھا۔ جو ردوبدل نہیں کیا جاسکا، وفاق پر جو بوجھ تھا وہ بھی برقرار رکھا۔ اور صوبوں کو وہ محکمے منتقل ہوئے، وہاں تربیت یافتہ لوگ بہت کم تھے، صوبے ان کو زیادہ اچھی طرح سنبھال نہیں پائے۔ مثال کے طور پر خاندانی منصوبہ بندی پاپولیشن کنٹرول، وہ بھی صوبوں کو دے دیا گیا۔ گزشتہ 9سے 10 سال میں اس طرف کسی نے توجہ نہیں دی۔ پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ اس وقت آبادی ہے۔ ایسے کئی موضوعات ہیں۔اس کے بعد جو ریو نیو ہے، وسائل کی تقسیم۔ وسائل کی تقسیم کے حوالے سے اٹھارہویں ترمیم کا کچھ لینا دینا نہیں۔ وہ کرتا ہے نیشنل فائنانس کمیشن، اس میں ایک بات لکھی گئی۔ وہ یہ بات لکھی گئی جو صوبے کسی کا حصہ ایک دفعہ مقرر ہوجائے، پرسنٹیج جو ہے، اس پرسنٹیج کم نہیں ہوسکے گی۔ کسی صوبے کی فیصد تناسب ہے آپ اس کو متاثر نہیں کرسکتے، ایک معاملے میں یہ خاموشی ہے۔ اگر صوبے خود چاہیں اتفاق رائے سے تو وہ کیا اپنے کسی حصے سے دستبردارہوسکتے ہیں۔ اس بارے میں دستور خاموش ہے۔ میرا خیال ہے کہ یہاں ایک انٹرپٹیشن کی گنجائش موجود ہے۔ اگر صوبے اتفاق رائے سے یہ چاہیں کہ ہنگامی ضرورت ایسی ہے اس میں کچھ اپنے حصے سے دستبردار ہوسکتے ہیں، ایک دفعہ حصہ لے کر کنٹریبیوٹ کرسکتے ہیں دوبارہ۔یہ جو ہمارا ساتواں این ایف سی ایوارڈ ہے، جو 2010ئمیں آیا جس میں شوکت ترین صاحب وزیر خزانہ تھے، یوسف رضا گیلانی صاحب وزیراعظم تھے، آصف علی زرداری صاحب صدر تھے اور شہباز شریف صاحب وزیر اعلیٰ تھے۔ تو وہ جو ایوارڈ ہے اس میں پہلی دفعہ تو وسائل کی تقسیم ہے وہ کم و بیش 57 فیصد صوبوں کے پاس چلی گئی اور مرکز کا حصہ کم ہوگیا۔ بڑی دلچسپ بات یہ ہے کہ اس وقت اٹھارہویں ترمیم نہیں تھی، اگر وہ آئی ہوتی اور آپ کہتے چونکہ صوبوں کا بوجھ زیادہ ہوگیا ہے، اسے محکمے زیادہ مل گئے ہیں اس لیے یہ تقسیم کی گئی ہے۔ لیکن یہ تقسیم اس سے پہلے ہوچکی تھی اور اگر یہ تقسیم جو تھی بات میں ہوتی تو او ربات تھی۔اس لیے اب بحث یہ ہورہی ہے کہ ہمارے قرضے بہت زیادہ ہورہے ہیں۔ ڈیفنس پر خرچہزیادہ ہوا۔ دہشتگردی کے خلاف ہمیں لڑائی لڑنی پڑی، یہاں انٹرنل سکیورٹی کے مسائل بھی ہیں۔ تو مرکز جو ہے وہ یہ بوجھ نہیں اٹھاپارہا، اس لیے وہ صوبوں کی معاونت چاہتا ہے۔ اس وقت جو موضوع ہے وہ یہ ہے۔مرکز جو ہے وہ پیار محبت سے مل بیٹھ کر، جیسے گھر میں ہم بہن بھائی اکٹھے ہوتے ہیں مسئلے مسائل حل کرتے ہیں۔ لیکن موجودہ وفاقی حکومت جو ہے وہ اس صلاحیت سے محروم ہے، اس لیے اس نے یہ راستہ اختیار نہیں کیا اور ایسی ڈسکشن ہم نے شروع کردی جس کی ضرورت نہیں تھی سوسائٹی میں۔چھوٹے صوبوں کا مسئلہ اس وقت نہیں ہے۔ تین صوبے کم و بیش ایک پیج پر ہیں۔ پنجاب میں پی ٹی آئی کی حکومت ہے، مرکز میں پی ٹی آئی کی حکومت ہے، کے پی میں پی ٹی آئی کی حکومت ہے، بلوچستان میں مخلوطحکومت ہے۔ سندھ جو ہے وہ اس سے باہر ہے۔، فائنانس کمیشن کے اجلاس میں ایک مختلف شخص جو ہو گا وہ وزیر اعلیٰ سندھ ہوگا۔ تو ان کو یہ چاہیے کہ آپس میں بات چیت کر کے اس مسئلے کا حل نکالیں۔ ملک سب کا ہے، دفاع اس کا سب نے کرنا ہے، سندھ کی حفاظت نہیں ہورہی، پنجاب کی نہیں ہورہی، یا مرکز کی نہیں ہورہی۔ جو قرضوں کا بوجھ ہے وہ بھی اٹھانا ہے، جو سرکاری ادارے ہیں ان کی نجکاری کرنی ہے۔ کئی مسائل ایسے پینڈنگ ہیں ان پر غور کرنا چاہیے اور ان کا راستہ نکالنا چاہیے۔ اسحاق ڈار صاحب نے ایک تجویز پیش کی ہے، کہ ڈیفنس ایکسپینڈ نیچے، جو ہے پہلے اس کو ایک طرف کردیا جائے، وہ منفی کر کے وسائل اس کے بعد تقسیم کردیے جائیں۔ پرسنٹیج وہی رہے گی، اس پر ایگری کرلیں کہ ڈیفنس ایکسپینڈ نیچے کر لیں، وہ الگ کرلیے جائیں۔ اور دوسری صورت یہ ہوسکتی ہے، کہ اگر وہ جو فائنانس پر ہے، بجٹ، اس پر ہی حصہ الگ کردیا جائے ڈیفنس کا۔ لیکن پیار محبت سے یہ کام کرنا ہوگا، دھینگا مشتی سے لڑ جھگڑ کر ایسا کم نہیں ہوسکے گا نہ کیا جانا چاہیے۔مکالمے میں حسہ لیتے ہوئے منیر احمد خان نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کو اس غصے والی سوچ کو پیچھے ہٹانا ہوگا حکومت کو ہی آگے بڑھ کر سیاسی پارٹیوں کو ساتھ ملانا ہوتا ہے۔چاہے اگر آپ نے آئین میں تبدیلی لانی ہے، چاہے آپ نے این ایف سی ایواڈ بلانا ہے۔آپ چیف منسٹر بلوچستان کو بلا لیتے ہیں، کے پی کے والے بھی آگئے، لیکن جو دوسرے لوگ ہیں اپوزیشن کے لوگ ہیں ان کو بھی راضی کریں نہیں کریں گے تو یہ ملک کے مفاد میں نہیں ہوگا۔

مجیب الرحمن شامی کا کہنا تھا کہ جو فیصلہ سازی کا طریقہ ہے اور جو ادارے ہیں، ان کا اختیار تو ان سے بھی چھین لیا۔ پہلے اتفاق رائے ان کے اندر تو ہو، اگر ہم دوسرے اتفاق رائے میں الجھ جائیں گے تو کوئی کام ہی نہیں ہوسکے گا۔ بات یہ ہے، وسائل جو ہیں ان میں اضافہ ہونا چاہیے۔ ٹیکس کی بیس بڑھنی چاہیے، صوبوں کو اپنے وسائل پیدا کرنے چاہئیں۔ ایگری کلچر انکم ٹیکس، ایگری کلچر انکم پر کو ئی ٹیکس نہیں خواہ آپ 100 مربعوں کے مالک ہیں، صوبے اپنے وسائل بھی پید اکریں۔ ڈیفنس جو سکیورٹی کے مسائل ہیں ان کو الگ سے ڈیل کیا جائے، اگر وہ اپنے حصے سے نہیں دیتے۔اگر آپ یہ چاہیں آپ اس وقت کراچی میں جو امن وامان قائم کیا ہے، سندھ میں جو ہے قانون کی عملداری ہوئی ہے، تو وہ بھی سکیورٹی فورسز کا کام ہے۔ بلوچستان جو پورے قد سے کھڑا ہے، وہاں جمہوری سٹرکچر موجود ہے وہاں وہ بھی سکیورٹی کی وجہ سے۔ اب بھی ہر روز کوئی نہ کوئی ہمارا جوان شہید ہوتا ہے دہشتگردوں کا مقابلہ ہورہا ہے، تو اس لیے یہ سکیورٹی کا مسئلہ ایک صوبے کا مسئلہ نہیں ہے یہ سب کا مسئلہ ہے۔اس کا حل نکالا جائے، اس کا حل نکل سکتا ہے۔ دوسری بات میں آپ سے یہ کردوں۔ پی ٹی آئی کے دوستوں سے بات ہوتی ہے، پی ٹی آئی کے دوست یہ سمجھتے ہیں اور چپکے چپکے یہ بات بھی کرتے ہیں کہ اتفاق رائے پیدا کرنا ان کی ذمہ داری نہیں ہے یہ ان اداروں کا کام ہے جو براہ راست اس سے متعلق ہیں۔ یہ کوئی اچھی سوچ نہیں ہے۔ ان اداروں پر یہ بوجھ ہمیں ہیں نہیں ڈالنا چاہیے، یہ اداروں کی ذاتی مفاد اس سے وابستہ نہیں۔ یہ قومی معاملہ ہے، اس میں لیڈنگ رول ادا کرنا چاہیے وزیراعظم کو اور وہاں ذمہ داری نہیں ڈالنی چاہیے جو اسے اٹھانے کی دستوری ذمہ داری نہیں رکھتے۔یہ بڑی میں نے آپ کو باریک بات کی ہے، ان کے ذہن میں کیا ہے، وہ سمجھتے ہیں یہ ہمارے ذمہ داری نہیں ہے۔منیر احمد خان نے کہا کہآپ یہاں پولیو کے لیے فوج کو بلاتے ہیں، دہشتگردی کے لیے فوج کو بلاتے ہیں، بلوچستان کے معاملے کو فوج کو بلاتے ہیں، ابھی جو لاک ڈاؤن کے حوالے سے بھی آپ نے فوج کو تعینات کیا۔ مجیب الرحمن شامی نے کہا کہ ہمارے فوجی ادارے ہیں، افواج پاکستان ہے یہ کوئی شوکت خانم ہسپتال ہے یا کوئی ایدھی فاؤنڈیشن ہے کہ چندہ مانگیں عطیات اکٹھا کریں، یہ ہمارے ادارے ہیں، ہمارے محافظ ہیں، ہم جو چین کی نیند سورہے ہیں انہی کی وجہ سے سورہے ہیں، ہم جو سکون کا سانس لے رہے ہیں ان کی وجہ سے لے رہے ہیں، ان کے لہو کی دیواریں کھڑی ہیں ہمارے ارد گرد۔ ہم یہ کام ان کو کیسے سپرد کردیں، یہ خود کام کرلیں گے۔

منصور اعوان:

کورونا کے وار جاری ہیں اور اس دوران اٹھارہویں آئینی ترمیم بھی تبدیلی کا ہنگامہ برپا ہے، وفاقی وزرا کی طرف سے بیانات کے بعد اپوزیشن نے بھی اس کے خلاف بیانات دینا شروع کردیئے لیکن دراصل یہ مسئلہ کیا ہے، کیا واقعی اصل مسئلہ صوبوں اور وفاق کے درمیان مالی وسائل کی تقسیم کا ہے؟ اس سلسلے میں ہاورڈ سے تعلیم یافتہ معروف آئینی ماہر منصور اعوان کا کہناتھاکہ اٹھارہویں ترمیم بھی پاکستان کی آئینی ترمیم کیساتھ جڑی ہے، اٹھارہویں آئینی ترمیم میں بہت سے ایسے موضوعات ہیں جو اس کے بعد صوبوں کے پاس چلے گئے، کچھ امور ایسے تھے   جن پر دونوں وفاق اور صوبے قانون بنا سکتے تھے، اگر جہاں وفاق کا قانون بن چکا تو صوبائی قانون نہیں بن سکتا تھا، اگر صوبوں نے بنا رکھا ہے اور وفاق نے بنا دیا اور اس پر وفاقی قانون بالا تصور ہوگا، مگر جس کا قانون سازی کا ختیار ہے تو انتطامی اختیار بھی اسی کا ہوگا، چونکہ بہت سے ایسے بھی معاملات تھے جہاں قانون سازی، انتظامی اور مالیاتی معاملات بھی تھے، ان کے حوالے سے اقدامات کے لیے فنڈز چاہیں تھے، مالیاتی حصہ بھی اسی لحاظ سے چاہیے تھا،ان کاکہناتھاکہ این ایف سی ایوارڈ میں لکھا ہے کہ ہر پانچ سال بعد صوبے اور وفاق مالی وسائل کی تقسیم پر نظرثانی کریں گے لیکن این ایف سی کے بارے میں اس میں ایک شق ڈال دی گئی کہ سابق این ایف سی سے کم رقم صوبے نہیں لیں گے یعنی ہمیشہ صوبوں کا حصہ ہی بڑھے گا، اسی ترمیم میں صوبوں اور وفاق کو الیکشن کمیشن میں ریفارمز، عدلیہ معاملات پر کوئی اعتراض نہیں، اس خطے کاپہلا قانون گورنمنٹ آف انڈین ایکٹ 1935 دو سال بعد نافذ العمل ہوا اور پھر حکومت اور گورنر جنرل بنے، تمام امور بتا دیئے گئے، ہمارا پہلا آئین 1956 میں بنا اور انڈین قانون کا ہی سہارا لیا گیا۔

اٹھارہویں ترمیم سے پہلے ٹیکسز کا ساٹھ فیصد تقریباً وفاق لیتا تھا اور چالیس فیصد ٹیکس کے  صوبے پیسے لیتے ہیں، اب وفاق کے پاس تینتالیس اور ستاون فیصد صوبوں کے پاس چلا گیا، وفاق کے پاس دو بڑے خرچے دفاعی اور مقامی بینکوں سے قرض اور ان پر لگنے والے سود کی واپسی ہے، وفاق پر پریشر ہے، دفاعی معاملات صوبوں سمیت پورے ملک کے ہیں، فوج کو پیسہ دینا وفاق کے ذمے ہے، بڑے منصوبوں کیلئے قرضے جیسے موٹروے، ڈیم، سی پیک وغیرہ کے خرچے بھی شامل ہیں، یہ دیکھنا پڑے گا کہ صوبے کیا کرسکتے ہیں، اس پر ابھی صوبے تیار نہیں اور بات بھی نہیں کررہے، ہماری سیاسی جماعتیں بھی وفاقی کی بجائے صوبائی جماعتیں بن کر رہ گئیں اور ان کو بھی اس بات کا احساس ہے کہ وفاق کی بجائے صوبے مالی لحاظ سے زیادہ طاقتور ہیں، یہ نقطہ وفاق کیلئے ٹھیک نہیں، سیاسی جماعتیں صوبوں کا اکٹھا کرکے ملکی لیول پر لاتی ہیں، اگر جماعتیں سکڑ کر صوبائی ہوتی جارہی ہیں تو انہیں عوامی مسائل کا اندازہ ہی نہیں ہوگا، اس وقت ترمیم کرتے ہوئے شاید یہ سوچا ہی نہیں گیا۔

اوریا مقبول جان:

پاکستان جب سے بنا ہے، پاکستان کی آئینی جدوجہد بڑی عجیب و غریب قسم کی ہے۔ پہلے تو ہم 1975ء کے ایکٹ کے تحت میدان میں اترے۔ وہی اسمبلی جو 1946ء کی اسمبلی تھی چلتی رہی اور اس اسمبلی کو توڑنے کے لیے آپ نے 1975ء کے ایکٹ کو استعمال کیا، بنیادی طور پر آئین ساز اسمبلی تھی، اس میں بھی ہم 1949ء کے اندر ایک قرار داد مقاصد پاس کر کے خاموش ہوگئے۔ آئین میں پہلی دفعہ سہروردی وغیرہ نے اس بات کو تسلیم کیا کہ ہم نے واقعی دو متحرک قسم کے صوبے جو ایک ہزار میل دور ہیں ان کے ساتھ ہم نے کچھ بات کرنی ہے تو ہم دونوں کو برابر کے طور پر لیں۔ اس وقت تو پانچ صوبے تھے۔

ایوب خان آگئے جنہوں نے ان ساری چیزوں کو ختم کر کے صوبوں کے معاملات ختم کئے، گراس قسم کی روٹ ڈیموکریسی ہوتی ہے وہ بڑی اہم ہوتی ہے۔ گراس روٹ کا نعرہ بھی بہت زبردست ہے۔ کسی قوم کے سر پر کنٹوپ پہنا کر ان کو کہنا کہ تمہارا بہترین کام یہ ہے کہ تم نالیاں بناؤ، پانی سپلائی کرو، ہسپتال بنا لو یہ سارے کام کرتے رہو۔ انہوں نے کہا کہ جب تک آپ کا سیاسی شعور نہ ہو تو یہ گراس روٹ ڈویلپمنٹ بھی ختم ہوجاتی ہے۔ آئین کے اندر ایک کنکرنٹ لسٹ تھی، جس کا مطلب یہ تھا کہ کسی جگہ پر صوبہ کام کرے اور کہیں مرکز،یہ بڑی شاندار قسم کی ڈیبیٹ تھی۔سب سے اہم بات یہ تھی کہ انہوں نے مرکز کے اندر بھی باقی صوبوں کے ساتھ تقسیم کی ایک کیفیت رکھی تھی جسے ہم سی سی آئی بھی کہتے ہیں یہ انہی کے زمانے کی چیزیں ہیں اور انہی کے زمانے سے چلی آرہی ہیں۔ لیکن اس کے بعد ہوا یہ ہے کہ ہم نے چھیڑ چھاڑ کی، جس میں ایک غلطی ان سے ہوئی اور ہم نے اسے اس غلطی کو دہرانا شروع کردیا۔ غلطی ان سے یہ ہوئی کہ جو صدر پاکستان تھا اس کو ایک سائیڈ مونیل کا بندہ بنا کر رکھ دیا اور یوں وزیراعظم کا آفس مضبوط ہوگیا۔ وہ ملک جو مشتعل تھے ایک دوسرے کے ساتھ وہاں تو فوج کی اہمیت اتنی زیادہ ہوگئی کہ ہر ملک کو ہر علاقے کو انہوں نے خوف میں ڈال دیا۔ اسی لیے جن ملکوں نے بھی اپنے ساتھ جنگ کو ختم نہیں کیا وہاں کے فیصلوں میں فوج سب سے زیادہ حاوی رہی۔ہٹلر کے زمانے میں حاوی رہی۔ وزیر دفاع جو برطانیہ کا ہے وہ تو ہوتا فوجی ہے، مستقل چلا آرہا ہے کسی نے کبھی سوال کیا۔ اگر 1977ء کی موومنٹ چلتی رہتی اور فوج جو ہے ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ ہوتی تو یہ تحریک ختم تھی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے اندر جس چیز کو صوبوں میں جانا چاہیے تھا، لوکل میں جانا چاہیے تھا وہ ہم نے مرکز میں بھیج دی۔ مثلاً ڈیزاسٹر مینجمنٹ جو ہے وہ صوبے کے پاس ہونی چاہیے۔ زلزلہ کازیادہ پتہ ہوتا ہے اس علاقے کے مقامی شخص کو، پاکستان میں سیلاب آیا ہے، زلزلہ آیاہے، اب کورونا آیا ہے، پاکستان میں این ڈی ایم اے بنا ہے ہوتا کیا ہے، آپ مرکز کے لیول پراربوں روپے کے ٹرک آتے ہیں، کہاں جانا ہے؟ مٹھی جانا ہے۔ وہاں پر سامان پہنچایا جاتا ہے۔جو ملک اپنی قوم کے ساتھ وفادار ہوجاتے ہیں وہ کیسے ترقی کرتے ہیں۔ ایک ملک ہے جنوبی کوریا، جس وقت ہم ترقی کے معیار پر تھے، 70 کی جو کتابیں ہیں اس میں پاکستان کا نام ڈویلپمنٹ بانڈری کے طور پر کہ ملک کیسے ترقی کرتا ہے۔ جنوبی کوریا میں چار صوبے ہیں۔ کافی دنوں سے اٹھارہویں آئینی ترمیم میں تبدیلی کے حوالے سے گفتگو شروع کی ہوئی ہے، یہ مسئلہ پچھلے سال سے چل رہا ہے، کبھی حکومت اس کو اٹھا دیتی ہے تو کبھی کوئی بات نہیں کرتا،کبھی کوئی کہتا ہے کہ ترمیم میں تبدیلی ہونی چاہے اور کبھی کہتے ہیں کہ نہیں ہونی چاہیے۔ صوبائی خود مختاری کا مسئلہ بہت پہلے، ہر صوبے میں تھا کہ صوبے آزاد نہیں ہیں، ان پر فیڈریشن کی پابندیاں ہیں، ان کے بغیر وہ چل نہیں سکتا۔ یہ ترامیم اس حوالے سے لائی گئی تھیں۔ آج یہ ایشو پیدا ہوا ہے آپ کیا سمجھتے ہیں۔

سہیل وڑائچ نے مکالمہ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پہلی بات تو یہ ہے کہ میں نہیں سمجھتا کہ اٹھارہویں ترمیم پر گفت و شنید نہیں ہوسکتی، یا یہ ناقابل بحث ہے، کیونکہ آئین کے اندر ہمیشہ قوموں نے ترمیم کی ہے، اپنے سانچے میں ڈھالا ہے۔ جہاں تک صوبوں کے اختیارات کا معاملہ ہے، دیکھیں یہ 1940ء سے یہ معاملہ چل رہا ہے۔ جب سب سے پہلے قرار داد پاکستان آئی تو اس میں خاص طور پر یہ لکھا تھا کہ یہ جو ریاستیں ہیں یا صوبوں ہیں یہ خود مختار ہیں۔ چنانچہ جب پاکستان بن گیا اور اس کے بعد سٹیٹس کی بجائے سٹیٹ ہوگیا، ون سٹیٹ ہوگیا۔ تو تب بھی یہ سوال بہرحال یہ رہا صوبوں کی طرف سے کہ ہمیں خود مختاری کا وعدہ کیا گیا تھا وہ پورا نہیں ہوا۔ آپ دیکھیں مشرقی پاکستان شروع سے ہی اس بارے میں زچ کرتا رہا، بالاخردیکھیں کہ مشرقی پاکستان کے ہم سے الگ ہونے کی وجہ بھی سب سے بڑی صوبائی خود مختاری تھی، اور ان کے جو 6 نکات تھے ان میں بھی یہی بات تھی جو کہ اب اٹھارہویں ترمیم میں صوبوں کو خود مختاری دی تھی۔ اسی طرح آپ بلوچستان کی موومنٹ دیکھ لیں، آپ سندھ اورخیبرپختونخوا کی مثالیں دیکھ لیں، سب کے مطالبات میں یہ بات شامل تھیں کہ اگر صوبوں کو آپ خود مختاری دیں تو اس سے بہت مسائل حل ہوں گے۔ چنانچہ جو ایم آر ڈی بنی تھی اس میں بھی صوبوں کی خود مختاری کے بارے میں ایک سپیشل کمیٹی بنی تھی جس نے یہ رپورٹ پیش کی تھی کہ صوبوں کو خود مختاری ملنی چاہیے، لیکن اس پر عمل نہ ہوسکا، پھر جب محتربہ بینظیر بھٹو اور نواز شریف میں میثاق جمہوریت ہوا تو اس میں آپ کا بھی رول تھا، میثاق جمہوریت کے اندر بھی صوبائی خود مختاری کی بات کی گئی تھی۔ اسی کو تواٹھارہویں ترمیم الٹی میٹلی ان کی روشنی میں یہ چیز سامنے آئیں۔ جہاں تک تو صوبوں کو حقوق دینے کی بات ہے تو ساری دنیا میں ڈیوولوشن ہورہی ہے، یعنی اوپر سے اختیارات نیچے آرہے ہیں۔ مرکز صوبوں کو اختیار دے رہا ہے، اور صوبوں جو ہیں وہ نیچے لوکل گورنمنٹ کو اختیار دے رہے ہیں، ابھی پہلی سٹیج یہ ہے کہ صوبوں کو اختیارات ملے ہیں لیکن اب صوبے غاصب بن گئے ہیں، میرا خیال ہے کہ صوبوں سے بھی اختیارات لے کر نیچے لوکل گورنمنٹ تک دئیے جائیں۔ اور جہاں تک یہ بات ہے کہ مرکز غریب ہوگیا ہے، اس پر بھی غور کرنا چاہیے، غریب نہیں ہونا چاہیے۔ اس کے لیے صوبے سپیشل گرانٹس دیں، صوبے جو خاص ضرورت ہے اس کے لیے اپنی ایلوکیشن کریں، تاکہ صوبے بھی تو مرکز کا حصہ ہیں، مرکز چلے گا تو صوبے چلیں گے۔ آپس میں باہمی کنسلٹیشن سے ضرور چلیں، لیکن صوبوں کے اختیار واپس نہ لیں، ایک مسئلہ ہے جو کپیسٹی بلڈنگ ہے اس میں کپیسٹی کم ہے، اور بہت سارا ڈویلپمنٹ بجٹ جو ہے وہ خرچ نہیں ہوپاتا، بہت ساری چیزیں جو ہیں وہ سنٹرل کوئی اچھی چلاتا تھا وہ اچھی نہیں چل رہیں، سلیبس کا مسئلہ ہے، تعلیم کا کچھ مسئلہ ہے، صحت کے کچھ مسائل ہیں۔ تو ہمیشہ یہ ہوتا ہے کہ آپ کو ایک قانون میں مشکل آجاتی ہے تو اس سے نیا قانون بنائیں۔

منیر احمد خان:

ملک کے حالات ہیں، اس بات میں کوئی شک نہیں کہ آئین میں کوئی بھی تبدیلی کرنا چاہتے ہیں تو اس کے لیے طریق کار موجود ہے، تبدیلی ہوتی رہنی چاہیے، صوبوں کے اختیار کے حوالے سے بھی ہو، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ 2010ء میں یہ ترمیم آئی ہے، او ر2010ء سے لے کر اس کے بعد 2013ء میں الیکشن ہوا، 2013 کے بعد 2018ء میں الیکشن ہوا۔ آپ نے 2018ء کے الیکشن میں آپ کے مینوفیسٹو میں اٹھارہویں ترمیم میں تبدیلی تو شامل نہیں تھی۔ آپ نے دھرنا دیا اسلام آباد میں، دھرنے میں آپ کا مطالبہ نہیں چاہیے، آپ اس ایشو کو ریس کر کے نہیں سامنے آئے، کہ میں آؤں گا اور اٹھارہویں ترمیم میں تبدیلی لاؤں گا۔دوسری بات یہ ہے کہ آج ملک کے حالات دیکھیں کہ پاکستان سمیت ملک میں کورونا ہے، اور دوسری طرف ہمارے بارڈرز کی صورتحال دیکھیں کہ انڈیا کا ہمارے ساتھ کیا سلوک ہورہا ہے، افغانستان کا ایشو چل رہا ہے، کشمیر کا ایشو ہے۔ اس ساری صورتحال میں اس کو آپ دیکھیں کہ کیسے ہونا چاہیے تھا اور کیوں ایسے ہے؟

سہیل وڑائچ:

اٹھارہویں ترمیم کے بعددس سال تک خاموشی رہی، میں خود وزیراعظم عمران خان صاحب سے یہ بات سن چکا ہوں کہ میثاق جمہوریت کے بعد اب ملک میں مارشل لاء لگنا مشکل ہوچکا ہے۔ گویا میثاق جمہوریت حالانکہ وہ سیاسی جماعتوں کے درمیان تھا، It Was Not a National Consenses Acord۔ لیکن اس کا بھی اثرہوا اور ہوتا ہے، جیسے میں نے کہا ایم آر ڈی کی ایک کمیٹی بنی تھی، بظاہراس کی کوئی سرکاری حیثیت نہیں ہے لیکن اس کا بھی اثر ہوا۔ چنانچہ ٹرینڈ یہ تھا نیشنل لیڈر شپ میں کہ بھئی صوبوں کو جو 10 سال کی کنکرڈ لسٹ تھی 1973ء کے آئین میں وہ بہت لیٹ ہوچکی، چار دہائیاں اس کا انتظار ہوچکا تو صوبوں کو اختیارات ملنے چاہئیں۔جہاں مشکلات پیش آرہی ہیں، جیسے سلیبس میں مشکل آرہی ہے، کہ صوبے اپنے اپنے سلیبس بنائیں اور اگر سلیبس بنائیں گے تو آپ کی نیشنل آئی ڈینٹٹی ہے کہیں وہ تو متاثر نہیں ہوگی۔ اس کو بیٹھ کر طے کرلیں۔ میری نظر میں موجودہ گورنمنٹ نے اس نے کافی پراگرس کی ہے سلیبس کے معاملے میں، شفقت محمود صاحب نے، اسی کو آگے مثال بنائیں۔صحت کے بارے میں ہے، اس کی بھی گنجائش موجود ہے، اس کی بھی بات ہوسکتی ہے۔ شیخ زاید ہسپتال ایک دفعہ صوبے کو آیا ہے، ایک دفعہ واپس گیا ہے، پھر آیا ہے۔ گنجائش تو موجود تھی اسی قانون میں۔ اسی طرح کراچی کا ایک ہسپتال ہے اس کا بھی یہ معاملہ ہے۔ بنیادی بات یہ ہے کہ گنجائشیں موجود ہیں اور اس کو ہمیں اپنی سہولت کے مطابق جس سے صوبوں کے اختیارات متاثر نہ ہوں اور ورکنگ بہتر ہو وہ کرنا چاہیے اور جہاں تک آپ بات کررہے ہیں کہ سیاسی جماعتیں آئین کو سنجیدگی سے لیں۔ جتنی آئین کے اندر ترامیم ہیں ان کی پہلے سے لوگوں سے صلاح مشورہ کرنا چاہے۔ ہمارے ہاں پہلے سے یہ تھا کہ ہم آپ قانون ساز اسمبلی ہوتی تھی اور کانسٹیٹیوشن اسمبلی الگ ہوتی تھی۔ پہلے آپ کہتے تھے کہ آپ آئین کے اندر تبدیلیاں چاہتے ہیں تو آپ آئین ساز اسمبلی کا ووٹ دیں۔ اب تو بھئی الیکشن اس بنیاد نہیں ہوا ہوگا نہ پچھلا ہوا ہوگا۔ بنیادی طور پر آئین میں تبدیلی کا حق عوامی اکثریت کا حق ہے۔ عوام سے تو آپ نے اس بارے میں پوچھا تک نہیں ہے۔

منیر احمد خان:

یہ بہت بڑا اعتراض کیا جاتا ہے کہ 2010ء میں اٹھارہویں ترمیم لائی گئی اس کی پبلک ڈیبیٹ نہیں کروائی گئی آپ نے اس پارلیمنٹ میں ڈیبیٹ نہیں کروائی اور اس میں ترمیم کردی۔

سہیل وڑائچ:

یہ درست ہے، لیکن انہوں نے سلیکٹ کمیٹی بڑی لمبی پارلیمانی کمیٹی بنائی، 26 بندے تھے۔ بڑا لمبا پراسیس چلا، ایک ایک شق پر بحث ہوئی۔ لیکن اس وقت کی دو بڑی سیاسی جماعتیں تھیں وہ سمجھیں پورے ملک کا کنسینسس تھا۔سارے شامل تھے۔

منیر احمد خان:

پبلک ڈیبیٹ کی اپنی اہمیت ہے، پارلیمنٹ میں جب تک بحث نہیں کرتے یہ خرابیاں سامنے نہیں آتیں، یہ اس میں ایک بڑا اعتراض کیا جاتا ہے کہ آج جب اس پر بات کرنے کی ضرورت پڑرہی ہے توآپ نے فرمایا کہ تبدیلی کسی وقت بھی کرسکتے ہیں۔ آپ جیسے دانشور اس پر بات نہیں کرسکتے، مشورہ نہیں کرسکتے تو اس میں کافی کمی رہ جاتی ہے۔

سہیل وڑائچ:

چونکہ ہمیں اس پراسیس کا پتہ نہیں ہے، یہ کیسے ہوا، ہوسکتا ہے انہوں نے ایکسپرٹس بلا کر ان کی پینل لی ہو۔ مجھے یہ پتہ ہے جو میری نظر پڑی جب 1973ء کا کانسٹیٹیوشن بنا ہے اس کانسٹیٹیوشن کی بیک گراؤنڈ میں جو ڈیبیٹس ہوئی ہیں وہ بھی موجود ہیں۔ ان کی کاپیاں مل سکتی ہیں، میں نے دو چار کاپیاں دیکھی ہیں۔ اس کے بیک گراؤنڈ میں بہت ڈیبیٹ ہوئی ہے ایکسپریٹس کی۔

منیر احمد خان:

اس میں نہیں ہوئی، 26 باضابطہ ممبرز تھے، جس کا سپیکر نے نوٹیفکیشن دیا، 8 لوگوں کو انہوں نے معاونت کے لیے بلایا وہ بھی سیاسی جماعتوں کے تھے۔ نام ریکارڈ پرموجود ہیں۔

سہیل وڑائچ:

رضا ربانی بہرحال پارلیمنٹ میں سب سے بڑا لیگل مائنڈ رہا ہے۔ مجھے پتہ ہے نواز شریف تو کم از کم اس شق میں انوالو تھے، زرداری صاحب بھی انوالو تھے، گیلانی صاحب بھی انوالو تھے۔ میرا خیال ہے کہ ہم اس پراسیس کی، اس کی ساکھ پر نہ جائیں۔ اگلا مرحلہ یہ ہے کہ جو ڈیفیکلٹی آرہی ہے اس کو سامنے لائیں۔ اگر اس 80 کے 80 آرٹیکلز کو چیلنج کریں گے تو پھر تو مسئلہ پید اہوگا۔

منیر احمد خان:

مشکلات جو آج ہیں اس کو سامنے لائیں۔ آپ سے گزارش کررہا تھا کہ تحریک انصاف کے منشور میں نہیں تھا، دھرنے میں یہ مطالبہ تو نہیں رکھا تھا؟

سہیل وڑائچ:

بعض چیزیں تو ایسے ہوتی ہیں کہ تاریخ کا قدم آگے بڑھ جاتا ہے تو ہم پیچھے جا کر جو پیچھے رہ جانے والی گرد ہے اس کو چن کر مسئلہ حل نہیں کرسکتے۔ مثلاً جیسے مثال ہوئی کہ 1940ء کی جو قرارداد ہے وہ جلسہ عام میں منظور ہوئی۔ لیکن جو سٹیٹ سے سٹیٹ بنائی گئی وہ مسلم لیگ کی پارلیمانی پارٹی میں بنائی گئی۔ اب یہ بہت بڑا انحراف تھا مسلم لیگ کے کانسٹیٹوشن سے اور بنگالی اس پر چیختے رہے۔ یہ تاریخ کی ایک گرد ہے، اگر ہم اس گرد کو چھانیں گے تو کچھ ہاتھ نہیں آئے گا۔ سوال یہ تھا کہ جب یہ ہوگیا تو بعد کی صورتحال کو ٹیکل کیا جائے۔

(بقیہ اندرونی صفحات پر)

اب بھی میری گزارش یہ ہے کہ پہلی غلطیاں بھی ہوئی ہیں کہ تاریخ کی گرد چھاننے یا اس کو سنبھالنے یا اس کو چھالنے کی بجائے، سوال یہ ہے کہ جہاں مشکل ہے اس کو ٹھیک کرلیں۔

منیر احمد خان:

آپ نے بات شروع کردی ہے، اس کے باوجود آپ انیشیٹو لے نہیں رہے، آپ ڈائیلاگ کرنہیں رہے، سوچ کیا ہے حکومت کی؟ آپ آگے بھی نہیں بڑھ رہے اور آپ نے چھیڑ خانی بھی شروع کردی ہے۔

سہیل وڑائچ:

میرا خیال ہے کہ اس پر سنجیدہ بحث جو ہے این ایف سی، وسائل کی ہے، وسائل کی تقسیم کیسے ہو؟ سب سے اہم بات تو یہ ہے، باقی تو فروئی باتیں ہیں میرا نہیں خیال کہ صوبوں کو بی اس پر شدید اختلاف ہو۔لیکن اس بات پر بحرحال ضرور بحث طلب ہے، بڑی دیر سے یہ چل رہا تھا، آپ جو صوبوں کو وفاق سے زیادہ دیں۔ تاکہ صوبوں کی ترقی ممکن ہوسکے، اس میں ایک غلطی یہ ہوئی کہ صوبوں کے اندر کپیسٹی نہیں ہے، اس کا حل یہ ہے کہ صوبوں کے اندر کپیسٹی ڈویلپ کی جائے، پہلے آپ نے فیڈریشن کے لیول پر کپیسٹی ڈویلپ کی ہوئی ہے تو اس کو صوبوں کے لیول پر کریں، صوبوں کے چیف ایگزیکٹو ایسے لائیں جو صوبے کو ایفیکٹولی چلاسکیں۔ اگر آپ صوبوں کے چیف ایگزیکٹو ایسے لائیں کہ جو صرف ڈمیز ہوں تو پھر تو صوبے نہیں چلیں گے، اب صوبہ بھی ایک کارپوریشن کی طرح کا یونٹ ہے، جس کی آمدنی اور اخراجات کو کنٹرول کرنا ہے، اس کی ڈویلپمنٹ ایسی کرنی ہے کہ اس کی آمدنی کے مطابق ہو۔ ایک طرح سے فائنانشل ایگزیکٹو کی بھی آپ کو ضرورت ہے صوبوں کے اندر اب اس کے مطابق آپ بنائیں، صوبیں آپ نے خود مختار کردئیے، ان کو پیسے بھی دے دئیے، اب اس کے مطابق آپ کپیسٹی بھی دیں۔

یہی مسئلہ ہمیں جنرل مشرف کا جو لوکل گورنمنٹ سسٹم تھا اس میں بھی سامنے آیا، اس میں نیچے ڈیوروشن تو کردی گئی، پیسے بھی دے دئیے گئے۔ کپیسٹی نہیں تھی، وہاں پلانر کوئی نہیں تھا، تحصیل لیول پر، ڈسٹرکٹ لیول پر، پیسے استعمال کیسے ہوں۔سارا معاملہ جو تھا اس کا امپیکٹ ہونا چاہیے تھا نہیں ہوا۔صوبے نئے ڈکٹیٹر نہ بنیں۔ صوبوں نے سارے وسائل قبضے میں لے لیے، ان کو نیچے شفٹ کریں ڈسٹرکٹس میں، ڈسٹرکٹس اور نیچے شفٹ کریں۔میں جرمنی گیا، جرمنی میں میرے ویزے کی مدت ختم ہوگئی، میں پریشان ہوا، اپنے کزن کے پاس ٹھہرا ہوا تھا، میں نے کہا کہ اب تو جانا پڑے گا برلن یا کیپیٹل سے مہر لگوانی پڑے گی۔ وہ ہنستا رہا میری بات سن کر۔ ایک دن رہ گیا تو کہتا تیا رہوں چلیں جی۔ تو اسی شہر میں جو ایک بہت چھوٹا سا گاؤں تھا، وہاں ہم گئے، وہاں کارپوریشن کا آفس تھا وہاں ایک امیگریشن والا بندہ بھی بیٹھا تھا اور اس نے ویزے کی پٹی لگائی اور میرا ویزہ میں توسیع کر دی اور مجھ سے فیس لے لی۔

منیر احمد خان:

وہ تو آرمی چیف کے معاملے پر جو ایکسٹیشن پر ہے ساروں نے اکٹھے مل کر، آج تاثر یہ ہے کہ آپ نے کہا حکومت آگے بڑھے۔ حکومت اس لیے نہیں بڑھی کہ جو سٹیک ہولڈرز ہیں وہ خود ہی کروالیں گے، شیخ رشید نے شاید اس طرح کے بیانات دئیے ہیں۔

سہیل وڑائچ:

ان کا یہ کام نہیں ہے، ان کی خواہش تو ہوسکتی ہے، جس کا جو کام ہے وہ کریں، یہ مقننی کا کام ہے، یہ پارلیمانی پارٹیوں کا کام ہے، میرا خیال ہے کہ ان کو سمجھ آجائے گی جب مشکلات بڑھیں گی۔ جو سنجیدہ قانون سازی ہوئی ہے آرمی چیف والے میں اس میں بھی آپ کو پتہ ہے کہ گورنمنٹ کا رول کم اور دوسرے فریق جو ریاست کے ان کا زیادہ تھا۔

منیر احمد خان:

فوج کو وسائل کی ضرورت ہے، فوج کے معاملات چل نہیں رہے، کورونا میں آپ کو ضرورت پڑی فوج کو بلا لیا، آپ کو زلزلہ میں ضرورت پڑی آپ نے فوج کو بلا لیا، وسائل پر بات کرنے کے لیے آپ تیار نہیں نہیں۔ ذمہ داری کون لے؟

سہیل وڑائچ:

ذمہ داری تو گورنمنٹ کی ہے۔ میرا خیال ہے کہ سیاستدان ابھی سیاست سیکھ رہے ہیں، میچور سیاستدان نہیں ہیں، میچور سیاستدان ہمیشہ آئین کی بات کرتے ہیں، ترامیم کی بات کرتے ہیں، لیجسٹریشن کی بات کرتے ہیں۔ بھٹو آئے، پہلا بڑا سیاستدان آیا آئین بنایا، 1988ء میں بینظیر آئیں، آئین کے اندر ترامیم ہوئیں۔ جمہوریت دوبارہ آئی تو آئین کے اندر سب سے پہلے ترامیم کی ہیں۔ آئین ضابطہ حیات ہے، آئین ملک کو چلاتا ہے۔

منیر احمد خان:

اس پر بحث ہورہی ہے، کیا ایسا نہیں ہے کہ یہ سیاسی پارٹیوں کا، یا فرض ہے کہ اس کو دیکھیں جو وسائل ہیں۔ مثلاً فوج کا مسئلہ ہے، فوج کے وسائل میں کمی ہے، قرضے جو ہیں، صوبے بھی اس کا حصہ ہیں اگر قرضے لیے ہیں۔

سہیل وڑائچ:

سیاسی جماعتوں کا تو کام ہی ہے کہ سیاسی شکل دینا، اور خاص کرقانون سازی سیاسی جماعتوں نے کرنی ہے، پارلیمانی پارٹیوں نے کرنی ہے۔ آپ سہولیات فراہم کریں اور وسائل کو حل کریں۔ دنیا میں جو اچھے ماڈل ہیں وہ پارلیمنٹ کے زیادہ سے زیادہ اجلاس مقرر کرتے ہیں۔ ان کے اجلاس ہوتے ہیں،جہاں قانون سازی ہوتی ہے۔ایک ایک چیز کو سٹڈی کر کے، سی پی سی آر سی ہے کیا اس کی پوری سٹڈی ہوئی ہے کبھی، اس کے ریویو جو لارڈ میکالے نے بنایا تھا ابھی تک وہ چل رہاہے۔ آپ کا ایجوکیشن سسٹم جو ہے، ایجوکیشن پالیسی کیا آئی ہے؟ ہیلتھ پالیسی کیا ریوائز ہوئی ہے؟

ان چیزوں کی قانون سازی نہ ہو بار بار ہر گورنمنٹ کو کرنی چاہیے، ان پر سٹڈی کرنی چاہیے۔ اسی لیے قومی اسمبلی ہوتی ہے، اسی لیے صوبائی اسمبلیاں ہوتی ہیں۔

مزید :

ایڈیشن 1 -رائے -