ایس ایم ایز کو نظر انداز کرنے سے ملک کبھی ترقی نہیں کریگا: بزنس فورم

  ایس ایم ایز کو نظر انداز کرنے سے ملک کبھی ترقی نہیں کریگا: بزنس فورم

  

لاہور(سٹی رپورٹر)پاکستان بزنس فورم کے صدر اور ایف پی سی سی آئی کی قائمہ کمپٹی برائے ٹیکسٹائل کے سابق چئیرمین صاحبزادہ میاں عثمان زولفقار نے کہا ہے کہ ایس ایم ایز کو نظر انداز کرنے سے ملک کبھی ترقی نہیں کرے گا۔ جاپان جنوبی کوریا چین سنگاپور اور دیگر درجنوں ممالک نے ایس ایم ای کے شعبہ کو توجہ دے کر ترقی دی ہے مگر پاکستان میں صورتحال مختلف ہے۔ ملک میں زیادہ تر پیداوار روزگار اور برامدات ایس ایم ایز کر رہی ہیں مگر پالیسی ساز انھیں مسلسل نظر انداز کر کے بڑے بزنس گروپس کی فلاح و بہبود میں مگن رہتے ہیں۔مرکزی بینک دعوے تو بہت کرتا ہے مگر چھوٹے اور درمیانے درجہ کے کاروبار کو ہمیشہ نظر اندازاور بڑے گروپس کو فوائد پہنچانے کی فکر میں لگا رہتا ہے جس سے ملکی معیشت ترقی نہیں کر پاتی۔صاحبزادہ میاں عثمان زولفقار نے مختلف تجارتی تنظیموں کے نمائندوں سے زوم پربات چیت کرے ہوئے کہا کہ کرونا وائرس کی وبا سے معیشت کی تباہی کے باوجود سٹیٹ بینک آف پاکستان نے اپنی روش نہیں بدلی جس کے دیکھا دیکھی کمرشل بینک بھی ایس ایم ایز کو نظر انداز کر رہے ہیں جس سے اس شعبہ کی کمر ٹوٹ گئی ہے۔انھوں نے کہا کہ مرکزی بینک ایس ایم ایز کے لئے مختص فنڈز میں سے بڑے بزنس مینوں کو جن کے کاروبار کا ٹرن اوور اربوں روپے میں ہے قرضے جاری کرتا ہے اور بعد میں حکومت اور عالمی مالیاتی اداروں سے غلط بیانی کرتا ہے۔ بینکوں کے عدم تعاون کی وجہ سے چھوٹے کاروبار کے لئے جاری کردہ ری فنانس سکیم ناکام ہو رہی ہے جس کا نوٹس لیا جائے۔ مرکزی بینک بتائے کہ ایس ایم ایز کو نظر انداز کرنے والے بینکوں کے خلاف کیا کاروائی کی گئی ہے اور مستقبل میں انھیں قرضے دینے کا پابند کرنے کا کوئی منصوبہ بنایا گیا ہے یا نہیں۔

نھوں نے سٹیٹ بینک کی طرف قرضوں کے بارے میں جاری کردہ حالیہ رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ چھوٹے اور درمیانے درجہ کے کاروباری افراد کو روزگار سکیم کے تحت خصوصی ریلیف دیا جائے تاکہ وہ موجودہ بحران سے نمٹ سکیں۔ انھوں نے کہا کہ مرکزی بینک کا یہ رویہ ایس ایم ایز تک محدود نہیں بلکہ زراعت کے شعبہ کے لئے بھی منفی پالیسی پر عمل درامد کیا جاتا ہے اور اکانوے فیصد سے زیادہ قرضے صرف ایک صوبے کو دئیے جاتے ہیں جبکہ باقی تین صوبوں اور گلگت بلتستان کو نو فیصد میں گزارہ کرنا پڑتا ہے جو زرعی خودکفالت اور فوڈ سیکورٹی کے حصول میں بڑی رکاوٹ ہے۔

مزید :

کامرس -