دلنواز خان کیس میں حکم امتناعی‘ پیشی آج ہو گی

  دلنواز خان کیس میں حکم امتناعی‘ پیشی آج ہو گی

  

بنوں (تحصیل رپورٹر) بنوں سے تعلق رکھنے والے گومل یونیورسٹی کے الحاج دلنواز خان کیس میں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ سیشن جج کی عدالت نے ان کو حکم امتناعی دے دیا ہے اگلے پیشی آج 22 جون کو ہوگی دلنواز خان کے ترجمان نے مقدمہ کی تفصیلات بتاتے ہوئے بتایا کہ گومل یونیورسٹی سنڈیکیٹ کی میٹنگ101 کے ایٹم نمبر 1پر ہونے والا فیصلے بدنیتی پر مبنی ہیں جس کے خلاف مدعی نے 11 جون 2020 کو سول? کی عدالت حکم امتناعی کے لیے رجوع کیا کہ سنڈیکیٹ کے فیصلے کے ساتھ جو دستاویزات لف کییگئے ہیں ان پر مختلف فورم پر تحقیقات اور انکوئریاں ہو چکی ہیں جن میں سپریم کورٹ نیب گورنر انکوائری کمیٹی اور یونیورسٹی سنڈیکیٹ مختلف اوقات میں فیصلہ دے چکی ہیں مزید کہ نجی محفل میں شرکت کے متعلق سکیورٹی افسر کی رپورٹ کو بھی لف کیا گیا تھا جس کی قانونی حیثیت کوئی نہیں ہے اور جب مدعی نے سول جج? کی عدالت میں حکم امتناعی کے لیے اپیل دائر کی تو معزز عدالت نے حکم امتناعی دینے کی بجائے نوٹس کیا واضح رہے کہ اسی معزز عدالت نے سنڈیکیٹ کے آئٹم نمبر 3 کے مطابق اسسٹنٹ پروفیسر عارف بلوچ کو حکم امتناعی جاری کیا تھا بعد ازاں مدعی کے وکیل نے سول جج? کی عدالت کے فیصلے کے خلاف ایڈیشنل ڈسٹرکٹ سیشن جج کی عدالت سے رجوع کیا جس پر معزز عدالت کے فاضل جج نے یونیورسٹی اتھارٹی کو حکم دیا آج کی سنڈیکیٹ کی میٹنگ میں مدعی پر جو کوئی متعصبانہ کاروائی کا فیصلہ ہوا ہے اس پر عمل درآمد نہ کیا جائے اس کے بعد 13 جون کی پیشی مقرر کی گئی بعد ازاں اس میں توسیع کر کے 15 جون کو پیشی مقرر ہوئی جس کے بعد 17 جون کو دونوں فریقین کے وکلا نے وکالت نامہ جمع کیے اور بحث کے لیے 19 جون کی پیشی دی گئی جس پر دونوں فریقین کے وکلا نے بحث کی اور 20 جون کو ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج نے حکم امتناعی کنفرم کرتے ہوئے تین صفحات پر مشتمل فیصلہ سنایا اور دوبارہ جانچ پڑتال کے لیے سول جج کی عدالت کو بھجوا دیا گیا جس کی اگلی پیشی 22 جون مقرر کی گئی ہے واضح رہے کہ سنڈیکیٹ کی میٹنگ کے فیصلوں کے خلاف ایڈیشنل ڈسٹرکٹ سیشن جج کی عدالت سے حکم امتناعی کنفرم ھونے کے بعد وائس چانسلر گومل یونیورسٹی کی طرف سے سنڈیکیٹ میں کیے گئے فیصلے عدالتی فیصلہ آنے تک معطل رہیں گے عجلت میں کیے گئے اس طرح کے متعصبانہ فیصلوں کے بعد گومل یونیورسٹی ایک بار پھر سکنہ کچہری بن گئی ہے علاوہ ازیں حیرت کی بات یہ ہے کہ دلنواز خان کے پچھلے چھ سالوں کی کارکردگی اسکا کا منہ بولتا ثبوت ہے سابقہ وائس چانسلر میجر جنرل ریٹائرڈ حامد رفیق نے اسکی۔ اکر میں لکھا تھا کہ اگر گومل یونیورسٹی میں اگر کوئی شخص رجسٹراری کے لئے موزوں ہے تو وہ یہی شخص ہے جو ادارے کو ترقی اور استحکام کی راہ پر گامزن کر سکتا ہے الحاج نواز خان کی سروس کے دوران چار وائس چانسلر گزرے ہیں جنہوں نے اس قسم کی تعریفی جملے ان کی ACR میں لکھے ہیں جبکہ پروفیسر ڈاکٹر محمد سرور چوہدری نے ان کی بہترین خدمات پر دسمبر 2019 میں انکو 21 گریڈ دیا تعجب اس بات پر بھی ہے کہ اچانک ایک مہینے یعنی جنوری میں ایسا کیا ہوا کہ الحاج نواز کی کارکردگی خراب اور وہ یونیورسٹی کی تباہی اور بربادی کا باعث بن گیا تیس سالہ سروس کے دوران گومل یونیورسٹی کی بہتری کے لیے گراں قدر خدمات سر انجام دیں مگر انعام کی بجائے اس کی تذلیل اور اس کی ذات پر انگلیاں اٹھائی جارہی ہیں جو کہ ناانصافی ہے الحاج دلنواز خان کی نوکری سے برخواستگی کی وجہ وہ نجی محفل۔ ہے جس پر سیکورٹی افسر کی رپورٹ کو بہانہ بنایا گیا ہے حالانکہ اس محفل میں یونیورسٹی کے23 سے زائد افسران اور دیگر ملازمین شریک تھے جس میں سے چند ایک کو انتقامی کارروائی کا نشانہ بنایا گیا باقی خوشامدی لوگوں کو نظر انداز کرکے ان کو صرف وارننگ دی گئی ہے جو کہ کونسے E&D کے رولز میں لکھا ہوا ہیایک دلنواز شرکت کریتو بغیر کسی جواب طلبی کے سزا نوکری سے برخواستگی ہوگی جب کہ دیگر چہیتے شرکت کریں تو سزا صرف وارننگ ہوگی

مزید :

پشاورصفحہ آخر -رائے -