بینظیر بھٹو کی 67ویں سالگرہ، ملتان سمیت مختلف شہرو ں میں تقریبات

بینظیر بھٹو کی 67ویں سالگرہ، ملتان سمیت مختلف شہرو ں میں تقریبات

  

ملتان،خانیوال(نمائندہ خصوصی،بیورونیوز) پیپلز پارٹی انسانی حقوق ونگ کے زیراہتمام چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی ہدایت کی روشنی میں چیئرپرسن سابق وزیراعظم محترمہ بینظیر بھٹو کی 67ویں سالگرہ کی سادہ (بقیہ نمبر39صفحہ6پر)

تقریب کورونا صورتحال میں ایس او پیز کو مدنظر رکھتے ہوئیچوک ڈبل پھاٹک پر تقریب منعقد ہوئی اس موقع پر سالگرہ کا کیک کاٹا گیا اور کیک کاٹنے کے بعد پاکستان سمیت دنیا بھر سے کورونا کے خاتمہ کے لیے اور کورونا سے جابحق ہونے والے افراد کے لیے دعا کی گئی اور کورونا مریضوں کی جلد صحتیابی کے لیے دعا کی گئی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سلیم الرحمن میو،مغیث شہزادہ بھٹو نے کہا کہ سازش کے تحت بھٹو خاندان کو راستے سے ہٹایا گیا اور آج بھی پیپلز پارٹی کو سازشوں کی بھینٹ چڑھانے کی کوشش کی جارہی ہے سندھ میں پی پی پی حکومت کو ناکام بنانے پیپلز پارٹی قیادت کے خلاف مقدمات میڈیا ٹرائل کرکے پیپلزپارٹی کو پس پشت ڈالنے کی کوششیں جاری ہیں مگر شہیدوں کی پارٹی کو ختم نہیں کرسکتے آمروں سے لڑنیوالے کارکنوں کو جھکایا نہیں جاسکتا تقریب میں ملک ظفر اقبال اعوان، اعجاز بھٹی، رانا عتیق احمد،نزیر کاٹھیا،ملک عروش اعوان دیگر شریک تھے۔پاکستان پیپلزپارٹی ملتان سٹی کے صدر ملک نسیم لابر، جنرل سیکرٹری اے ڈی بلوچ، ڈپٹی سیکرٹری انفارمیشن و انچارج میڈیا سیل خواجہ عمران، سینئر نائب صدور میاں منظور قادری و ساجد بلوچ و دیگر عہدیدران نے مشترکہ بیان میں کہا کہ محترمہ بے نظیر بھٹو ایک عہد ساز شخصیت تھیں انکی 67 ویں سالگرہ کے موقع پر کورونا جیسی صورتحال کے پیش نظر جیالے کیک تو نہیں کاٹ رہے لیکن ہم انکو آج کے دن خراج تحسین پیش کرتے ہیں شھید جمہوریت محترمہ بے نظیر بھٹو ساری زندگی پاکستان کی ترقی و فلاح کیلئے جمہوری سفر پر گامزن رہیں انکے راستے میں غیر جمیوری قوتوں نے کانٹوں کے جال بچھائے لیکن شھید جمہوریت محترمہ بے نظیر بھٹو گھبرائی نہیں وہ ڈٹی رہیں کیونکہ وہ عوام کے بنیادی حقوق کی جنگ جمہوری روایات کو مد نظر رکھ کر لڑ رہی تھیں آخر اسی راستے پر چلتے چلتے وہ جان کی بازی ہار گئیں لیکن شھید جمہوریت محترمہ بے نظیر آج بھی پیپلزپارٹی کے ہر جیالے ہر ورکر ہر عہدیدار اور تمام عوام کے دلوں میں زندہ ہے موجودہ ملکی صورتحال دیکھ کر شھید جمہوریت محترمہ بے نظیر بھٹو کی کمی شدت سے ہر پاکستانی محسوس کر رہا ہے کیونکہ موجودہ نااہل و نالائق وزیراعظم عمران خان نے ملک کو معاشی طور پر تباہ و برباد کر دیا ہے رہی سہی کسر موجودہ وفاقی بجٹ نے پوری کر دی ہے اس بجٹ نے مزدوروں،کسانوں، نوجوانوں سرکاری ملازموں غرض ہر پسے ہوئے طبقہ کے سر پر مایوسی و ناکامی کے بادل منڈلا دئے ہیں عوام مہنگائی بے روزگاری کی وجہ سے خود کشیاں کر رہی ہے لیکن حکمران ٹولہ خواب خرگوش میں سب اچھا ہے کا لاگ آلاپ رہا ہے پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری جو کہ والدہ اور نانا کے نقش قدم پر چلتے ہوئے عوامی سیاست کر رہے ہیں بلاول بھٹو زرداری جب اس نااہل حکمران ٹولہ کو عوام کے حقوق یاد دلاتے ہیں تو عمرانی ٹولہ کے عوام دشمن عناصر بوکھلاہٹ میں چیخ و پکار شروع کر دیتے ہیں کیونکہ یہ جان گئے ہیں کہ عوام کا مسیحا اس وقت بلاول بھٹو زرداری ہے اور پاکستان کو بچانے کا واحد حل یہی ہے کہ بلاول بھٹو زرداری جیسے عوامی لیڈر کے ہاتھوں میں جمہوری طریقوں سے ملکی باغ دوڑ دی جائے اور عوام اس کیلئے بالکل تیار ہیں وہ چاہتے ہیں کہ جلد نئے شفاف انتخابات ہوں اور پیپلزپارٹی بر سر اقتدار آئے اور بلاول بھٹو زرداری وزیراعظم بن کر ملک و قوم کو ترقی کے سفر پر گامزن کریں۔دریں اثنائمسلم دنیا کی پہلی خاتون وزیراعظم شہید بے نظیر بھٹو کی 67 ویں سالگرہ منائی گئی جس میں سینئر سٹی صدر چاچا نذیر نانک پوریا، شیخ شاہد، شیخ اسماعیل، توصیف کاکا، راجہ ممتاز، ارشاد گادھی ودیگر سیاسی شخصیات کی شرکت کی۔اس موقع پر ارشاد گادھی نے کہا کہ 1988 میں بے نظیر بھٹو اسلامی دنیا کی پہلی خاتون وزیراعظم منتخب ہوئیں،آپ نے مزید کہا کہ سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو 21 جون 1953 کو کراچی میں ذوالفقارعلی بھٹو کے گھر پیدا ہوئیں۔ برطانیہ اور امریکا میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ ابھی تعلیم مکمل ہی کی تھی بینظیر بھٹو 18 اکتوبر 2007 کو وطن واپس پہنچیں تو کراچی میں ان کے قافلے پر خودکش حملہ ہوگیا جس میں وہ بال بال بچیں۔تاہم 200 سے زائد افراد جاں بحق ہوگئے۔ پہلے حملے کے ٹھیک 2 ماہ 9 دن بعد 27 دسمبر 2007 کو راولپنڈی کے لیاقت باغ میں ان پر دوسرا حملہ ہوا جس میں بی بی جانبر نہ ہوسکیں اور اپنی جان، جاں آفریں کے سپرد کر گئیں۔

س

مزید :

ملتان صفحہ آخر -