وسیب کی غربت، بے روزگاری ختم کرنے کیلئے صنعتی ترقی ضروری، شیخ احسن رشید

  وسیب کی غربت، بے روزگاری ختم کرنے کیلئے صنعتی ترقی ضروری، شیخ احسن رشید

  

ملتان(سٹی رپورٹر)وسیب کی غربت، پسماندگی اور بیروزگاری کے خاتمے کیلئے صوبے کا قیام اور صنعتی ترقی ضروری ہے۔ ان خیالات کا اظہار پاک اٹالین بزنس ایسوسی ایشن کے صدر، شمع بناسپتی اور وز واش بنانے والے ادارے حفیظ گھی اینڈ جنرل ملز کے چیف ایگزیکٹو شیخ احسن رشید نے سرائیکستان قومی کونسل کے صدر ظہور دھریجہ سے ملاقات کے دوران کیا۔ (بقیہ نمبر32صفحہ6پر)

انہوں نے کہا کہ سب سے پہلے میں معروف ماہر لسانیات پروفیسر شوکت مغل کی تعزیت کرنا چاہتا ہوں کہ ان جیسے لوگ روز روز نہیں صدیوں بعد پیدا ہوتے ہیں، وسیب کیلئے ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ بجٹ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وفاقی بجٹ میں حکومت کے محصولات کا تکمینہ 4 ہزار ارب رکھا گیا ہے جبکہ حکومت مختلف بنکوں کو تقریباً 26 سو ارب کے قرضے اور سود کی مد میں واپس کرے گی اور ہمادے دفاعی بجٹ کیلئے تقریباً 14 سو ارب رکھے گئے ہیں تو یہ بجٹ انہی دو جگہوں پر پیسے خرچ کر کے مکمل ہو جائے گا باقی دیگر جو اخراجات ہیں وہ کہاں سے پورے کئے جائیں گے، اس کا مطلب ہے کہ حکومت پھر سے قرضے لے گی۔ ہر سال خسارے کا بجٹ پیش کیا جاتا ہے۔ حکومت کو چاہئے کہ و ہ خسارے کا بجٹ پیش کرنے کی بجائے اپنے محصولات میں اضافہ کرے اور اگلے چار سالوں تک 10 ہزار ارب روپے تک محصولات لے جائے۔ انہوں نے کہا کہ آمدنی بڑھانے کیلئے ضروری ہے کہ نئے سرمایہ کاری کروائی جائے اور ملک میں انڈسٹریاں لگائی جائیں کیونکہ جو چار ہزار ارب ٹیکس وصول کیا جائے گا، ان لوگوں سے مزید ٹیکس وصول نہیں کر کیا جا سکتا، اس کیلئے مزید ٹیکس لگانا ہونگے اور وہ اسی صورت ممکن ہوگا جب ملک میں نئی سرمایہ کاری کی جائے اور نئی انڈسٹریاں لگائی جائیں گی۔ شیخ احسن رشید نے کہا کہ اگر اگلے چار سالوں میں مزید ایسا نہیں کیا گیا تو ملک دیوالیہ ہو جائیگا اور معیشت کا پہیہ مزید نیچے آ جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک کے تحت بننے والے خصوصی اقتصادی زون جو وہاڑی اور رحیم یارخان میں بنائے جا رہے ہیں، ان میں مقامی سرمایہ کار اور صنعت کار سرمایہ کاری کر کے ملکی معیشت میں اپنا حصہ ڈال سکتے ہیں اور یہ اقتصادی زون تبھی کامیاب ہونگے جب یہاں کی زمین خرید کر یہاں پر انڈسٹری لگائی جائے، ایسا نہ ہو کہ اقتصادی زونز کی زمین خرید کر رکھ لی جائے اور اگلے پانچ یا دس سال جب زمین کی قیمت بڑھے تو وہ مہنگے داموں فروخت کر دیں۔ظہور دھریجہ نے وسیب کی ترقی کے لئے شیخ احسن رشید کی کوششوں کو سراہا اور کہا کہ صوبے کے قیام کیلئے وسیب کے دوسرے صنعتکاروں کو شیخ احسن رشیدکی تقلید کرنی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کے بغیر کبھی مسئلے حل نہیں ہونگے اور صوبہ بنے گا تو بھرپور صنعتی ترقی ہو گی کہ وسیب میں خام مال اور افرادی قوت وافر مقدار میں موجود ہے اور سرائیکی صوبہ ملک کی غذائی ضروریات کے ساتھ ساتھ معاشی ضروریات بھی پوری کر سکتا ہے۔

شیخ احسن اختر

مزید :

ملتان صفحہ آخر -