ناقص پالیسیاں، جننگ،انڈسٹری کھڈے لائن، بے روز گاری نا نیا سونامی تیار

  ناقص پالیسیاں، جننگ،انڈسٹری کھڈے لائن، بے روز گاری نا نیا سونامی تیار

  

ملتان(نمائندہ خصوصی، تحصیل رپورٹر)حکومت حالیہ بجٹ میں جننگ انڈسٹری کو مراعات دینے میں ناکام رہی ہے جس کی وجہ سے کاٹن سیزن 2020 میں کاٹن جننگ فیکٹریاں آپریشنل ہونے کے قابل نہیں۔موجودہ حکومت کے عدم تعاون کے باعث کاٹن جنرز فیکٹریوں کو تالا لگانے پر مجبور ہیں۔جننگ انڈسٹری کے بند ہونے سے ملک میں کاٹن نا پید ہونے کا خطرہ ہے اور مزیدلاکھوں افراد بے روزگار(بقیہ نمبر5صفحہ6پر)

ہو جائیں گے۔ان خیالات کا اظہار پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین میاں محمد جاوید سہیل رحمانی،سینئر وائس چیئرمین ہریش کمار، وائس چیئرمین حافظ عبدالطیف،سابق چیئر مین حاجی محمد اکرم، شہزاد علی خان، مہیش کمار، ڈاکٹر جسومل،سابق وائس چیئرمین چوہدری وحید ارشد،شیخ محمد عاصم سعید، مہر محمد اشرف،سرفراز ناظم نے سینئر ممبر مسعود عارف کے ہمراہ میڈیابریفنگ دیتے ہوئے کیا۔پی سی جی اے کی قیادت کا کہنا تھا کہ جننگ انڈسٹری ٹیکسوں کے بوجھ، کراپ سائز میں کمی،کورونا وباء اور حکومت کے استحصالی رویہ کے باعث بدحالی و بربادی کا شکار ہے۔حکومت کا کاٹن کے فروغ کے لیے کوئی جامع پالیسی نہ دینا اور بجٹ میں کاٹن کاشتکاروں و جننگ انڈسٹری وا?ئل ملز کو ریلیف نہ دینا کاٹن کی تباہی کا سبب ہے۔متعلقہ حکومتی وزراء عہد وپیماں اور پی سی جی اے وفد سے بارہاملاقاتوں میں یقین دہانیوں کے باوجود حالیہ بجٹ میں کوئی مراعات دینے میں ناکام رہے۔ا?ئی ایم ایف کے سامنے مجبورحکومت، کورونا کے باعث بحرانی صورتحال کا شکار جننگ انڈسٹری کی متعدداپیلوں وگذارشات کے باوجو د تباہی کے دہانے پر پہنچا چکی ہے اور کاٹن سیزن 2020 میں کاٹن جننگ فیکٹریاں آپریشنل ہونے کے قابل نہیں۔موجودہ صورتحال سے جننگ انڈسٹری کی بقاء خطرے میں ہے اور کاٹن جنرزمکمل طور پر فیکٹریوں کو تالا لگانے پر مجبور ہو چکے ہیں۔حکومت ملکی ایجنڈا کی بجائے غیر ملکی ایجنڈا پر عمل کر کے امپورٹڈ کاٹن کی راہ ہموار اور ملکی کاٹن کی بدحالی پر عمل پیرا ہے اور مسلسل کراپ سائز میں کمی ہو رہی ہے۔اینمل فیڈ (کھل) کواقتصادی رابطہ کمیٹی کے فیصلے کے باوجود سیلز ٹیکس سے چھوٹ نہ دینا نہایت مایوس کن ہے۔کاٹن سیزن 2019-20 کے فروخت شدہ مال کی کورونا کے باعث ٹیکسٹائل ملز سے اربوں روپے کی ریکوری نہ ہونے اور غیر فروخت شدہ کثیر تعداد میں کھلے آسمان تلے پڑی کاٹن بیلز کے خریدار کی مارکیٹ میں عدم موجودگی کے باعث کاٹن جنرزشدیدمالی و ذہنی پریشانی کا شکا رہیں اور ا?ئندہ کاٹن سیزن میں جنر ز (کپاس کے واحد خریدار) کاشتکاروں سے کپاس خریدنے سے قاصر ہیں جس کے باعث کاٹن کے کاشتکاروں، کاٹن جنرز اور آئل ملز کومکمل طور پر تباہ حالی کا سامنا ہو سکتا ہے۔ٹیکسٹائل انڈسٹری کو خام مال مہیا کرنے والی جننگ انڈسٹری کو بجٹ میں ریلیف نہ دے کر ٹیکسٹائل ایکسپورٹ میں کمی اور بے روزگاری میں اضافہ کر کے معیشت کو تباہی کے دہانے پر لانے کی مذموم سازش ہے۔ فنانس بل میں خامیوں کی نشاندہی کر تے ہوئے پی سی جی اے قیادت نے حکومت کی طرف سے قائم کردہ 03 رکنی کمیٹی اور ایف بی آر کی جانب سے قائم کردہ 11 رکنی کمیٹی کے علاوہ سینٹ کی سٹینڈنگ کمیٹی برائے ریونیو کو اپنی سفارشات پیش کر چکی ہے اور حکومت وقت سے اپیل کر تی ہے کہ جننگ انڈسٹری کی بقاء کے لیے فور ی ریلیف فراہم کیا جائے۔علاوہ ازیں پی سی جی اے وفد مورخہ 22 جون 2020 ء کو سینٹ کی سٹینڈنگ کمیٹی میں ریلیف کے لیے تجاویز پیش کرے گا۔کھل پر سیلز ٹیکس کے خاتمے،کاٹن جنرز کے قرضوں پر جنوری تا جون2020 تک مارک اپ کی چھوٹ، غیر فروخت شدہ سٹاک کی بذریعہ ٹی سی پی خریداری،کاٹن لنٹ پر سیلز ٹیکس کا خاتمہ،10 سال سے رکے ٹیکس ریفنڈز کی فراہمی،بجلی کے بلوں پر ٹیرف ٹیکسٹائل انڈسٹری کے برابر کرنا،سابقہ سالوں کی طرح ٹیکس اسسمنٹ برقرا ر رکھناجیسے احسن اقدامات کی بدولت ہی جننگ انڈسٹری بحال ہو سکتی ہیوگرنہ جننگ انڈسٹری کے بند ہونے سے ملک میں کاٹن نا پید ہونے کا خطرہ ہے اور مزیدلاکھوں افراد بے روزگار ہو جائیں گے۔حکومت وقت معاملہ کی سنگینی کو سمجھتے ہوئے 1300 سے زائد جننگ فیکٹریوں،لاکھوں کاٹن کاشتکاروں،ہزاروں ا?ئل ملز اور ان سے منسلک لوگوں کو بے روزگاری و بھوک سے بچانے کے لیے ریلیف فراہم کرے۔حکومت کاٹن کے فروغ کے لیے واضح اور جامع پالیسی کا اعلان کرے جس میں کاٹن سپورٹ پرائس،کاٹن کاشتکاروں کو سیڈ، کھادوں اور زرعی ادویات پر سبسڈی، آسان شرائط پر قرضوں کا اجراء کیا جائے اور کاٹن کور ایریا میں گنے کی کاشت پر پابندی عائد کرے۔پی سی جی اے چیئرمین نے وزیر اعظم پاکستان و متعلقہ حکومتی وزراء سے اپیل کی ہے کہ قومی اسمبلی میں بجٹ منظوری سے پہلے جننگ انڈسٹری کے تحفظات دور کر کے ترجیحی بنیادوں پر جننگ انڈسٹری کی بقاء کے لیے ریلیف دیا جائے۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -