نشتر:کرونا سے خاتون سمیت دوجاں بحق، ڈیرہ میں دوہلاکتیں

    نشتر:کرونا سے خاتون سمیت دوجاں بحق، ڈیرہ میں دوہلاکتیں

  

ملتان، ڈیرہ(وقائع نگار، سٹی رپورٹر)نشتر ہسپتال کے کورونا آئسولیشن وارڈ میں داخل مزید خاتون سمیت دو مریض دم توڑ گئے ہیں۔جس کے بعد مرنے والوں کی مجموعی تعداد 119 تک ہوگئی ہے۔20 سالہ حلیمہ بی بی اور 77 سالہ فدا حسین کا تعلق ملتان سے ہے۔(بقیہ نمبر7صفحہ6پر)

دونوں مریضوں کو تشویش ناک حالت میں نشتر ہسپتال لایا گیا۔جہاں خون کے نمونے حاصل کرکے ٹیسٹنگ لیبارٹری بھیجوائے گئے۔رپورٹ آنے پر مریضوں میں کورونا وائرس سکی تصدیق ہوئی ہے۔اور وہ اسی دوران اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔نشتر ہسپتال میں کورونا وائرس کے 20 مریضوں کی حالت تشویشناک ہے۔9 مریض وینٹی لیٹر پر ہیں۔نشتر ہسپتال کے کورونا وائرس آئسولیشن وارڈ میں کورونا پازیٹو 68 سے زائد مریض داخل ہیں۔گذشتہ 24 گھنٹے کے دوران نشتر ہسپتال میں کورونا وائرس کے شبہ میں 85 سے زائد نئے مریض داخل ہوئے ہیں۔اب تک نشتر ہسپتال میں کورونا وائرس کے شبہ میں لائے گئے 1350 مریضوں میں سے 459 مریضوں میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوچکی ہے۔اب تک نشتر ہسپتال میں کورونا وائرس کے 232 مریض صحت یاب ہوچکے ہیں۔35 ڈاکٹروں،13 نرسوں اور 6 پیرا میڈیکل سٹاف میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوچکی ہے۔کررونا ایک اور جان لے گیا۔ معروف ماہر امراض ڈاکٹر راشد منیر کی خوش دامن کررونا کے باعث انتقال کر گئیں۔ مرحومہ گزشتہ دس روز سے کرروناکی وباء کا شکار ہوکر ہسپتال میں زیر علاج تھیں۔ کہ کزشتہ روز فانی دنیا سے کوچ کر گئیں۔ مرحومہ کا نماز جنازہ ادا کرنے کے بعد کررونا پرٹوکول کے تحت محکمہ صحت کی ٹیم نے ان کی تدفین کی۔ڈاکٹرزہارون بلال، ڈاکٹر حسنین نوحی، ڈاکٹر یسین، ڈاکٹر حمادذکاء، ڈاکٹر امجد، ڈاکٹرآصف گورمانی سمیت شہریوں نے مرحومہ کے انتقال پر گہرے رنج وغم کا اظہار کرتے ہوئے ڈاکٹر راشد منیر سے افسوس کرتے ہوئے مغفرت کی دعا کی۔دریں اثنا بستی ریکڑہ نزدغوث آباد کا رہائشی نجمل حسن کھرل کررونا کے باعث انتقال کر گئے نجمل حسین کررونا کے مرض میں گزشتہ کئی روز سے قریطینہ وارڈ میں داخل تھے کہ گزشتہ روز اس مرض سے ہار کر جہان فانی سے کوچ کر گئے۔ جہنیں انکے آبائی قبرستان میں نماز جنازہ کے بعد سپرد خاک کر دیا۔ مرحوم کے انتقال پر علاقہ میں خوف وہراس پھیل گیا۔حکومت کی جانب سے سخت لاک ڈاون کی بجائے سمارٹ لاک ڈاون پالیسی کے باعث کورونا کیسز میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے ادھر نشتر ہسپتال میں کورونا کیسز کی تعداد بڑھنے کی وجہ سے آئے روز انتظامیہ اہم شعبہ جات کے وارڈز کو کورونا وارڈز میں تبدیل کر رہی ہے اس حوالے سے پائینرز یونٹی کا ہنگامی اجلاس گزشتہ روز صدر پروفیسر ڈاکٹر شاہد راو کی سربراہی میں منعقد ہوا اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ لاک ڈاؤن میں نرمی کے باعث کرونا وائرس کے مریضوں میں تشویش ناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے،پائینئر یونٹی اور دیگر ڈاکٹر، نرسز و پیرامیڈیکل تنظیموں نے بہت پہلے حکومت کو خبردار کیا تھا اور ان حالات کی پیشین گوئی کی تھی،نشتر ہسپتال کا طبی نظام مفلوج ھو چکا ہے ،کورونا کے مریضوں کی تعداد میں تیزی سے ہونے والے اضافے کے باعث کورونا وائرس کے مریضوں کے لئے مختص کئے گئے وارڈز میں بستروں اور سہولیات کی بھی کم پڑنے لگی ہے،تقریبا" آدھا نشتر کورونا ہسپتال میں تبدیل کیا جا چکا ہے اور مزید کیا جارہا ہے،پائینئر یونٹی اس اقدام کی شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے،ڈاکٹر ساجد اختر،ڈاکٹر نصرت بزدار،ڈاکٹر عبدالمنان اور دیگر کا کہنا تھا کہ حکومت دیگر آپشنز پر غور کرے، نئی ڈی ایچ کیو بلڈنگ تیار ہے،،شہباز شریف، فاطمہ جناح یا کسی اور ہیلتھ فیسیلٹی کو کورونا ہسپتال ڈکلیئر کیا جائے تاکہ دیگر بیماریوں کے ساتھ نشتر ہسپتال میں زیر علاج مریضوں کا علاج ممکن بنایا جا سکے،اگر صورتحال یونہی رہی تو دیگر بیماریوں کے ساتھ زیر علاج مریض بھی تشویشناک حالت میں جا سکتے ہیں جبکہ کورونا کے باعث پہلے ہی 119 اموات صرف نشتر ہسپتال میں ہو چکی ہیں۔نشتر ہسپتال میں کورونا وائرس کے مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے سبب امراض دل وارڈ نمبر 1 کو کل 23 جون(منگل)سے ختم کرکے کورونا وارڈ میں تبدیل کرنے کے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں۔اور وارڈ کے تمام ڈاکٹروں و سٹاف کی دیگر وارڈز میں ڈیوٹی لگادی گئی ہے۔اس سے نشتر ہسپتال کے 24 میں سے 11 وارڈز کو پہلے ہی کورونا وارڈز میں تبدیل کیا جاچکا ہے جس سے دیگر امراض میں مبتلا مریضوں کے لئے طبی سہولیات ختم ہوگئی ہیں اور انہیں شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن نے صوبہ کے دو بڑے شہروں کے آٹھ نجی ہسپتالوں کو کووڈ 19 کے مریضوں کے علاج معالجہ حکومتی طے شدہ چارجز شیڈول کے مطابق وصول نہ کرنے پر نوٹسز جاری کردیے ہیں۔جبکہ احکامات نظر کرنے پر تین ہسپتالوں کی انڈور سروسز اور الیکٹوسرجریز معطل کر دی گئی ہیں۔واضح رہے مذکورہ ہسپتال حکومت کے جاری کردہ احکامات پر 24 گھنٹے کا وقت دینے کے بعد بھی عمل درآمد نہیں کرسکے۔اور سیل کرنے کی تنبیہ بھی کر دی گئی ہے۔جن ہسپتالوں کو نوٹسز جاری کیے گئے ہیں،ان میں لاہور کے چھ اور ملتان کے دوشامل ہیں۔لاہورکے اتفاق ہسپتال،فاطمہ میموریل ہسپتال،اکرم میڈیکل کمپلیکس،مسعود ہسپتال،لاہور کیئر ہسپتال اور ایوسینا ٹیچنگ ہسپتال،جبکہ ملتان کے بختاور امین میموریل ٹرسٹ اور میڈی کیئر ہسپتال کونوٹسزجاری کیے گئے ہیں۔ دوسری جانب احکامات پر عمل درآمدنہ کرنے کی وجہ سے لاہورکے سرجی میڈ ہسپتال اورثروت انور میڈیکل کمپلیکس جبکہ احمد میڈیکل کمپلیکس راولپنڈی کی معمول کی انڈور سروسز اور الیکٹوسرجریز معطل کر دی گئیں ہیں۔البتہ ان ہسپتالوں کو ایمرجنسی اور کووڈ19کے مریضوں کا علاج معالجہ جاری رکھنے کے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں۔ مراسلہ کے مطابق ہسپتالوں کوہدایات دی گئی ہیں کہ اس سال فروری کے ریٹس سے زائداخراجات ہر گزوصول نہ کیے جائیں اور مریضوں کے روزانہ کے چارجزبشمول بستر،کمرہ،ہائی ڈیپینڈنسی یونٹ،انتہائی نگہداشت یونٹ،وینٹی لیٹراور ایکٹیمرا انجیکشن(جہاں لگایا جارہاہو)ہسپتال میں نمایاں جگہ پر آویزاں کیے جائیں اور فہرست ہسپتالوں کی ویب سائٹس پر بھی پوسٹ کردی جائے۔ترجمان کے مطابق کمیشن کے 16جون کے نوٹسز کے بعد زیادہ تر ہسپتالوں نے فروری 2020کے ریٹس پر علاج کر نا شروع کر دیا ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ پی ایچ سی کی ٹیمیں ہسپتالوں کی انسپیکشنزکر رہی ہیں اور احکامات کی خلاف ورزی کی صورت میں دیگر تادیبی کارروائیوں کے ساتھ ساتھ علاجگاہوں کو سربمہر بھی کر دیا جائیگا۔دنیا بھر کورونا وائرس کی وار جاری۔مہلک مرض کی ویکسی نیشن نہ ہونے سے لاکھوں کی تعداد میں لوگ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔پاکستان کے اندر کورونا وائرس سے پازیٹو کیسوں کی تعداد ایک لاکھ 76 ہزار چھ سو 15 تک جاپہنچی ہے۔اور آج تک مجموعی طور پر تین ہزار پانچ سو ایک مریض لقمہ اجل بن چکے ہیں۔حکومت پاکستان کی جاری ویب سائٹ کے مطابق گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران یعنی اتوار صبح 8 بج کر 49 منٹ پر ملک بھر میں چار ہزار 9 سو اکاون نئے مریضوں میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔اور مجموعی طور ایک ہی دن میں ایک سو انیس افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔دس لاکھ 71 ہزار 7 سو 42 افراد کے ٹیسٹ کیئے گئے ہیں۔جبکہ گزشتہ ایک روز میں 28 ہزار 8 سو 55 ٹیسٹ ہوئے ہیں۔مذکورہ جاری رپورٹ کے مطابق پاکستان کا صوبہ سندھ 67 ہزار تین سو 53 مریضوں کے ساتھ پہلے نمبر پر آچکا ہے۔جبکہ دوسرے نمبر پر پنجاب 65 ہزار 7 سو 39 کورونا کے پازیٹیو مریضوں کے ساتھ ہے۔تیسرے نمبر پر 21 ہزار 4 سو 44 مریضوں کے ساتھ خبر پختونخوا ہے۔چوتھے نمبر پردس ہزار چھ سو 62 مریضوں کے ساتھ اسلام آباد ہے۔پانچویں نمبر پر نو ہزار تین سو 28 مریضوں کے ساتھ بلوچستان یے۔چھٹے نمبر پر گلگت بلتستان ہے جہاں اب تک مجموعی طور پر ایک ہزار دو سو 78 مریض سامنے آئے ہیں۔اسی طرح آزاد جموں کشمیر 8 سو 13 مریضوں کے ساتھ ساتواں نمبر پر ہے۔

ہلاکتیں

مزید :

ملتان صفحہ آخر -