کراچی اور گھوٹکی حملے کے تانے بانے را سے ملتے ہیں،رپورٹ

  کراچی اور گھوٹکی حملے کے تانے بانے را سے ملتے ہیں،رپورٹ

  

کراچی(اسٹاف رپورٹر) شہرقائد اورگھوٹکی میں دہشت گردی کے واقعے سے متعلق نیا انکشاف سامنے آیا ہے، کراچی میں رینجرز پر حملے کے لیے روسی ساختہ ہینڈ گرینیڈ استعمال کیا گیا۔ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ جو گرینیڈ کراچی میں زینجرز کی گاڑی پر حملے کے لیے استعمال کیا گیا وہ روسی ساختہ تھا، موقع سے اداروں کو روسی ساختہ گرینیڈ کی بھی پلیٹ مل گئی ہے۔گھوٹکی میں بھی رینجرز کی گاڑی کے قریب دھماکے میں آئی ای ڈی استعمال نہیں کی گئی، ایسا لگتا ہے کہ گھوٹکی میں بھی حملے میں ہینڈگرینیڈ ہی استعمال کیا گیا، البتہ تمام پہلوؤں پر تحقیقات جاری ہے۔ذرائع کے مطابق 10جون کو کراچی بھی رینجرز پر 2حملوں میں ہینڈ گرینیڈ کے استعمال کے شواہد ملے، حملے کے ایک مقام سے تفتیش کاروں کو روسی ساختہ ہینڈگرینیڈ کی پلیٹ ملی۔دوسری جانب لیاقت آباد احساس پروگرام دھماکے کا زخمی شہری دردناک حالت میں گھرپہنچ گیا ہے، عباسی شہید اسپتال نے زخمی روشن علی کو پٹی کرکے گھر بھیج دیا، روشن علی بیوی سمیت احساس پروگرام دفتر میں رقم لینے گیا تھا۔دہشت گرد حملے میں روشن علی کی بائیں ٹانگ میں شدید چوٹیں آئیں۔ 2روز سے روشن علی کی ٹانگ سے خون بہہ رہا ہے۔ روشن علی اور اہل خانہ نے وزیراعظم سے مدد کی اپیل کی ہے۔

مزید :

صفحہ آخر -