کورونا سے مزید 106افراد جاں بحق، پنجاب بھر میں ماسک پہننا لازمی قرار، وباء خطرناک مرحلے میں داخل ہو گئی، ڈبلیو ایچ او، وائرس سے جاں بحق 75فیصد افراد پہلے ہی کسی بیماری میں مبتلا تھے: ٖظفر مرزا

کورونا سے مزید 106افراد جاں بحق، پنجاب بھر میں ماسک پہننا لازمی قرار، وباء ...

  

لاہور،اسلام آباد، پشاور، کراچی (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)ملک بھرمیں کورونا سے مزید 106 افراد جاں بحق ہو گئے اور 4191 نئے کیسز بھی سامنے آ گئے جس سیاموات کی مجموعی تعداد 3542 ہوگئی جب کہ نئے کیسز سامنے آنے کے بعد مریضوں کی تعداد 178892 تک پہنچ گئی۔اب تک پنجاب میں کورونا سے 1407 اور سندھ میں 1089 افراد انتقال کرچکے ہیں جب کہ خیبر پختونخوا میں 808 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔اس کے علاوہ بلوچستان میں 100، اسلام آباد میں 98، گلگت بلتستان میں 21 اور آزاد کشمیر میں مہلک وائرس سے 19 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔اتوار کو ملک بھر سے کورونا کے مزید 4191 کیسز اور 106 ہلاکتیں سامنے آ چکی ہیں جن میں پنجاب سے 1523 کیسز اور 60 ہلاکتیں، سندھ میں 41 ہلاکتیں اور 2275 کیسز اور اسلام آباد سے 383 کیسز اور 3 ہلاکتیں جب کہ آزاد کشمیر سے 10 کیسز اور دو ہلاکتیں سامنے آئی ہیں۔پنجاب سے کورونا کے مزید 1523 کیسز اور 60 ہلاکتیں سامنے ا?ئی ہیں جن کی تصدیق سرکاری پورٹل پر کی گئی ہے۔سرکاری پورٹل کے مطابق صوبے میں کورونا کے کل کیسز کی تعداد 65739 اور اموت 1407تک جا پہنچی ہے۔پورٹل کے مطابق پنجاب میں اب تک کورونا سے 18692 افراد صحت یاب ہوچکے ہیں۔وفاقی دارالحکومت سے کورونا کے مزید 383 کیسز اور 3 اموات سامنے آئی ہیں جس کی تصدیق سرکاری پورٹل پر کی گئی ہے۔اسلام آباد میں اب تک کورونا وائرس سے 4380 افراد صحت یاب ہو چکے ہیں۔آزاد کشمیر سے بھی کورونا کے مزید 10 کیسز اور دو اموات سامنے آئی ہیں جو سرکاری پورٹل پر رپورٹ ہوئے ہیں۔آزاد کشمیر میں کورونا کے کل کیسز کی تعداد 813 اور اموات کی تعداد 19 ہو گئی ہے۔سندھ میں اتوار کو کورونا وائرس کے باعث مزید 41 افراد جان کی بازی ہار گئے جس کے بعد صوبے میں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 1089 تک پہنچ گئی ہے۔سندھ میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 2275 افراد میں مہلک وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جس کے بعد صوبے میں متاثرہ مریضوں کی تعداد 69 ہزار 628 تک جاپہنچی ہے جب کہ صحت یاب مریضوں کی تعداد 36278 ہوگئی ہے۔ہفتے کو خیبر پختونخوا میں کورونا وائرس سے مزید 19 افراد جان کی بازی ہارگئے جس کے بعد صوبے میں ہلاکتوں کی تعداد 808 تک جاپہنچی ہے۔محکمہ صحت کے پی کے مطابق صوبے میں متاثرہ مریضوں کی تعداد 21444 ہوگئی ہے۔صوبے میں اب تک 6063 افراد کورونا وائرس سے صحت یاب بھی ہو چکے ہیں۔بلوچستان میں ہفتے کو مزید 166 افراد میں مہلک وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جس کے بعد صوبے میں متاثرہ افراد کی تعداد 9328 ہوگئی ہے۔صوبے میں کورونا سے اب تک 100 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔ بلوچستان میں کورونا وائرس سے صحت یاب ہونے والوں کی تعداد 3472 ہے۔گلگت بلتستان میں بھی ہفتے کو مزید 25 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی جس کے بعد وادی میں متاثرہ افراد کی تعداد 1278 ہوگئی ہے۔گلگت بلتستان میں اب تک مہلک وائرس سے 21 افراد جاں بحق ہوئے جب کہ اب تک 837 افراد صحت یاب بھی ہوچکے ہیں۔ لاہور میں 24 گھنٹوں کے دوران 721 نئے کیسز رپورٹ ہوئے۔ گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں شہر میں 33 افراد وائرس سے جاں بحق ہوئے مجموعی تعداد 545 تک پہنچ گئی۔ترجمان محکمہ صحت کے مطابق ننکانہ 13، قصڈور 13، شیخوپورہ 14، جہلم 1، چکوال 1، گوجرانوالا 58، سیالکوٹ 51، نارووال 4، گجرات 48، حافظ ا?باد 11، منڈی بہاوالدین 4، ملتان 134، مظفر گڑھ 18، وہاڑی 25، فیصل ا?باد 168، چنیوٹ 14، ٹوبہ 34، رحیم یار خان 40، میانوالی 12، خوشاب 2، بہاولنگر 20، بہاولپور 40، لودھراں 5، ڈی جی خان 12، لیہ 5، اوکاڑہ 4، جھنگ 6، خانیوال 15، بھکر 3، ساہیوال 23، پاکپتن میں 5 کیسز سامنے ا?ئے۔ترجمان پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کے مطابق پنجاب بھر میں کورونا وائرس سے مزید 60 اموات، تعداد 1407 ہو گئی۔ اب تک 4 لاکھ 17 ہزار 271 ٹیسٹ کیے جا چکے۔ کورونا سے صحت یاب ہونے والوں کی تعداد 18 ہزار 692 ہو چکی۔ عوام سے گزارش ہے حفاظتی تدابیر اختیار کر کے خود کو محفوظ بنائیں۔ کورونا وائرس کی علامات ظاہر ہونے پر 1033 پر فوری رابطہ کریں۔۔پوری دنیا میں نوول کروناوائرس کے مصدقہ کیسز کی تعداد 87لاکھ91ہزار794تک پہنچ گئی ہے، امریکہ 22 لاکھ55ہزار119مصدقہ کیسز کے ساتھ سرفہرست ہے، جبکہ برازیل10لاکھ32ہزار913مصدقہ کیسز کیساتھ دوسرے روس 5لاکھ76ہزار162 مصدقہ کیسز کے ساتھ تیسرے نمبر پرہے۔بھارت میں 4لاکھ10 ہزار451مصدقہ کیسز ہیں برطانیہ میں 3لاکھ4ہزار580 مصدقہ کیسز پیرو میں مصدقہ کیسز کی تعداد2لاکھ 51ہزار338اور سپین میں مصدقہ کیسز کی تعداد2لاکھ45ہزار938تک پہنچ گئی ہے۔اٹلی میں مصدقہ کیسز کی تعداد2لاکھ38ہزار275اور چلی میں مصدقہ کیسز کی تعداد 2لاکھ 36 ہزار 748تک پہنچ گئی ہے۔چین میں مصدقہ کیسز کی تعداد84ہزار999ہوگئی ہے۔افغانستان میں امریکی سفارت خانے کے عملہ میں بھی کورونا وائرس کی تصدیق ہوگئی جہاں 20 سے زائد افراد کورونا کا شکار ہوگئے۔ امریکی خبرساں ادارہ نے امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے حوالے سے بتایا ہے کہ کابل میں واقع امریکی سفارت خانہ میں کورونا کے مزید پھیلاؤ کی روک تھام کے لئے تمام حفاظتی اقدامات کئے جارہے ہیں جبکہ متاثرہ افراد کو سفارت خانے کے اندر ہی آئسولیشن میں رکھا گیا ہے۔ادھر افغانستان میں کورونا سے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 409 افراد شکارہوکرمتاثرہ مریضوں کی تعداد28833 ہوگئی ہے جبکہ اب تک 581 اموات ہوچکی ہیں۔

کورونا ہلاکتیں

لاہور،جنیوا(جنرل رپورٹر،این این آئی)عالمی ادارہ صحت نے کاپاکستان اور دنیا بھر کیلئے کورونا کے حوالے ایک بار پھر خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے ڈبلیو ایچ او کے مطابق کووڈ انیس کی وبا کا دنیا بھر میں پھیلاؤ اب مزید تیز رفتار ہو گیا ہے اور یہ مرض عالمی سطح پر اب ایک ’نئے اور خطرناک مرحلے‘ میں داخل ہو گیا ہے۔جنیوا سے ملنے والی رپورٹوں کے مطابق اقوام متحدہ کے صحت سے متعلق عالمی ادارے نے کہا ہے کہ بین الاقوامی سطح پر کووڈ انیس کی عالمگیر وبا اب نہ صرف مزید تیز رفتاری سے پھیل رہی ہے بلکہ دنیا کے بیسیوں ممالک میں اس وائرس سے بچاؤ کے لیے نافذ کیے گئے لاک ڈاؤن سے عام انسان تنگ بھی پڑتے جا رہے ہیں۔ڈبلیو ایچ او کے سربراہ ٹیڈروس آڈانوم گیبرائیسس نے جنیوا میں ایک پریس کانفرنس میں کہاکہ کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد ایک نئی انتہا کو پہنچ گئی ہے اور ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام اقوام اور ان کے باشندے انتہائی محتاط رہیں۔گیبرائیسس نے صحافیوں کو بتایاصرف جمعرات اٹھارہ جون کے روز ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) کو عالمی سطح پر کورونا وائرس کے ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ نئے کیسز کی اطلاع دی گئی تھی۔ یہ بین الاقوامی سطح پر اس بیماری سے متاثرہ افراد کی اب تک کسی ایک دن میں ریکارڈ کی جانے والی سب سے زیادہ تعداد تھی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ عالمی سطح پر یہ وبا اور اس کا پھیلاؤ اب تیز رفتار ہوتے جا رہے ہیں۔عالمی ادارہ صحت کے سربراہ کے مطابق کورونا وائرس کے ان ڈیڑھ لاکھ سے زائد نئے مریضوں کی نصف سے زائد تعداد کا تعلق دونوں امریکی براعظموں، جنوبی ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے ممالک سے تھا۔ٹیڈروس آڈانوم گیبرائیسس نے کہاکہ دنیا اس وقت ایک نئے اور خطرناک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے پاکستان میں جولائی اور اگست میں کرونا وائرس کے مریضوں میں خوفناک حد تک اضافہ ہو جائے گا اور اگست تک پاکستان میں کرونا مریضوں کا پھیلاؤ اس قدر بڑھ جائے گااور متاثرین اور ہلاکتوں کی تعداد موجودہ کے مقابلے میں دو سے تین گنا ہو جائے گی پاکستاناگر یہ تعدادکم کرنا چاہتا ہے تو اس سلسلے میں عالمی ادارہ سے کے وضع کردہ قوانین پر فوری طور پر عملدرآمد شروع کر دنا ہو گا جس میں ماسک کے استعمال کو پہلی ترجیح کے طور پر لیا جائے عالمی ادارہ صحت کے سے جاری کردہ الرٹ اور وارننگ کے بعد پنجاب بھر میں عومی مقامات پرماسک کا استعمال لازم قرار دے دیا گیا،جس کا نوٹیفکیشن؎بھی جاریکر دیا گیا ہے۔مارکیٹوں، بازاروں اور دکانوں میں بھی ماسک پہنے بغیر داخلے پر پابندی عائد ہوگی عمل درآمد کے لیے مقامی پولیس کے علاوہ محکمہ انڈسٹری محکمہ لیبر محکمہ سے ضلعی انتظامیہ کو خصوصی ٹاسک دیا گیا ہے ذرائع کا کہنا ہے کہ ماسک پہننے پر پابندی پر عمل درآمد کے لئے خصوصی فورس میں اساتذہ کو بھی شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، احکامات نہ ماننے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔کورونا کے بڑھتے کیسز کے سبب پنجاب میں بازاروں، مارکیٹوں اور شاپنگ مالز سمیت عوامی مقامات پر منہ ڈھانپنے کی پابندی عائد کی گئی ہے، بغیر ماسک گاہکوں کو کسی قسم کی سروس فراہم نہ کرنے کے احکامات جاری کئے گئے ہیں، پٹرول پمپس پر ماسک نہ لگانے والوں کو پٹرول فروخت نہیں کیا جائے گا

عالمی ادارہ صحت

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک،نیوز ایجنسیاں) معاون خصوصی صحت ظفرمرزا کا کہنا ہے کہ کورونا سے بحق ہونے والے 75 فیصد افراد پہلے سے کسی بیماری میں مبتلا تھے۔اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران ظفرمرزا نے کہا کہ کورونا وائرس سے3 ہزار 500پاکستانی جاں بحق ہوچکے ہیں، تقریباً 72 فیصد جاں بحق افراد کی عمر 50 سال سے زائد تھی، 70سے 75 فیصد افراد پہلے سے کسی بیماری میں مبتلا تھے، کورونا سے جاں بحق افراد کو بلڈ پریشر،ذیابطیس یا دل کے عارضے تھے۔ظفر مرزا کا کہنا تھا کہ بیمارافراد کے کورونا وائرس میں مبتلا ہونے کے زیادہ امکانات ہوتے ہیں، کورونا سے بچنے کیلئے بزرگوں اور بیمار افراد کا خاص خیال رکھنا ہے وزارت صحت نے بزرگ افراد کے لئے گائیڈ لائنز بنائی ہیں۔ ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا ہے کہ مو ثر احتیاطی تدابیر اختیار نہ کی گئیں تو جولائی کے آخری دو ہفتے مہلک ثابت ہو سکتے ہیں جبکہ وزیر مذہبی امور نور الحق قادری نے کہا ہے کہ صوبوں اور گلگت بلتستان، آزادکشمیر سے آنے والی تجاویز کی روشنی میں مشاورت کے ساتھ قومی لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔ کورونا وبا سے محفوظ عید الاضحیٰ کے لیے ضوابط کی تیاری پر علماء و مشائخ کے ساتھ مشاورتی اجلاس منعقد کیا گیا۔ وفاقی وزیر مذہبی امور کی زیر صدارت اجلاس میں وزیر داخلہ، مشیر صحت، پارلیمانی سیکرٹری اور صوبائی حکومتی ارکان نے شرکت کی جس میں کورونا سے محفوظ عیدالاضحیٰ کے لیے ضوابط کی تیاری سے متعلق علماء و مشائخ کے ساتھ مشاورت کی گئی۔ مشاورتی اجلاس میں وزر اعظم کے معاون خصوصی صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ مو ثر احتیاطی تدابیر اختیار نہ کی گئیں تو جولائی کے آخری دو ہفتے مہلک ثابت ہو سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کورونا وائرس کی بڑھتی ہوئی شرح کے حوالے سے پہلے تین ممالک میں شامل ہو چکا ہے۔ دوسری جانب وزیر مذہبی امور نور الحق قادری کہتے ہیں کہ صوبوں اور گلگت بلتستان، آزادکشمیر سے آنے والی تجاویز کی روشنی میں مشاورت کے ساتھ قومی لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔

ظفر مرزا

مزید :

صفحہ اول -