گجرات کا ایک اور علمی ستارہ چراغ گل ہو گیا

گجرات کا ایک اور علمی ستارہ چراغ گل ہو گیا
 گجرات کا ایک اور علمی ستارہ چراغ گل ہو گیا

  

آج زمیندارہ اُداس ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ چوہدری فضل حسین صاحب چوہدری یعقوب صاحب اور مولوی شریف صاحب کی اموات زمیندارہ کالج  کے لئے بہت بڑا دھجکہ تھیں۔ لیکن  چوہدری نذیر تو پھر چوہدری نذیر تھا۔ اس نفسا نفسی کے عالم میں جب چوہدری کو دیکھا یقین جانیئے اس مادہیئت پرست زندگی سے نفرت سی ہونے لگی۔ چوہدری کی پاس نہ تو بنگلہ، نہ گاڑی نہ بنک بیلنس لیکن پھر بھی ہنستا مسکراتا چہرہ، وہی 80  کی دھائی کے جوانی کے مذاق، وہی بچوں کے ساتھ بچہ، جوانوں کے ساتھ جوان اوربوڑھوں کے ساتھ بوڑھا، وہ چلتا پھرتا زمیندار کالج، وہ کیا تھا کوئی کیا جانے، آج ہم سے رخصت ہوگیا۔ یار ہم نے تو کبھی اُس سےاُس کے دُکھوں کے بارے میں بھی نہ پوچھا۔ ہم نے کبھی یہ جاننے کی کوشش ہی نہ کی کہ وہ کس حال میں ہے۔ وہ بھی عجیب شخص تھا جس نے کبھی کسی سے شکایت تک نہ کی۔ ہر وقت چھیڑ خوانی کرتا کالج کی روشوں پر گامزن نظر آیا کرتا تھا۔ ایک عرصہ ہوا ریٹائر ہوا لیکن کالج کا حصہ رہا۔ نہ کسی سی گلہ نہ کسی سے شکوہ۔ سب کا یار، سب کابیلی، سب کا ساجی، جو ہمیشہ دوسروں کےلئے جیا۔ ہم تو ٹھہرے اپنی ذات کے لئے۔ ہم نے ساری زندگی زمیندار کو لوٹنے میں گزار دی۔ زمیندار کو لُوٹا اور خوب لُوٹا۔ لُوٹلُوٹ کر جی بھی نہ بھرا۔ ہم نے زمیندار کو زمیندار کے حوالے سے کبھی نہ دیکھا۔ ہم تو یہ ہی سوچتے رہے کہ ہمیں زمیندار کا کیا فائدہ۔چوہدری نذیر ہو یا خان خالق، یہ خالص لوگ تھے۔ نفرتوں سے پاک، عداوتوں سے کوسوں میل دُور، محبتیں بانٹنے والے، لازوال لوگ، دوسروں کے بارے میں سوچنے والے لوگ، جن کی اپنی کوئی priority نہیں تھی۔ نذیر یار

“ تمھیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو، مجھے یاد ہے زرا زرا”۔

چند دن پہلے اُن کی بیوی کی وفات ہوئی، میں افسوس کے لئے حاضر ہوا، پروفیسر ہاشمی  بھی میرے ساتھ تھے۔ تعزیت کے بعد میں نے نذیر صاحب کو کہا نذیر صاحب آپ اکیلے رہ گئے ہیں آپ کی ساتھی تو چلی گئی۔ نذیر صاحب نے فورا کہا

“ سا ڈے دن بھی تھوڑے نے”۔

نذیر!

یار وہ تو ولی تھا۔ مجھے وہ دن بھی یاد ہے جب میں پہلی بارگجرات کا سفر کرنے کے لئے یکم اکتوبر ۱۹۸۴ کو بھلوال لاری اڈا پرپہنچا۔  موقع پر موجود ایک ہی بس Bedford اڈا پر لگی تھی۔ اور کھچا کھچا بھری تھی۔ تل دھرنے کی جگہ نہ تھی۔ اس کے بعد دو گھنٹےبعد دوسری بس جانی تھی۔ مجھے جلدی تھی کیوں کہ مجھے دفتری اوقات میں پہنچ کر جائن کرنا تھا اور سب سے بڑھ کر گجرات میرےلئے ایک اجنبی شہر تھا۔ اگرچہ اس سے قبل زمانہ طالب علمی میں پروفیسر طارق مسعود کھوکھر کے ساتھ گجرات دیکھ چکا تھا اورزمیندار کا چکر لگا چکا تھا۔ گجرات والوں کے پاس زمیندار  کے علاوہ اور ہے بھی کیا۔ میں نے جب لاری کے کنڈیکٹر سے استفسارکیا کہ مجھے ہر صورت اسی بس پہ جانا ہے تو اس نے میرے لمبے قد کو دیکھتے ہوئے انکار کیا کہ کھڑے رہ کر گجرات تک جانا ناممکن ہے۔میرے بار بار اصرار پر کنڈیکٹر نے مجھے بتایا کہ ڈرائیور کے پیچھے ایک شخص جس نے گجرات ہی جانا ہے دو ٹکٹ لے رکھے ہیں اور دو سیٹوں پر اکیلا بیٹھا ہے اُس سے بات کر لیں۔ میں ہمت کرکے ڈرائیور کی کھڑکی کے پاس باہر کی طرف سے پہنچا۔شیشے کوکھٹکھٹایا اور اُس جوان سے جو کلف لگے جوڑے میں ملبوس تھا میں گویا ہوا۔ “میں نے گجرات جانا ہے اگر آپ بُرا نہ مانیں تو مجھےساتھ بیٹھنے کی اجازت دے دیں میں فالتو سیٹ کا کرایہ ادا کر دوں گا”۔ اس جوان نے میری سنی ان سنی کر دی۔ مجھے ایک راستہ نظر آ رہا تھا کہ اس نوجوان کی منت سماجت کسی طرح کی جائے اور سیٹ حاصل کی جائے کیونکہ اور کوئی چارہ نہ تھا۔ منت اورسماجت کرنے میں آپ جانتے ہیں میرا کوئی ثانی نہیں۔ پچھلے دنوں سرگودھا میں ایک دوست نے پوچھا کہ گجرات میں اتنا عرصہ تُمنے کیسے بسر کیا۔ میں نے کہا منت سماجت سے۔ گجراتیوں کی یہ صفت ہے کہ منت سماجت کے علاوہ اکڑ کو تو بالکل نہیں مانتے۔اور اکڑنے والوں کی اکڑ ایک منٹ میں نکال دیتے ہیں۔میں نے بھی اس جوان پر اپنا ہنر آزمانے کی بڑی کوشش کی مگر وہ بھی نہ مانا۔ میں گجرات جانے کر رٹ لگاتا رہا وہ بھی نہ نہ کرنے میں مشغول رہا۔ شائید کوئی hybrid گجراتیا تھا۔ اُس نے پلٹ کر میری طرف دیکھا بھی نہیں۔ آخر میں نے ہمت کر کے ڈرائیور کی کھڑکی کو کُھلا دیکھ کر اس کے پاؤں پکڑ لئے۔ کوئی اور چارہ بھی نہیں تھا۔ جب اس نے میری یہ حالت دیکھی تو بڑے غرور کے انداز میں پوچھا گجرات کس جگہ جانا ہے۔ میں نے کہا زمیندار کالج میں۔زمیندار کا لفظ سن کر یکایک اس کے رویہ میں تبدیلی آئی۔ ساتھ ہی کہنے لگا نذیر والے زمیندار میں۔ میں تو نذیر کو جانتا نہیں تھا ۔اس نام سے ناواقف تھا۔ میرے منہ سے جھٹ نکلا، “ جی ہاں”۔ اس جوان نے اُسی لمحے سیٹ خالی کردی۔ مجھے بڑی عزتسے بیٹھا یا ۔ نیچے اُتر کر میرے لئے پیپسی کی ایک بوتل سٹرا لگا کر لے آیا۔ وہ بے چارہ سمجھا کہ نذیر میرا یار ہے۔ میرا بیلی ہے۔ وہ نذیر کے بارے میں باتیں کرنے لگا۔ مجھے ایسے لگا جیسے نذیر کوئی پیر ہے۔ بلکہ پیر سے بھی بڑا درجہ رکھتا ہے۔ میں نے سوچا کہ میں نے اس جوان کودھوکہ  دے کر سیٹ تو لے لی ہے اب اس کو مزید دھوکے میں نہیں رکھنا چاہیے۔ میں نے اُسے بتایا کہ میں تونذیر کو نہیں جانتا۔ وہ حیران رہ گیا۔ مجھ سے پوچھنے لگا کہ میری تعلیم کیا ہے۔ میں نے کہا ایم اے انگریزی ۔ میں نے بھی بڑےفخر سے کہا اگرچہ اس میں کوئی فخر والی بات نہیں۔ اس نے کہا کیا میں نے بی۔ اے کیا ہوا ہے۔ میں حیران رہ گیا کہ کیا ہی بھونڈا سوال ہے۔ ظاہر ہے بی۔اے کیا ہوگا تو ایم اے کیا ہے۔ لیکن میری جرات نہ تھی کہ میں اُس کے ساتھ اس طرح بات کرتا۔ البتہ میں نے آہستہ سے کہا کہ ہاں بی۔ اے کیا ہوا ہے۔ جب میں نے یہ کہا تو اس کی حیرانگی کی حد نہ رہی۔ وہ کہنے لگا اگرآپ نے بی ۔اے کیا ہوا ہے اور چودھری نذیر کو نہیں جانتے تو یہ عجب بات ہے۔ میں بھی حیران تھا کہ چودھری نذیر اور بی ۔اے کا کیا تعلق ہے۔ یہ عُقدہ زمیندار آ کے کُھلا کہ بی اے اور چودھری نذیر کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ گجرات میں بڑے بڑے بی۔اے پاس بڑی پوسٹوں پر فائز چودھری صاحبان،  چودھری نذیر کی  صحبت کے دلدادہ تھے۔ چودھری نذیر دل کا چودھری تھاجس کے پاس کچھ نہیں تھا اور وہ گجرات میں غنی تھا۔ ایک ہم ہیں سب کچھ ہونے کے باوجود فقیر ہیں۔ زمیندار میں چودھری کاکوئی نعمل بدل نہیں۔ کوئی ثانی نہی تھا ۔نام کے چودھری تو ہیں مارے مارے پھرتے، لیکن وہ دل کا چودھری تھا۔ اگر وہ چاہتاتو گجرات میں کاریں ، بنگلے اور بنک بیلینس بنانا اس کیلئےہرگز مشکل نہ تھا۔ لیکن وہ تو محبت کا بیوپاری تھا اور آپ جانتے ہیں محبت کا بیوپار ہمیشہ گھٹے کا سودا ہوتا ہے۔

نذیر اُس وقت  بھی بازی لے گیا، آج بھی بازی اُسی کی ٹھہری۔ اپنی پیاری بیوی کی وفات کے دو ہفتے بعد اُسی سے جا ملا۔

یہ ہوتی ہے میاں بیوی میں سچی محبت۔۔۔۔

زمیندار کا خوبر ہمیں سے ہمیشہ ہمیشہ جُدا ہوگیا۔

ہم دُور تلک تمھیں دیکھیں گے

تُم  زرا  ہاتھ  ہلاتے ہلاتے  رہنا

.

  نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

.

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں.

مزید :

بلاگ -