لاہور سمیت دیگر شہروں میں گرمی بڑھتے ہی لوڈشیڈنگ شروع، شہریوں کی دہائی

لاہور سمیت دیگر شہروں میں گرمی بڑھتے ہی لوڈشیڈنگ شروع، شہریوں کی دہائی
لاہور سمیت دیگر شہروں میں گرمی بڑھتے ہی لوڈشیڈنگ شروع، شہریوں کی دہائی

  

لاہور (ویب ڈیسک) لاہور سمیت مختلف شہروں میں گرمی کی شدت بڑھتے ہی اعلانیہ اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے۔ شہریوں نے حکام کو دہائی دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس عذاب سے کون چھٹکارا دلائے گا؟

تفصیل کے مطابق گرمی کی شدت میں اضافے کیساتھ ہی بجلی بندش کی شکایات بھی بڑھ گئی ہیں۔ لوڈ بڑھنے سے ٹرپنگ اور تاروں کا جلنا بھی معمول بن چکا ہے۔

دیہی علاقوں اور ہائی لاسز فیڈرز پر 3 سے 4 گھنٹے بجلی بند ہونے لگی ہے۔ تاہم لیسکو چیف کا موقف ہے کہ لاہور شہر میں کہیں بھی لوڈشیڈنگ نہیں کی جا رہی، سسٹم اوور لوڈ ہونے اور فنی خرابیوں کے باعث بجلی بندش کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ترسیلی نظام میں خرابی کی درستگی میں 1 سے 2 گھنٹے کا وقت درکار ہوتا ہے۔ چند دیہی علاقوں اور ہائی لاسز فیڈرز پر لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ ہائی لاسز فیڈرز لیسکو کے تمام فیڈرز کا ایک فیصد ہیں جہاں بجلی چوری ہوتی ہے۔ گرمی کی شدت بڑھنے سے سسٹم میں مسائل آتے ہیں۔ لوڈشیڈنگ اور فیڈرز کی بندش کا مکمل ریکارڈ کنٹرول روم میں موجود ہوتا ہے۔ادھر کراچی میں جاری بجلی بحران کو چار روز گزر چکے ہیں لیکن کے الیکٹرک کو شہریوں پر رحم نہیں آیا۔ مختلف علاقوں میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کا دورانیہ بارہ سے چودہ گھنٹے ہو چکا ہے۔ شہریوں نے حکومت سے کے الیکٹرک کیخلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

کے الیکٹرک نے فرنس آئل کی کمی کا بہانہ بنا کر شہریوں پر طویل لوڈشیڈنگ کا عذاب مسلط کر دیا ہے۔ ایسے میں حکام کی مجرمانہ خاموشی شہریوں کیلئے وبال جان بن گئی ہے۔پشاور میں بھی گرمی کی شدت میں اضافے کے ساتھ ہی بجلی کی لوڈشیڈنگ میں تیزی آ گئی ہے۔ پشاور کے 50 دیہات ناصر پور، بدھائی، ناردرن بائی پاس، لالہ کلے، توحید کالونی اور دیگر علاقوں میں لوڈشیڈنگ نے عوام کا جینا محال کر دیا ہے۔

شہریوں کے مطابق شہر میں روزانہ چھ سے آٹھ گھنٹے جبکہ نواحی اور دیہی علاقوں میں دس سے بارہ گھنٹوں تک بجلی کی لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے۔بجلی کی طویل بریک ڈاو¿ن سے متاثرہ علاقوں میں پانی کی قلت بھی پیدا ہو گئی ہے جس کے باعث عوام کو مشکلات کا سامنا ہے۔ بجلی کی لوڈشیڈنگ سے جہاں گھروں میں خواتین اور شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے، وہیں کاروباری طبقہ بھی بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔

مزید :

علاقائی -پنجاب -لاہور -