کورونا وائرس بے قابو ہو کر فضائوں میں پھیلا یا قدرتی، یہ الگ بحث لیکن اس وائرس کے بعد کیا صورتحال ہوگی؟ سینئر کالم نویس نے سارا نقشہ کھینچ دیا

کورونا وائرس بے قابو ہو کر فضائوں میں پھیلا یا قدرتی، یہ الگ بحث لیکن اس ...
کورونا وائرس بے قابو ہو کر فضائوں میں پھیلا یا قدرتی، یہ الگ بحث لیکن اس وائرس کے بعد کیا صورتحال ہوگی؟ سینئر کالم نویس نے سارا نقشہ کھینچ دیا

  

لاہور (کالم: منظور احمد) کرونا وائرس ہے تو اللہ کا عذاب ہی، خواہ یہ کیمیائی لیباریٹری میں پیدا ہوا ہو اور انسانی غلطی سے بے قابو ہو کر فضاؤں میں پھیل گیا ہو یا اس بے جان کیمیائی مادے کو اللہ تعالیٰ نے ہم انسانوں کو خاص طور سے سزا دینے کے لئے وباءکی صورت میں کرّہِ ارض میں پھیلا دیا ہو۔ جس وباءکی وجہ اور علاج انسانوں کو معلوم نہ ہو سکے تو پھر Supernatural کی طرف دھیان جاتا ہی ہے۔ مسیحیوں کے ہاں آج کل دعائیہ اجتماع ہو رہے ہیں، ہندؤں کے ہاں یوگی اور مسلمانوں کے ہاں وظیفے اور توبہ استغفار پڑھے جا رہے ہیں۔جس رفتار سے ہم دنیا والے زندگی کو قائم رکھنے والے قدرتی ذرائع کو آلودہ کر رہے تھے بلکہ ضائع بھی کر رہے تھے، کرونا جیسی کسی بھی وباءکا آنا اشد ضروری تھا۔ پانی اور ہوا، زمین پر رہنے والوں کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے عظیم نعمتیں ہیں جو ہمیں بِلا قیمت اَزل سے مل رہی ہیں۔ اِنسانوں کی بڑھتی ہوئی آبادی نے اور امیر ممالک کے بے اعتدال رہن سہن نے قدرت کی دی ہوئی اِن نعمتوں کو نہ صرف شدید آلودہ کر دیا بلکہ اِن کی مقدار اور کوالٹی بھی کم ہونے لگی۔ ہم پاکستانی قدرت کے دیئے ہوئے سالانہ صاف پانی کو اپنی اَناؤں اور سیاسی مفادات کی تسکین کے لئے ضائع کر دیتے ہیں۔ زیر زمین پانی کی سطح مزید نیچے جا چکی ہے جسکی وجہ سے شہری آبادی کو اب نلکے کا پانی بھی قیمتاً ملتا ہے اور محدود وقت کے لئے میسر ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ صاف ہوا کو ہم انسانوں نے زہر آلودکر دیا ہے۔ ہماری آٹو موبائلز، ہمارے دھواں چھوڑتے ہوئے کارخانے اور ہمارے اینٹوں کے بھٹّوں نے فضاءمیں اِتنی کاربن ڈائی آکسائیڈاور دھوئیں کے سیاہ ذرات ملا دیئے ہیں کہ آسمان ہمیں سالہا سال سے نیلا نظر نہیں آیا سوائے برسات کے چند دِنوں کے۔

روزنامہ پاکستان میں منظور احمد نے لکھا کہ کرونا نے دنیا کے تمام انسانوں کو لاک ڈاؤن(lockdown)کر دیا۔سڑکوں سے ڈیزل کا دھواں چھوڑتی ہوئی بسیں غائب ہو گئیں۔ آسمانوں میں ہر وقت یعنی دن رات اڑنے والے چھوٹے بڑے ہوائی جہازوں کی تعداد 3 لاکھ سے زیادہ ہے (بحوالہ ICAO)، 3 ماہ سے یہ جہاز زمین پر ہیں۔پاکستان کا آسمان اب نیلا نظر آتا ہے۔ سڑکیں بھی صاف ستھری نظر آتی ہیں۔ کراچی جیسا شہر جہاں اِنسانی چہروں پر ڈیزل کے دھوئیں کی کالک جم جاتی تھی، اب وہاں ہر کوئی اپنے چہرے کے اصلی رنگ میں نظر آتا ہے۔ درختوں کے ملگجے پتے اَب سبزکچور نظر آتے ہیں اور آنکھوں کو بھلے لگتے ہیں، پھول خاک آلود نظر نہیں آتے۔ جس طرح نظر آ رہا ہے، کرونا کا زور ابھی مہینوں اور رہ سکتا ہے۔ ہو سکتا ہے 2020ء کے آخر تک ہم اس وباء کو بھگت رہے ہوں۔ اس وباء سے ہماری زمین کو شائد 2-3 صدیوں کی مہلت اور مِل جائے۔ جنگلات واپس آجائیں، Ozone گیس کی حفاظتی تہہ ہماری زمین کے اِرگرد مزید توانا ہو جائے۔ سورج کی تپش سے پگھلنے والے گلیشیروں کو دوبارہ زندگی مل جائے۔ سمندروں کی سطح اپنی اصل حالت پر واپس آجائے، Weather change کا ہوا جو پچھلے 50 سال سے ہمارے سروں پر منڈلا رہا تھا، وہ بھی قابو میں آجائے۔ غرضیکہ ہماری زمین کا قدرتی رنگ واپس آجائے گا اس Covid-19 کے باعث۔

مگر انسانوں نے پچھلے 300 سالوں سے ٹیکنالوجی کی مدد سے اپنے رہن سہن، معاشرت، تجارت، سیاست اور کلچر کا آہستہ آہستہ جو اسلوب اپنایا تھا، وہ البتہ ہمیشہ کے لئے کچھ اور شکل اختیار کر لے گا۔ کرونا کی طرح کے وائرس ہم لوگوں پر آئندہ بھی حملہ آور ہوتے رہیں گے۔ ٹیکنالوجی بھی نہ صرف ساتھ ساتھ ترقی کرتی رہے گی بلکہ وہ اپنے آپ کو کرونا کے مطابق ڈھالتی بھی رہے گی، 3 ماہ کے لاک ڈاو¿ن سے جن شعبوں کا مشاہدہ کرنے کا مجھے موقع ملا وہ ہماری زندگی کے فوری معاملات سے تعلق رکھتے ہیں۔ مثلاًبچوں کی باقاعدہ تعلیم جو 3 ماہ سے قریباً معطّل ہے، تجارتی سرگرمیاں بالکل محدود ہیں، طعام خانے اور ہوٹل بند ہیں، ہوائی اور ریل کا سفر محدود ہے، شادی ہالز اور دوسری پبلک تقریبات پر پابندی ہے، شہر ی اور انٹرسٹی بسوں کے آپریشن پربھی بندش ہے، یہاں تک کہ عدالتی کاروائیاں بھی محدود ترین ہو گئی ہیں۔ ہسپتالوں کے OPD شعبے غیر فعال ہیں۔ بین الااقوامی سیاحت جب نہیں ہو گی تو دنیا میں ہوٹل بزنس بھی بری طرح سکڑ جائے گی۔ 2020ء کے اولمپیک کھیل کھٹائی میں پڑتے نظر آ رہے ہیں۔ اس دفعہ ٹوکیو میں یہ کھیل ہونے تھے۔ جاپان کی حکومت نے اربوں ڈالر خرچ کر کے دوسرا اولمپیک سٹی بنایا ہے (پہلاolympic سٹی اب جاپان کا صنعتوں سے بھرپور شہر ہے)۔ لاکھوں تارکینِ وطن بشمول ایک لاکھ پاکستانیوں کو ملازمتیں ملنے کی امید تھی۔ ائیر لائنز کا کاروبار خوب چمکنا تھا۔ چھوٹی بڑی صنعتیں اولمپیک کھیلوں سے جڑی ہوتی ہیں، وہ ٹھپ ہو جائیں گی۔ ماسک اور سماجی فاصلوں کی ہمہ وقت ضرورت ہماری زندگی کا مستقل حصہ بن جانے کی وجہ سے ہمارے میلوں ٹھیلوں، شادی بیاہ اور مذہبی محفلوں کی شکل ہی اور ہو جائے گی۔زندگی کی بے ساختگی کا جو حسن ہے وہ شائد دوبارہ نہ آئے۔ بیرونِ ملک سفر کرنے کے قوائد یقینا تبدیل ہو نگے۔ پاکستانی ائیر پورٹس پر حاجیوں اور عمرہ کرنے والوں کے استقبال کے لئے آنے والوں کا جوش و خروش اور جھمگٹھے نظر نہیں آئیں گے۔ باہر جانے والوں کو ائیر پورٹ پر کم از کم 5-6 گھنٹے پہلے پہنچنا ہو گا۔ بورڈنگ کارڈ حاصل کرنے کے لئے حسبِ سابق قطار پر قطار چڑھی نہیں ہوگی۔ سماجی فاصلوں کی وجہ سے روانگی اور آمد کے لاؤنج چھوٹے پڑ جائیں گے۔ جیسے کہ معلوم ہوا ہے کہ چین کے دارالحکومت بیجینگ کو مکمل طور پر لاک ڈاؤن کر دیا گیا ہے جس کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کرونا دوبارہ بھی حملہ آور ہو سکتا ہے۔

یہ تو یقین ہے کہ کرونا Man made وبا ہے لیکن یہ اللہ تعالیٰ کے عذاب کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ دنیا کے بڑے Virologists کے مطابق Covid-19 کی طرح کے مزید وائرس پیدا ہو سکتے ہیں جس کا مطلب یہ ہوا کہ ہمارا رہن سہن، تعلیم، صحت، تجارت، صنعت اور تمام دفتری نظام میں تبدیلی آئے گی۔ Online تعلیم ہی ایک بڑا مسئلہ بن جائے گی۔ جب سے دنیا میں باقاعدہ سکول، مدرسے، کالج اور یونیورسٹیاں وجود میں آئی ہیں ان کے لئے کسی نہ کسی قسم کی عمارت (Campus) کی ضرورت ہوتی ہے۔ کلاس روم کا وہ کلچر جو ہزاروں سال سے رائج ہے وہ درہم برہم ہو جائے گا۔ نہ صبح کی اسمبلی ہوگی، نہ کلاس رومز سے منسلک معصوم شرارتیں، استادوں کے ساتھ حاضر جوابی، چھوٹے موٹے رومانس، بلیک بورڈ، سکول کینٹین، اِنٹر کلاس تقریری اور کھیلوں کے مقابلے ختم ہو جائیں گے۔ Online تعلیم جب ہر درس گاہ کا معیاری طریقہ بن جائے گی تو اس کا فوری فائدہ پاکستانی بچوں کو نہیں ملے گا کیونکہ ہمارے تمام دیہی علاقوں میں ابھی تک Internet کی سہولت میّسر نہیں ہے۔ ہمارے بچے تو ابھی تک روائتی تعلیم سے محروم ہیں۔ کمپیوٹر لٹریسی کے بغیر ہمارے دیہی پس منظر کے غریب بچے Onlineتعلیم سے اِستفادہ نہیں کر سکیں گے۔ اِن بچوں کے لئے روائتی سکولوں کی عمارتیں بھی شائد تعمیرنہ ہوں کیونکہ سماجی فاصلہ قائم رکھنا ہماری ضرورت بن چکا ہو گا۔ البتہ بڑے ناموں والے سکولوں اور کالجوں کی عمارتیں بھی Online تعلیمی سسٹم کی وجہ سے بے کار ہو جائیں گی۔ ظاہر ہے اِن سکولوں کو اپنی فیسیں بھی بہت کم کرنی پڑیں گی کیونکہ بڑی عمارتوں اور سٹاف کے اخراجات بالکل کم ہو جائیں گے۔ آج سے 10-15 سال بعد آن لائن تعلیم سے ہمارے دیہی بچے بھی مستفید ہونا شروع ہو سکیں گے۔Online تعلیم سے ہمارے ملک کی خواندگی کی شرح(Literacy rate) بھی بلند ہو جائے گی۔ ہو سکتا ہے کہ بالاخر تمام ملک کا نظامِ تعلیم بھی یکساں ہو جائے اور یہ جو بھانت بھانت کے درسی سسٹم ہمیں نظر آتے ہیں وہ بھی ہائی سکول لیول تک یکساں ہو جائیں گے۔ ان Elite سکولوں کے لئے بڑی بڑی فیسوں کا جواز بھی نہ ہوگا۔ Online تعلیم جو کرونا وائرس کے خوف سے شروع ہو گی، وہ ملک کے لئے باعث نفع ہوگی۔

اسی طرح ہوم ڈلیوری کی سہولت سے بڑے ریسٹورنٹ اور گراسری سٹور کا کلچر بھی تبدیل ہو جائے گا۔ پاکستان میں Online سروس کی وجہ سے بڑے ریسٹورینٹوں سے مسابقت (Competition) کرنے کے لئے گھر میں تیار شدہ کھانے (Dishes) سپلائی کرنے والوں کی ابھی سے بہتات ہو گئی ہے۔ ہوم سروس جو اَب اچھے خاصے کاروبار کی شکل اِختیار کرتا جا رہا ہے اس سے یقینا ہوٹلوں کی Home Delivary کی سہولت پر منفی اثر پڑے گا۔ حکومت کو ہوٹلوں سے جو GST اور ٹیکس کی آمدنی ہوتی ہے وہ بھی کم ہو جائے گی۔ Online کا طریقہِ کار (خواہ بزنس میں ہو، تعلیم اور صحت میں یا دفتری کاموں میں ہو)، بڑی بڑی عمارتوں اور پلازوں کی ضرورت کم کر دے گا۔ جب پرائیویٹ دفتروں کا 80% عملہ آن لائن کام کر رہا ہو گا تو اتنی عالیشان بلڈنگز کی ضرورت باقی نہ رہے گی۔ رئیل اسٹیٹ کے دام نیچے آجائیں گے۔ امریکہ میں بڑے جہازی سٹورز اور دفاتر دھڑا دھڑبند ہو رہے ہیں۔ کرونا وائرس اور Online خدمات نے رئیل اسٹیٹ کی قیمتیں مزید گِرا دی ہیں۔ پاکستان میں بھی یہ ہی ہو گا۔ اِن پلازوں کو رہائشی اپارٹمنٹ میں تبدیل کرنا پڑے گا۔ کرونا کے بعد کا منظر مجھے تو اچھا ہی نظر آتا ہے خواہ اسے دیکھنے کے لئے میں حیات نہ ہوں۔

مزید :

علاقائی -پنجاب -لاہور -