چین نے دریا کا رُخ موڑ دیا، بھارت کو ایک اور زوردار جھٹکا، نیندیں اُڑگئیں

چین نے دریا کا رُخ موڑ دیا، بھارت کو ایک اور زوردار جھٹکا، نیندیں اُڑگئیں
چین نے دریا کا رُخ موڑ دیا، بھارت کو ایک اور زوردار جھٹکا، نیندیں اُڑگئیں

  

بیجنگ(مانیٹرنگ ڈیسک) گزشتہ دنوں خبر آئی تھی کہ چین نے بھارت کے زیرقبضہ تبتی علاقے گیلوان وادی میں بلڈوزر اور دیگر بھاری مشینری پہنچانی شروع کر دی ہے جس کا مقصد وہاں سے بہنے والے دریائے گیلوان کا رخ موڑنا ہے لیکن اب ماہرین نے اس حوالے سے ایک اور حیران کن دعویٰ کر دیا ہے۔ میل آن لائن کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ چین دریائے گیلوان کا رخ پہلے ہی موڑ چکا ہے تاکہ وادی کے زیادہ علاقے کو اپنی سرزمین کا حصہ بنا سکے۔

ماہرین نے سیٹلائٹ سے حاصل کردہ تصاویر کے ذریعے بتایا ہے کہ ان تصاویر میں وادی گیلوان کا یہ علاقہ ایک تنگ پٹی کی صورت میں نظر آتا ہے جس میں کوئی روڈ انفراسٹرکچر نہیں ہے۔ چین نے 2015-16ءمیں ہی خفیہ طور پر کمپریسڈ مٹی کے ذریعے وہاں روڈز بنانے شروع کر دیئے تھے۔ پہلے یہاں چینی فوج بھی موجود نہیں ہوتی تھی لیکن مئی 2020ءمیں چینی فوجی جنگی مشق کے لیے اس علاقے میں داخل ہو گئے۔

ریٹائرڈ بھارتی کرنل ونائیک بھٹ کا کہنا تھا کہ ”دریائے گیلوان کے ہوتے ہوئے چینی فوج زیادہ بڑی نفری وہاں تعینات نہیں کر سکتی تھی، جس پر چینی انجینئرز نے دریا کا رخ موڑنے کی منصوبہ بندی کی اور اس پر کام شرع کر دیا۔ انہوں نے ڈوزرز اور جے سی بیز کے ذریعے دریا کو بہت گہرا کر دیا، جس سے پانی سمٹ گیا اور کناروں پر فوجی تعینات کرنے کے لیے زیادہ جگہ بن گئی۔اس کے بعد انہوں نے دریا کا رخ موڑنا شروع کیا اور اس منصوبے پر تاحال کام جاری ہے۔“ واضح رہے کہ وادی گیلوان میں دو ہفتے قبل چینی و بھارتی فوج کے درمیان ڈنڈوں اور پتھروں سے ایک جھڑپ ہوئی تھی جس میں ایک کرنل سمیت 20بھارتی فوجی ہلاک ہو گئے تھے۔ تب سے دونوں ممالک کے تعلقات میں کشیدگی عروج کو پہنچ چکی ہے اور دونوں طرف سے ایل اے سی (لائن آف ایکچوئل کنٹرول)پر جنگی سازو سامان اور فوج کی اضافی نفری تعینات کی جا رہی ہے۔

مزید :

بین الاقوامی -