92 دن کورونا وائرس میں مبتلا رہنے والے دنیا کے واحد شخص کی کہانی

92 دن کورونا وائرس میں مبتلا رہنے والے دنیا کے واحد شخص کی کہانی
92 دن کورونا وائرس میں مبتلا رہنے والے دنیا کے واحد شخص کی کہانی

  

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) کورونا وائرس میں طویل ترین عرصے تک مبتلا رہنے والا برطانوی شخص بالآخر صحت مند ہو کر گھر واپس چلا گیا۔ میل آن لائن کے مطابق اس 56سالہ شخص کا نام سٹیو وائٹ ہے جو 92دن تک اس موذی وباءسے جنگ لڑتا رہا۔ ایک وقت میں اس کی حالت اتنی تشویشناک ہو چکی تھی کہ ڈاکٹروں نے اس کے زندہ بچنے کا امکان صرف 1فیصد بتا دیا تھا تاہم قسمت نے سٹیو وائٹ کا ساتھ دیا اور گزشتہ روز صحت مند ہونے کے بعد اسے ہسپتال سے ڈسچارج کر دیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق برطانوی شہر بروم یارڈ کے رہائشی سٹیو وائٹ کو 19مارچ کو ہسپتال لایا گیا تھا۔ جب اس کی حالت زیادہ تشویشناک ہو گئی اور ڈاکٹروں نے اس کے بچنے کا امکان صرف ایک فیصد بتا دیا، اس وقت ڈاکٹروں نے اسے وینٹی لیٹر سے اتارنے کا بھی فیصلہ کر لیا تھا تاکہ اس کی جگہ کسی ایسے مریض کو وینٹی لیٹر پر رکھا جا سکے جس کے بچنے کا امکان زیادہ ہو، تاہم سٹیو وائٹ کے بچوں نے ڈاکٹروں سے التجا کی کہ وہ ان کے باپ کو وینٹی لیٹر پر چند دن اور رکھیں، جس پر ڈاکٹر رضامند ہو گئے۔

صحت مندی کے بعد سٹیو وائٹ کا کہنا تھا کہ ”میری زندگی نیشنل ہیلتھ سروسز کے ڈاکٹروں کی مرہون منت ہے۔ انہوں نے ہمت نہیں ہاری اور میرا علاج کرتے رہے۔ جب میں صحت مند ہوا تو ہسپتال کا تمام عملہ میری صحت مند کو ایک معجزہ قرار دے رہا تھا اور وہ لوگ مجھے ہیرو کہہ رہے تھے لیکن حقیقی ہیرو وہ خود ہیں جن کی وجہ سے میں آج زندہ ہوں۔“

مزید :

برطانیہ -