ورلڈکپ 2011ءکا فائنل میچ فکسڈ ہونے کے الزامات، اس وقت سری لنکن ٹیم کے چیف سلیکٹر اور مایہ ناز سابق بلے باز اروندا ڈی سلوا بھی میدان میں آ گئے

ورلڈکپ 2011ءکا فائنل میچ فکسڈ ہونے کے الزامات، اس وقت سری لنکن ٹیم کے چیف ...
ورلڈکپ 2011ءکا فائنل میچ فکسڈ ہونے کے الزامات، اس وقت سری لنکن ٹیم کے چیف سلیکٹر اور مایہ ناز سابق بلے باز اروندا ڈی سلوا بھی میدان میں آ گئے

  

کولمبو (ڈیلی پاکستان آن لائن) بھارت سے ورلڈ کپ فائنل میں فکسنگ کی تحقیقات کا مطالبہ سامنے آ گیا جبکہ سری لنکا کے سابق بیٹسمین اور 2011ءکے چیف سلیکٹر اروندا ڈی سلوا نے کہاکہ اب میں الزامات پر خاموش نہیں رہوں گا۔

تفصیلات کے مطابق سری لنکا کے سابق وزیر کھیل مہندانندا آلوتھگامگے نے ورلڈ کپ 2011 ءکے فائنل میچ کو فکسڈ قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیاکہ آئی لینڈرز نے یہ میچ بھارت کو بیچ دیا تھا جبکہ انہوں نے آخری لمحات میں ٹیم میں 4 تبدیلیوں اور ایک انتہائی سینئر کھلاڑی کے روئیے کو کافی مشکوک بھی قرار دیا، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ٹیم آفیشلز نے اس مقابلے کے بعد گاڑیوں کی کمپنیاں خرید لیں اور دیگر بزنس کرنے لگے، سری لنکا میں تو اس حوالے سے تحقیقات شروع کرنے کا اعلان ہو چکا ہے لیکھن اب بھارت سے بھی معاملے کی تفتیش کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

سابق بیٹسمین اور 2011ءورلڈ کپ کے موقع پر چیف سلیکٹر کی ذمہ داری انجام دینے والے اروندا ڈی سلوا نے بھی بھارتی حکومت اور کرکٹ بورڈ سے مطالبہ کیاکہ وہ سنگین الزامات کی خود تحقیقات کرے۔ انہوں نے کہاکہ اب میں بھی مزید خاموش نہیں رہوں گا، یہ بہت ہی سنجیدہ نوعیت کے الزامات ہیں، آلوتھگامگے کو لازمی طور پر ثبوت دینا چاہیے، اگر ان کے پاس اس حوالے سے معلومات تھیں تو وہ 9 برس تک خاموش کیوں رہے۔

یاد رہے کہ سابق وزیر کھیل نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) سے بھی تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا مگرکوئی بھی جواب موصول نہیں ہوا۔ دوسری جانب سری لنکن کرکٹ بورڈ کے سابق چیئرمین تھلنگا سماتھی پالا نے کہاکہ آلوتھگامگے نے اپنے انٹرویو میں کسی بھی کھلاڑی کا نام نہیں لیا،اس کے باوجود مہیلا جے وردنے اور کمارسنگاکارا کیوں ٹویٹ کررہے ہیں، انہیں شور نہیں مچانا چاہیے، دلچسپ بات یہ ہے کہ خود سماتھی پالا کرپشن الزامات کی وجہ سے تاحیات پابندی کا شکار ہیں۔

مزید :

کھیل -