کرونا میں طالب علموں اور والدین کی ذمہ داری

کرونا میں طالب علموں اور والدین کی ذمہ داری
کرونا میں طالب علموں اور والدین کی ذمہ داری

  

گزشتہ روز میرے ایک دوست کے بیٹے نے جو ایف ایس سی کا طالب علم ہے کہاکہ کرونا بحران کی وجہ سے تعلیمی سلسلہ بار بار منقطع ہونے سے ہمارے اندر کا سٹوڈنٹ ہی مرگیا ہے۔ یہ ایک اچھے طالب علم کا خیال ہے۔ درمیانے اور درمیانے سے کم درجے کے طالب علم کا کیا حال ہوگا؟

کرونا کی وبا ایک قدرتی آفت ہے جس نے کیا ترقی یافتہ، کیا ترقی پذیر ممالک، سب کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اس نے زندگی کے تمام شعبوں کو بری طرح متاثر کیا ہے۔دنیا بھر میں لوگ بیروزگار ہوگئے، کتنے لوگ اپنوں سے بچھڑ گئے. تعلیم کا شعبہ بھی اس میں یوں شامل ہوا کہ دنیا بھر میں تعلیمی شیڈول متاثر ہوئے۔ سال 2020ء میں بغیر امتحان کے اگلی کلاسز میں ترقی دی گئی۔ سال 2021ء جاری ہے۔ اب حکومت کسی حد تک امتحانات لینے کا ایک لولا لنگڑا فیصلہ کرپائی ہے جس پر عمل درآمد ہونا باقی ہے۔

طالب علموں کا رویہ کیا ہے؟

اس وقت حکومتی ہدایات کی روشنی میں زیادہ تر تعلیمی ادارے کھل گئے ہیں تعلیمی اداروں کی بندش اور آن لائن کلاسز میں طالب علموں کی عدم دلچسپی نے انہیں تعلیم سے دور کردیا ہے اور زیادہ تر طالب علم یہ چاہتے ہیں کہ امتحان کے بغیر پروموشن کا سلسلہ جاری رہے۔ کچھ عرصہ پہلے تو کچھ یونیورسٹیوں میں اس بات کے مطالبے کی حمایت میں بہت سے طالب علم سڑکوں پر نکل آئے کہ چونکہ ہماری کلاسز آن لائن ہوئی ہیں تو امتحان بھی آن لائن ہو۔ گویا  انہیں کھلی چھٹی دی جائے کہ وہ گھر بیٹھ کر جیسے مرضی امتحان دیں۔ کم از کم پاکستان میں تو یہ ممکن ہی نہیں کہ یہ اعتماد کیا جائے کہ بغیر نقل کئے گھر بیٹھ کر امتحان دیا جاسکے۔ یہ بات مشاہدہ میں آئی ہے کہ جب آن لائن امتحان ہوا تو درمیانے درجے کے طالب علموں نے بھی شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا.مجموعی طور پر طالب علم اس وقت تعلیم میں وہ دلچسپی نہیں لے رہے جو انہیں لینی چاہئے۔

والدین کو کیا کرنا ہے؟

ان حالات میں جہاں تعلیمی اداروں کو اپنا کردار ادا کرنا ہے وہیں والدین کا کردار بے حد اہم ہے۔ انہیں چاہئے کہ وہ اپنے بچوں کو ذہنی اور جسمانی طور پر تیار کرتے رہیں کہ یہ ایک وبا ہے، اس کوچیلنج سمجھ کر اس کا سامنا کریں، کمفرٹ زون میں نہ خود آئیں نہ بچوں کو آنے دیں بلکہ اس وبا کے ساتھ جینا سیکھیں اور سکھائیں۔ مزید یہ کہ امتحان کو زحمت نہ سمجھیں بلکہ اس کی بھرپور تیاری کریں۔

یاد رکھیں! قوموں کی زندگی میں مشکل وقت آتے ہیں۔ سرخرو وہی قومیں ہوتی ہیں جو ان مشکلات کو رب تعالیٰ کی آزمائش سمجھ کر ان کے ساتھ جینا سیکھ لیتی ہیں۔ زندگی کی گاڑی حالات کے رحم و کرم پر نہیں ہونی چاہئے بلکہ اس کو بہتر انداز میں چلانے کے لئے اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی بہترین صلاحیتوں کا بھرپور استعمال ہے۔ یہی بات ہم سب نے اپنے بچوں کو سکھانی ہے۔ جب پاکستان بنا تھا۔ بارشیں تھیں، وبا تھی، ہجرت کی مشکلات تھیں، بے سروسامانی تھی، مگر اللہ تعالیٰ نے سرخرو کیا۔ اب بھی مشکل وقت ہے، اپنے بچوں کو وقت دیں، ان کو بتائیں کہ حالات کا مقابلہ کیسے کرنا ہے؟  ہمارے بچے پہلے بھی مشکل حالات یا آزمائش کے اتنے عادی نہیں بلکہ میرا مشاہدہ تو یہ ہے کہ زیادہ تر بچے آرام کے عادی ہوگئے ہیں. پروفیشنل اداروں میں داخلہ لینے کے لئے اس وقت انٹرمیڈیٹ کے تین مضامین پر انحصار کرنا ہے، انہی کی بنیاد پر باقی مضامین میں نمبر ملیں گے جس کا فارمولا ابھی تک سامنے نہیں آیا. اس لئے ہمیں اپنے بچوں کو اس بات پر قائل کرنا ہے کہ محنت اور کوشش ہی کامیابی ہے. 

کرونا کی وجہ سے بچے ذہنی اور نفسیاتی مسائل کا شکار ہوسکتے ہیں اگر ضروری ہو تو ڈاکٹر سے ملا جائے، ٹال مٹول سے کام نہ لیا جائے. اب تک کا مشاہدہ ہے کہ کرونا کی وجہ سے بار بار تعلیمی سلسلہ منقطع ہونے سے بچے ان دنوں بورڈ کے امتحانات سے پہلے ہونے والے امتحانات میں بہت اچھی کارکردگی نہیں دکھا پارہے. اس لئے والدین بچوں اور ان کے تعلیمی اداروں سے مسلسل رابطے میں رہیں. سلیبس کم ہونے اور پیپرز کی تعداد کم ہونے سے خاطرخواہ فائدہ نہ اٹھایا جاسکا تو بچوں اور والدین کیلئے پریشانی بڑھ جائے گی. بعض بچے اس وقت بھی اس معجزے کے منتظر ہیں کہ امتحانات نہ ہوں. اس سے پہلے بھی وہ یہ توقع کررہے تھے کہ امتحانات نہیں ہوں گے. اللہ نے کرم کیا ہے، وبا کا زور ٹوٹ ریا ہے. اللہ سے دعا ہے کہ اللہ ہمیں مزید آزمائش میں نہ ڈالے اور ہم معمول کی زندگی کی طرف لوٹ سکیں۔ کرونا میں پروان چڑھنے والی نوجوان نسل کو ہر لحاظ سے بہتر رہنمائی کی ضرورت ہے. ان کا تعلیمی معیار تو متاثر ہوا ہی ہے عمومی رویہ بھی قابلِ گرفت اور قابلِ اصلاح ہے۔ انہوں نے اپنا ذہن یہ بھی بنالیا ہے کہ احتجاج سے بھی مسئلہ حل ہو سکتا ہے. اس کی وجہ حکومت کا باربار فیصلہ بدلنا تھا، خاص طور پر امتحانات میں کم مضامین کے ساتھ جانا، اس سے پہلے حکومت نے ایسا فیصلہ نہیں کیا تھا. جیسے ہی طالب علموں نے احتجاج کیا، حکومت نے فیصلہ بدل دیا. ہمیں اپنے بچوں کو یہ بات سمجھانے کی ضرورت ہے کہ ایسا ہمیشہ نہیں ہوتا، مخصوص حالات ہی میں ایسا ممکن ہے. 

ہمیں اپنے بچوں کو نہ صرف اس وبا کے دوران، اس وبا کے بعد کے حالات اور آنے والے وقت میں زندگی کے چیلنجوں کے لئے تیار کرنا ہے۔ رب تعالیٰ نے مایوس نہ ہونے کا جو لافانی پیغام دیا ہے دراصل وہ چیلنجوں کا سامنا کرکے اپنی دنیا بنانے کے لئے خود کوشش کرنے  کا خوبصورت پیغام ہے. محنت اور چیلنجوں کا سامنا کرکے بنائی دنیا سکون دیتی ہے. ہم نماز ادا کر لیں تو اندر سے خوشی ملتی ہے کہ میں نے اللہ کی خوشنودی اور اپنی بہتری کے لئے ایسا کیا. یہ خوشی ہر اس کام کے مکمل ہونے پر ملتی ہے جو بطور انسان ہم نے کرنا ہے. اپنے بچوں کو اسی بات کا ہی سبق دینا ہے کہ زندگی کے چیلنج کو میرٹ پر قبول کریں  امید، سکون، کامیابیاں اور خوشیاں ان کے قدموں میں پڑی ہوئی ہیں. 

مزید :

رائے -کالم -