سندھ کو دو سال میں 17سو ارب روپے دیے ، کیا بنایا ، کہاں گئے پیسے ، فواد چودھری کا قومی اسمبلی میں سوال

سندھ کو دو سال میں 17سو ارب روپے دیے ، کیا بنایا ، کہاں گئے پیسے ، فواد ...
سندھ کو دو سال میں 17سو ارب روپے دیے ، کیا بنایا ، کہاں گئے پیسے ، فواد چودھری کا قومی اسمبلی میں سوال

  

اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے کہا کہ این ایف سی ایوارڈ کے بعد گلی ، محلوں ، تعلیم و صحت کے معاملات صوبائی حکومتیں دیکھتی ہیں ، سندھ کو گزشتہ دو برس میں تقریبا ً سولہ سے سترہ سو ارب روپے دیے مگر وہاں کے عوام آج بھی شکایات کے انبار لئے بیٹھے ہیں ، ان سترہ سو ارب روپے کا کیا بنا لیا، کہاں گئے وہ پیسے ۔

قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے فواد چودھری کا کہنا تھا کہ ہم جب ان حلقوں میں جاتے ہیں تو عوام سوال کرتے ہیں کہ گیس نہیں ہے ، سڑکیں ٹوٹی پھوٹی اور خراب ہیں ، ہسپتالوں کی حالت درست نہیں ،ڈاکٹرز تک موجود نہیں ، سکولوں کی عمارتیں نہیں ہیں ،جہاں عمارتیں ہیں وہا ں اساتذہ اور دیگر بنیادی سہولیات نہیں ہیں، اٹھارہویں ترمیم کے بعد یہ صوبوں کی ذمہ داری ہے ، سندھ کے بڑے شہر کراچی اور لاڑکانہ تک میں سہولیات نہیں ، اس سال کے بجٹ میں سات سو سے ساڑھے سات سو ارب روپے سندھ کو دیے گئے جبکہ گزشتہ دو سالوں میں قریب 17سو ارب روپے مراد علی شاہ کو دیے ، ان سے پوچھا تو جائے کہ کیا پلاننگ تھی آپ کی ، کدھر گیا یہ پیسہ ؟۔

فواد چودھری نے کہا کہ کراچی منی پاکستان ہے ، یہ دنیا کا پانچواں بڑا شہر ہے مگر اس کی اپنی پولیس نہیں، سال 1990سے رینجرز یہاں کے حالات سنبھالے ہوئے ہے ، اربوں روپے ان شہروں پر خرچ ہوئے انہیں تو پیرس بن جانا چاہئے تھا۔

فواد چودھری نے قرضوں سے متعلق کہا کہ جب آصف علی زرداری صدر بنے تو ملک پر قریب 6ہزار ارب روپے کا قرضہ تھا ، 2006 سے 2018 تک یہ قرض بڑھ کر 24ہزار ارب روپے ہو گیا ، ہر سال ہمیں دو ہزار ارب روپے قرضوں کے سود میں دینا پڑتا ہے ، جو ہمارے دوستوں نے مسلط کیا۔ پاکستان نے 1947 سے 2007 تک جو چھ ہزار ارب روپے قرض لیا اس میں ملک کا انفرا سٹرکچر بنایا ، فوج سمیت دیگر اداروں کو مضبوط کیا مگر انہوں نے دس سال میں جو قریب 20ہزار ارب روپے قرض لیا اس میں انہوں نے کیا بنایا ۔

فواد چودھری نے کہا کہ ہمارے دوستوں نے ساہیوال میں کوئلے سے چلنے والا بجلی کا پلانٹ لگایا مگر ساہیوال میں تو کوئلہ میسر نہیں ہے ، اس کے لئے پلاننگ یہ کی گئی کہ کراچی سے کوئلہ ریل گاڑی میں ساہیوال پہنچایا جائے گا اور پھر بجلی پیدا ہو گی ، اس منصوبے سے ایک تو ریل کے کرائے سمیت بجلی مہنگی ہوئی اور دوسرا ساہیوال اور گردو نواح میں بہت برے ماحولیاتی اثرات سے عوام متاثر ہوئے ۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ اس کے بعد ہمارے دوستوں نے ایک اور شاہانہ پراجیکٹ لگایا ، 2008 میں جب پیپلزپارٹی کی حکومت تھی تو ایک روپیہ بجلی کی کیپیسٹی پیمنٹ نہیں کرنا پڑتی تھی ، مگر نواز شریف کی حکومت میں ہمیں 190ارب روپے کیپیسٹی پیمنٹ کرنا پڑتی رہی جو سال 2018میں بڑھ کر 900ارب روپے ہو گئی ، وہ بجلی بنائیں یا نہ بنائیں ، ہم بجلی استعمال کریں یا نہ کریں مگر ہمیں یہ ادائیگی ہر صورت میں کرنا ہو گی اور یہ ادائیگی سال 2023 میں 1500ارب روپے ہو جائے گی ۔

فواد چودھری نے کہا کہ اس وقت پاکستان کی بجلی کی کل کھپت یا طلب 24ہزار میگاواٹ ہے جبکہ کمپنیز سے 30ہزار میگاواٹ کی ڈیل ہوئی ہے، ہم 24ہزار میگاواٹ سے اوپر بجلی استعمال کر ہی نہیں سکتے مگر ادائیگی 30ہزار میگاواٹ کی کرنی پڑ رہی ہے ، ہمیں 900ارب روپے کی بلا وجہ ادائیگی کرنی پڑ رہی ہے ، اس کا کوئی ذمہ دار ہے تو وہ مسلم لیگ ن ہے ۔

مزید :

قومی -