تحصیل لاہور میں بی آئی ایس پی سروے ، لڑائی جھگڑے، اساتذہ کا احتجاج پر غورشروع

تحصیل لاہور میں بی آئی ایس پی سروے ، لڑائی جھگڑے، اساتذہ کا احتجاج پر غورشروع
تحصیل لاہور میں بی آئی ایس پی سروے ، لڑائی جھگڑے، اساتذہ کا احتجاج پر غورشروع

  

لاہور (حافظہ فرسہ رانا)تحصیل لاہور میں اساتذہ سے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی )کا سروے کروانے کا انکشاف ہوا ہے جو آخری اطلاعات تک جاری ہے اور اس سلسلے میں شہری معلومات فراہم کرنے سے گریزاں ہیں ، اساتذہ کے پاس صرف سرکاری لیٹر کے علاوہ کوئی کارڈ وغیرہ نہ ہونے کی وجہ سے لڑائی جھگڑے بھی ہوئے، پولیس اور انتظامیہ سیکیورٹی دینے سے گریزاں ہے جس کے بعد اساتذہ نے سروے ڈیوٹی نہ کرنے اور احتجاج پر غورشروع کردیا ہے ۔

 روزنامہ پاکستان کو حاصل ہونیوالی دستاویزات کے مطابق سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب کی طرف سے نامزدگیوں کے بعد بی آئی ایس پی نے اساتذہ کو ذمہ داری سونپی اور اس سلسلے میں ایک لیٹر بھی جاری کردیا تاہم کوئی کارڈ فراہم نہیں کیا۔ سروے کرنیوالے محکمہ ایجوکیشن کے سٹاف کو ہدایت کی گئی ہے کہ ڈور ٹو ڈور جا کرفراہم کی گئی ڈیوائس پر خاندان کے افراد، فیملی روسٹر، ایجوکیشن و ہیلتھ پروفائلنگ، پیداواری اثاثے اور ہاﺅسنگ سٹرکچرکے بارے میں الیکٹرانک سروے کریں ۔انتظامیہ ، پولیس اور متعلقہ افراد کو تعاون کی ہدایت کی گئی لیکن معاشرے میں بڑھتے ہوئے فراڈ کی وجہ سے شہری معلومات فراہم کرنے یا فنگر پرنٹ دینے سے گریزکرتے اور ثبوت مانگتے ہیں لیکن اساتذہ کے پاس لیٹر کے علاوہ دکھانے کو کچھ نہیں۔ 

یہ بھی معلوم ہواہے کہ شاہدرہ، گلشن راوی اور کریم پارک کے علاقوں میں لڑائی جھگڑوں کے واقعات بھی ہوئے ہیں جس دوران ایک شخص زخمی ہوا جبکہ ون فائیو پر کال کے بعد ایک شخص کو پولیس اٹھا کر تھانہ شاہدرہ بھی لے گئی جسے بعد میں متعلقہ سپروائزر نے تھانے جاکر آزاد کروایاتاہم اس کی پولیس سے تصدیق نہیں ہوسکی تاہم ایک ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں ڈولفن اہلکار بھی موجود ہیں اور انہیں بھی یہی کہتے سنا گیا کہ شہری ٹھیک کہہ رہے ہیں، آپ ثبوت دیں۔ 

ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ شہری تعاون کرنے کو تیار نہیں، شدید گرمی میں دھکے کھارہے ہیں اور لڑائی جھگڑے بھی ہورہے ہیں، کسی قسم کی سیکیورٹی نہیں فراہم کی جارہی بلکہ شہریوں کے ہاتھوں زخمی ہونیوالوں کو مرہم پٹی کے لیے بھی کچھ نہیں ملتا، اگر سیکیورٹی فراہم نہیں کی جاتی تو اب مزید سروے نہیں ہوگا بلکہ محکمہ تعلیم کے متعلقہ ملازمین نے احتجاج پر غور شروع کردیا ہے ۔ یہ بھی معلوم ہواہے کہ سروے سے پہلے اساتذہ کی ٹریننگ کروائی گئی اور اس تربیتی ورکشاپ میں شریک نہ ہونے والے ملازمین کے نام بھی فائنل کارروائی کے لیے متعلقہ حکام کو بھجوادیئے گئے ہیں۔ 

مزید :

علاقائی -پنجاب -لاہور -