پنجاب یونیورسٹی میں طالب علم لڑکے اور لڑکیاں نازیبا حرکات کرتے ہوئے پکڑے گئے،شراب ڈیلیوری کی کوشش بھی ناکام 

پنجاب یونیورسٹی میں طالب علم لڑکے اور لڑکیاں نازیبا حرکات کرتے ہوئے پکڑے ...
پنجاب یونیورسٹی میں طالب علم لڑکے اور لڑکیاں نازیبا حرکات کرتے ہوئے پکڑے گئے،شراب ڈیلیوری کی کوشش بھی ناکام 

  

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن )پنجاب یونیورسٹی میں دو طالبات اور تین طلبہ نازیبا حرکات کرتے ہوئے پکڑے گئے جبکہ ایک شراب ڈیلیوری کی کوشش بھی ناکام بنا دی گئی ہے ۔

تفصیلات کے مطابق پنجاب یونیورسٹی میں طلبا تنظیم کے ناظم کا نام استعمال کرکے یونیورسٹی گیٹ نمبر ایک پر سیکیورٹی گارڈ نے انسپکشن کے دوران شراب کی 20بوتلیں پکڑ لیں، واقعہ کے مطابق پنجاب یونیورسٹی کے گیٹ نمبر پر ایک پر اکرم مسیح نامی شخص داخلے کی کوشش کررہا تھا کہ سکیورٹی نے سامان کی چینکنگ کیلئے روک لیا، اکرم مسیح نے ہاسٹل نمبر 18 میں فون پر بات کروائی تو طالبعلم نے کہا کہ یہ ہاسٹل ناظم کا سامان ہے، جس پر سکیورٹی گارڈ نے سامان کی تلاشی لی تو شراب کی 20 بوتلیں برآمد ہوئیں۔

گیٹ پرشراب کی بوتلیں پکڑے جانے پر پولیس طلب کرلی گئی،جس پرپولیس نےموٹرسائیکل سوار کو حراست میں لے لیا، اسی طرح موبائل فون نمبر کی انکوائری کی گئی تو جس لڑکے نے ناظم کا نام استعمال کیا وہ دراصل شعبہ جینڈرسٹیڈیز کا سیکنڈ سمسٹر کا طالبعلم اورپنجاب سٹوڈنٹ کونسل کا صدر تھا۔ پولیس نے اس طالبعلم کو بھی گرفتار کرلیا ہے اور خیام خان نامی طالب علم کے خلاف ایف آئی آر درج کرلی گئی ہے۔اتوار کے روز پیش آنے والے ایک دوسرے واقعے میں سوشیالو جی ڈیپارٹمنٹ اور جینڈر سٹڈی ڈیپارٹمنٹ کے پانچ طالب علمو ں کو یونیورسٹی کی سیکیورٹی نے مبینہ طور پر نازیبا حرکات کرتے ہوئے پکڑلیا ،ذرائع کے مطابق ان طالب علموں کو یونیورسٹی سے نکالنے کی چہ میگوئیاں ہو رہی ہیں ۔

دوسری طرف جماعت اسلامی پاکستان کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات قیصر شریف نے مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ پر ٹویٹ کرتے ہوئے الزام عائد کیاہے کہ پنجاب یونیورسٹی میں شراب فروشی کا دھندہ عروج پرہے ، گارڈز نے ہاسٹلز گیٹ پر شراب لیجاتے ہوئے ایک فردکو گرفتار کر لیا،خیام خان نامی طالب علم کیخلاف ایف آئی آر درج ہوچکی ہے ،خبر پر پردا ڈالنے کیلئے معاملے کو لڑکی سے جوڑنے کی کوشش کی گئی ، ویسے بری وہاں اب بھی شاید اسلامی جمعیت طلبہ ہے۔انہوں نے کہا کہ وائس چانسلر ڈاکٹر نیاز احمد اختر سے گزارش ہے کہ اس واقعے کا نوٹس لیا جائے،ڈاکٹرنیاز احمد اختر کےدورمیں یونیورسٹی کا تعلیمی معیاراوراس کی بین لاقوامی درجہ بندی بہتر ہوئی ہےتاہم ایسے واقعات سوالیہ نشان ہیں۔قیصر شیریف نے اپنے دوسرے ٹویٹ میں کہا کہ انتظامیہ جلد از جلد کارروائی کرکے اس غیر قانونی و غیر اخلاقی سرگرمیوں میں ملوث مجرموں کو کڑی سے کڑی سزا دے ورنہ پنجاب یونیورسٹی کے غیور طلبہ احتجاج کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔

مزید :

علاقائی -پنجاب -لاہور -