پامی نے پی ایم سی کی کارکردگی خلاف وائٹ پیپر جاری کرتے ہوئے بڑی دھمکی دے دی

پامی نے پی ایم سی کی کارکردگی خلاف وائٹ پیپر جاری کرتے ہوئے بڑی دھمکی دے دی
پامی نے پی ایم سی کی کارکردگی خلاف وائٹ پیپر جاری کرتے ہوئے بڑی دھمکی دے دی

  

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان ایسوسی ایشن آف میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالجز (پامی)نے پی ایم سی کی کارکردگی خلاف وائٹ پیپر جاری کر دیا،این ایل ای کی شرط واپس لی جائے، اعلی سطح کی کمیٹی بنا کر ہمارے مطالبات سنے جائیں ورنہ سڑکوں پر آنے پر مجبور ہوں گے۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان ایسوسی ایشن آف میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالجز نے پی ایم سی کے کارکردگی خلاف وائٹ پیپر جاری کر دیا، نجی ہوٹل میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے پامی عہدیداروں کا کہنا تھا کہ پی ایم سی نجی میڈیکل اور ڈینٹل کالجز کو تباہ کرنے پر تلی ہے، علی رضا ایک وکیل کو پی ایم سی کا نائب صدر بنا کر بچوں کے مستقبل سے کھیلنے اور میڈیکل کالجز کو تباہ کرنے کا اختیار دے دیا گیا،پاکستان کی بجائے غیر ملکی میڈیکل کالجز کے مفادات کیلئے کام کیا جا رہا ہے۔

پامی کے صدر پروفیسر ڈاکٹر چوہدری عبدالرحمن کا پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ پامی 173میڈیکل اور ڈینٹل کالجز کی واحد نمائندہ جماعت ہے، ملک میں چینی آٹے اور رنگ روڈ سے بڑا سکینڈل جنم لے رہا ہے، ایک منظم طریقے سے طبی تعلیمی اداروں کو تباہ کیا جا رہا ہے، کورونا وبا میں پوری دنیا میں طبی عملہ کی مانگ بڑھ گئی ہے، پاکستان میں طبی تعلیمی اداروں پر نااہل لوگ مسلط کر دئیے گئے ہیں، پی ایم سی کی صورت میں نا اہل لوگ ہم پر مسلط کر دئیے گئے، ایک وکیل کو پی ایم سی کا نائب صدر بنا دیا گیا ہے، بدقسمتی ہے کہ ایک وکیل کے ہاتھ میں میڈیکل کالجز کی بھاگ دوڑ دے دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ علی رضا صاحب اپنے اقربا کو نواز رہے ہیں، علی رضا کا کیا میرٹ ہے؟ وہ کیسے پی ایم سی کا نائب صدر بنا ؟جو شخص خود میرٹ پر نہیں آیا وہ میرٹ کیسے لائے گا؟ایڈمیشن ریگولیشن 2020کے نام پر سندھ کے میڈیکل کالجز کو تباہ کر دیا،انہوں نے سرکاری اور نجی میڈیکل کالجز کے داخلے ایک ساتھ کھول دیئے،ایسا کبھی نہیں ہوتا کہ داخلہ ایک ساتھ ہوں، پہلے سرکاری پھر نجی کالجز کے داخلے ہوتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایم ڈی کیٹ میں کبھی دوہری شرط نہیں ہوتی ہے، ایم ڈی کیٹ میں زمینی حقائق کے خلاف ایک نئی شرط لگا دی گئی،سندھ میں بارہ میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالجز کے داخلے نہیں ہوئے ،اب وہ تمام کالج تباہی کے دہانے پر ہیں، پاکستان میں ایک لاکھ چالیس ہزار افراد پر ایک ڈاکٹر ہےجبکہ عالمی معیار کے مطابق ستر ہزار افراد پر ایک ڈاکٹر ہونا چاہیے،ایم ڈی کیٹ کے نام پر میڈیکل کالجز کا قتل عام کیا جا رہا ہے،

علی رضا پہلے دن سے کہہ رہے  ہیں کہ میں نجی میڈیکل کالجز کو ختم کر دوں گا،پاکستان کے کالج تباہ کر کے غیر ملکی کالجز کو چلانا چاہتے ہیں۔

پروفیسر ڈاکٹر چوہدری عبدالرحمن کا کہنا تھا کہ اگر کسی ملک کو تباہ کرنا ہے تو اس کے تعلیمی ادارے تباہ کئے جاتے ہیں، عالمی ادارہ صحت کے مطابق پاکستان کا عالمی رینکنگ میں ایک سو بانوے میں سے ایک سو پینسٹھ نمبر ہے ،ایک سو تہتر میں سے 114 نجی میڈیکل کالج ہیں، گڈاپ اور میر پور خاص جیسے علاقوں میں نجی میڈیکل کالج سہولیات دے رہے ہیں،پی ایم سی میں وکیل اور چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ تو موجود ہیں لیکن ایک بھی متعلقہ بندہ نہیں ہے،ریاست ماں جیسی ہوتی ہے ،آپ ان کی نہیں سنیں گے تو کون سنے گا؟ایک کالج پر اربوں روپے لگتے ہیں، آپ انہیں بند کر رہے ہیں، ایم ڈی کیٹ کا میرٹ راتوں رات چھبیس سے پینسٹھ کر دیا گیا ۔

انہوں نے کہا کہ علی رضا کہتا ہے کہ میرا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا ،نوشیرواں برکی میرے ساتھ ہے لیکن مجھے نہیں لگتا کہ انہیں ان معاملات کا علم ہو گا، ادارے چیک کریں کہ علی رضا کا کن لوگوں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا ہے ؟ایڈمیشن ریگولیشن 2021 اور2022  میں عجیب معاملات ہیں،آغا خان میڈیکل کالج کیلئے سہولت دینے کیلئے کام کیا جا رہا ہے،آغا خان میڈیکل کالج میں فیس زیادہ ہے کوویڈ سے مرنے والا بھی وہاں پچاس لاکھ دے کر جاتا ہے،آپ نے عدالت میں لکھ کر دیا کہ کوئی کیٹگیرائزیشن نہیں ہو گی لیکن اب ہو رہی ہے،ایم ڈی کیٹ کے نام پر کالجز کو بند کرنے کی سازش کی جا رہی ہے،ملک میں ہیلتھ کا انفراسٹرکچر پہلے ہی بہتر نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ دو ہزار بیس کے بعد والے بچوں پر این ایل ای لگ سکتا ہے دوہزار سولہ میں پاس ہونے والے طالبعلم پر این ایل ای کیسے لگا سکتے ہیں آپ نہ عدالتوں کو مانتے ہیں نہ آئین کو مانتے ہیں سٹیک ہولڈرز کو بھی باہر نکال دیا گیا، پی ایم سی میں علی رضا کو بچوں کے مستقبل سے کھیلنے اور میڈیکل کالجز کو تباہ کرنے کا اختیار دے دیا ہے، ہمارا مطالبہ ہے کہ این ایل ای کو فوری ختم کرنا چاہیے،این ایل کا سکور ستر فیصد رکھ دیا ہے جو زیادتی ہے،بتائیں اگر این ایل ای کی وجہ سے بچے خودکشی کرتے ہیں تو کون ذمہ دار ہو گا؟۔پامی کے صدر کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر فیصل سلطان، نوشیرواں برکی اور فواد چوہدری پر مشتمل اعلی سطح کی کمیٹی بنا کر ہمارے تحفظات سنے جائیں اور مسائل کا حل نکالا جائے، اگر مطالبات نہ سنے گئے تو سٹرکوں پر آنے پر مجبور ہوں گے،صدر پاکستان خود ڈینٹسٹ ہیں، وہ سندھ کے میڈیکل کالجز کو بچائیں، اگر سندھ کے ڈینٹل کالجز میں داخلے نہ ہوئے تو ہم بھی داخلے نہیں کریں گے۔

مختلف سوالات کے جواب دیتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر چوہدری عبدالرحمن کا کہنا تھا کا وائٹ پیپر میں لکھا ہے کہ منتخب لوگوں کو سٹیک ہولڈر بنایا جائے لیکن یہ لوگ سلیکٹڈ ہیں جنہیں پالیسیوں کا کچھ نہیں پتا، عدلیہ اور سب اداروں سے درخواست ہے اس معاملے پر نظرثانی کریں اور ان تمام معاملات کو دیکھیں ،جو لوگ آئین اور عدلیہ کو نہیں مان رہے میں ان کی پالیسیوں کو کیوں مانیں؟ ہم چاہ رہے کی یہ لوگ ہمارے ساتھ بیٹھیں، مل کر پالیسیوں بنائیں لیکن ان کی دھمکیاں برداشت نہیں کی جائیں گی، میں پامی کا صدر ہونے کے ناطے آواز نہ اٹھاتا تو میری قوم مجھے کبھی معاف نہ کرتی،دنیا میں کہیں بھی ڈبل سٹنٹ نہیں کرسکتے ،جب ایف ایس سی میں 60 فیصد نمبر ہیں تو اسکے بعد ایم ڈی امتحانات میں 65 فیصد کی شرط نہیں بنتی،  این ایل ای امتحان لیکر آنا اور 70 فیصد پاسنگ مارکس رکھنا ایسا ہی ہے کہ آپ آگ سے کھیل رہے ہیں، میڈیکل کا شعبہ نازک ہوتا ہے، جو بچہ پانچ سال ایم بی بی ایس کرکے ہاؤس جاب ایک سال کرکے این ایل ای امتحان میں فیل ہوگیا تو وہ بچہ خودکشی کرسکتا ہے،ایسا ہوگا اور تب یہ لوگ روئیں گے لیکن تب وقت نکل چکا ہوگا،خدارا بچوں کی زندگیوں سے مت کھیلیں۔

پامی سندھ چیپٹر کے صدر پروفیسر ڈاکٹر محمد رضی کا کہنا تھا کہ پامی کے صدر کے ایک ایک الفاظ سن کر لگ رہا تھا کہ آپ سے بہتر سندھ کی ترجمانی کوئی نہیں کرسکتا،میرٹ کی وہ بات کررہے جن کا میرٹ سے کوئی تعلق ہی نہیں ہے، نمبر بڑھانے سے میرٹ نہیں بڑھتا، 114 میڈیکل کالج کو بند کردو گے، یہ کہاں کا انصاف ہو گا؟انہیں اسلام آباد بیٹھ کر کیا پتا سندھ کے کیا مسائل ہیں؟ایم ڈی کے میرٹ کو 65 کردیا جبکہ میرٹ 33 فیصد ہونا چاہیے،پہلے سے آخری سال والے کو آپ نے این ایل ای امتحان لاگو کردیا اور میرٹ کے نام پر 75 فیصد پاسنگ مارکس رکھ دیے، ایسا یوکے میں بھی نہیں ہوتا ،وہاں بھی 60 فیصد پاسنگ مارکس ہوتے ہیں، اس ایم ڈی امتحان سے 10،000 نوکریاں راتوں رات ختم ہوجائیں گی اور ہزاروں خاندان تباہ و برباد ہو جائیں گے،آخر میں یہی کہوں گا جو بچے ان پالیسیوں سے خودکشی کریں گے، ان کا ذمہ دار کون ہوگا؟۔ اس موقع پر پامی کے جنرل سیکرٹری پروفیسر ریاض جنجوعہ، پامی فیڈرل چیپٹر کے صدر یاسر نیازی،پامی پنجاب کے صدر ڈاکٹر تنویر اسلام سمیت دیگر موجود تھے۔

مزید :

قومی -