جائیداد کا تنازعہ ، گھر پر حملے میں ایک ہی خاندان کے 7 افراد قتل، آئی جی خیبر پختونخو ا نے بڑا حکم جاری کردیا

جائیداد کا تنازعہ ، گھر پر حملے میں ایک ہی خاندان کے 7 افراد قتل، آئی جی خیبر ...
جائیداد کا تنازعہ ، گھر پر حملے میں ایک ہی خاندان کے 7 افراد قتل، آئی جی خیبر پختونخو ا نے بڑا حکم جاری کردیا

  

پشاور(ڈیلی پاکستان آن لائن) جائیداد کے تنازعہ نے ہنستے بستے گھر کو اجاڑ دیا ،چمکنی کے علاقے میں مسلح افراد نے گھر پر حملہ کرکے تین بھائیوں سمیت ایک ہی خاندان کے سات افراد کو قتل کردیا۔دوسری طرف آئی جی خیبر پختونخوا نے پولیس افسران کو حکم دیا ہے کہ  اس بہیمانہ واقعہ میں ملو ث افراد کو پاتال سے بھی نکال کر قانون کے کٹہرے میں لاکر قرار واقعی سزا دلوائیں۔

تفصیلات کے مطابق یہ واقعہ پشاور کے نواحی علاقے چمکنی کے گاؤں چوہا گجر میں جائیداد کے تنازع پر پیش آیا جس میں ایک ہی خاندان کے سات افراد کو بہیمانہ طور پر قتل کردیا گیا۔اے ایس پی چمکنی احمد زنیر چیمہ کے مطابق ابراہیم خان سکنہ پندو روڈ کے گھر پر فائرنگ ہوئی ہے جس کے نتیجے میں ابراہیم کے تین بیٹے جلال، سلمان، سلیم، ابراہیم کا بھائی حبیب اللہ ، زوجہ حبیب اللہ اور بانو زوجہ ابراہیم متعدد گولیاں لگنے سے جاں بحق ہوگئے۔ اے ایس پی کے مطابق فائرنگ کے وقت ابراہیم گھر میں موجود نہیں تھا۔واقعہ کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی ہے اور علاقے میں سرچ آپریشن شروع کردیا گیا ہے۔

دوسری طرف انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبرپختونخوا معظم جاہ انصاری نے چمکنی کی حدود پھندو روڈ میں اس گھر کا دورہ کیا جہاں مسلح افراد نے گھر میں گھس کر فائرنگ کرکے بچوں اور خواتین سمیت ایک ہی خاندان کے 7 افراد کو قتل کردیا ہے۔

آئی جی پی نے جائے وقوعہ کا تفصیل سے معائنہ کیا اور مسلح افراد کی واردات کے ممکنہ طریقہ کار کا جائزہ لیا۔ سی سی پی او پشاور اور ایس ایس پی آپریشنز بھی اس موقع پر آئی جی پی کے ہمراہ تھے۔ اس موقع پر آئی جی پی کو وقوعہ کے بارے میں تفصیل سے بر یفنگ دی گئی اور اب تک ہونے والی پیش رفت کے بارے میں آگاہ کیا گیا ۔ آئی جی پی کو بتایا گیا کہ تمام شواہد اکٹھے کرلیے گئے ہیں اور ڈی این اے ٹیسٹ کیلئے نمونے بھی لیے جاچکے ہیں۔ آئی جی پی کو اب تک گرفتار کئے گئے مشتبہ افراد کے بارے میں بھی آگاہ کیا گیا ۔

آئی جی پی نے اس واقعے کو انتہائی بھیانک اور انسانیت سوز قرار دیتے ہوئے متعلقہ پولیس حکام کو سختی سے ہدایت کی کہ اس بہیمانہ واقعہ میں ملو ث افراد کو پاتال سے بھی نکال کر قانون کے کٹہرے میں لائیں تاکہ انہیں عبرت ناک سزا دلوا ئی جاسکے۔ آئی جی پی نے کہا کہ یہ اندوھناک واقعہ پشاور پولیس کے لیے یہ ایک بہت بڑا چیلنج ہے اور اس کو ورک آؤٹ کرنے کے لیے پولیس کو دن رات کام کرنا ہوگا۔

مزید :

علاقائی -خیبرپختون خواہ -پشاور -