دوسروں کی دلچسپیوں، آمدنی، ذہانت اور پیش منظر کو مدنظر رکھ کر گفتگو کریں

دوسروں کی دلچسپیوں، آمدنی، ذہانت اور پیش منظر کو مدنظر رکھ کر گفتگو کریں
دوسروں کی دلچسپیوں، آمدنی، ذہانت اور پیش منظر کو مدنظر رکھ کر گفتگو کریں

  

مصنف:ڈاکٹر ڈیوڈ جوزف شیوارڈز

قسط:103

اصل نقطہ یہ ہے کہ دوسروں کی نظر سے دیکھنا چاہیے، جب آپ دوسروں کو فائدہ پہنچائیں گے تو وہ آپ پر بھروسہ کریں گے۔

بہت سے سیاستدان اس لیے انتخاب ہار جاتے ہیں کیونکہ وہ عام ووٹروں کو ان کی نظر سے دیکھنے میں ناکام رہتے ہیں۔ ایک سیاستدان جو کہ تعلیم یافتہ تھا اور اس میں اپنے حریف جیسی تمام خصوصیات تھیں، لیکن وہ اپنے حریف سے بری طرح ہار گیا، اس کی صرف ایک وجہ تھی کہ وہ جو بھاری بھر کم الفاظ اپنی تقریر میں استعمال کرتا تھا اسے بہت کم لوگ سمجھتے تھے جبکہ اس کا حریف عام لوگوں کی زبان اور ان کی پسند کی گفتگو کرتا تھا، یعنی جب وہ کاشتکاروں سے گفتگو کرتا تو وہ ان کی زبان میں ان سے بات کرتا، جب وہ کارخانے کے مزدوروں سے بات کرتا تو وہ ان کے مسائل پر بات کرتا، اس لیے بھاری اکثریت سے کامیاب ہو گیا۔

لوگوں پر اثرانداز ہونے والی قوت کو بڑھانے کے لیے مندرجہ ذیل مشق کریں:

حالات

-1 کسی کو کام کرنے کی ہدایات دیتے ہوئے

-2 کوئی اشتہار لکھتے ہوئے

-3 ٹیلی فون آداب

-4 تحفہ

-5 میرا حکم دینے کا طریقہ

-6 بچے کا نظم وضبط

-7 میری ظاہری شخصیت

-8 تقریر کی تیاری

-9 خدمت کرنا

اچھے نتائج حاصل کرنے کے لیے خود سے سوال کریں۔

-1 اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ جس کو ہدایات دے رہا ہوں، وہ نیا شخص ہے۔

تو کیا میں خود اس معاملے میں صاف ہوں؟

-2 کیا میں عام لوگوں کے پس منظر کو سامنے رکھتے ہوئے، ان کو مذکورہ چیز کے بارے میں کیسے مائل کر سکتا ہوں؟

-3 اگر میں خود ٹیلی فون سننے والے کی جگہ پر ہوتا تو میں اپنی آواز سے متعلق کیا محسوس کرتا؟

-4 جیسا تحفہ میں کسی کو دے رہا ہوں یا اگر ایسا تحفہ مجھے دیا جاتا تو مجھے پسند آتا؟

-5 جیسے احکام میں دوسروں کو دیتا ہوں اگر اس طرح مجھے احکام دیئے جائیں تو کیا میں اس طریقے کو پسند کروں گا؟

-6 اگر میں بچہ ہوتا تو کیا میں ایسے نظم ونسق کو قبول کرتا؟

-7 اگر میرے افسر نے میرے جیسے کپڑے پہنے ہوتے تو میں اس سے متعلق کیا سوچتا؟

-8 تقریر سننے والوں کے پس منظر اور دلچسپیوں کو مدنظر رکھنا، اگر میں ان کی جگہ ہوتا تواس تقریر سے متعلق کیا کہتا؟

-9 اگر میں کسی کا مہمان بنو تو کس طرح کی موسیقی، کھانا اور خدمت کروانا پسند کرتا؟

ان اصولوں کو استعمال میں لائیں۔ یہ آپ کے لیے کام کریں گے:

-1دوسروں کے حالات کو مدنظر رکھیں۔ اپنے آپ کو ان حالات میں رکھ کر بات کریں۔ دوسروں کی دلچسپیوں، آمدنی، ذہانت اور پیش منظر کو مدنظر رکھ کر ان سے گفتگو کریں۔

-2اب اپنے آپ سے پوچھیے اگر میں دوسروں جیسے حالات سے دوچار ہوتا تو میرا کیا ردعمل ہوتا؟

-3پھر آپ جو کام کریں گے، وہ کام ایسا ہی ہو گا جیسا کام دوسرے ان حالات میں کرنا پسند کرتے۔

قائدانہ اصول نمبر2۔ سوچیں کہ وہ کونسا انسانی طریقہ ہے جس سے حالات پر قابو پایا جا سکتا ہے؟ قیادت کے لیے لوگ مختلف طریقے استعمال کرتے ہیں ،ان میں ایک طریقہ آمریت کا ہے۔ ایسا آمر شخص کسی دوسرے سے مشورہ کیے بغیر ہر فیصلہ کرتا ہے۔ وہ اپنے ماتحتوں کی کوئی بات سننی گوارا نہیں کرتا کیونکہ اسے ڈر ہوتا ہے کہ اس کے ماتحت اسے پریشانی میں مبتلا نہ کر دیں۔

ایسا آمر شخص زیادہ دیر نہیں چلتا، اس کے ماتحت ہمیشہ خوف زدہ رہتے ہیں جبکہ کچھ لوگ تو اسے چھوڑ کر چلے بھی جاتے ہیں۔ جو باقی بچتے ہیں وہ اس کے ظلم کے خلاف منصوبہ بندی کرتے رہتے ہیں، آخر یہ آمر ناکام ہو جاتا ہے۔ قیادت کا دوسر اطریقہ کافی سرد ہے۔ دراصل ایسا شخص صرف قانون کی کتاب کا آپریٹر ہوتا ہے۔ وہ ہر چیز کو قانون کی کتاب کے حوالے سے دیکھتا ہے۔ یہ انسانوں کو بھی ایک مشین کی طرح ہی خیال کرتا ہے۔ اس لیے اس کے اس مشینی کام کو لوگ پسند نہیں کرتے۔ اس کے کام کرنے میں ایک سردپن ہوتا ہے۔( جاری ہے ) 

نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم “ نے شائع کی ہے ( جُملہ حقوق محفوظ ہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -