رنجیت سنگھ نے پنجاب میں بڑی زبردست سلطنت بنائی ، لشکر اور توپ خانے کی مدد سے کشمیر بھی فتح کر لیا تھا

 رنجیت سنگھ نے پنجاب میں بڑی زبردست سلطنت بنائی ، لشکر اور توپ خانے کی مدد سے ...
 رنجیت سنگھ نے پنجاب میں بڑی زبردست سلطنت بنائی ، لشکر اور توپ خانے کی مدد سے کشمیر بھی فتح کر لیا تھا

  

مصنف : ای مارسڈن 

 لارڈ ہارڈنگ

 بارہواں گورنر جنرل1844ءسے 1848ءتک

 رنجیت سنگھ نے پنجاب میں ایک بڑی زبردست سلطنت بنا لی تھی اور”شیرپنجاب“ کہلاتا تھا۔ یہ لکھنا پڑھنا نہ جانتا تھا۔ کسی چیز کا شمار اور حساب رکھنا ہوتا تو نرم چوب پر اتنے ہی نشان ڈالتا جاتا تھا۔ پست قد تھا، آنکھ ایک تھی کیونکہ دوسری آنکھ بچپن میں چیچک کی نذر ہو چکی تھی۔ تمام چہرے پر ستیلا کے داغ تھے۔ یہ انگریزوں کا پکا دوست تھا۔ دانا اور زبردست حاکم تھا۔ اپنے افسروں اور اہلکاروں کو اچھی طرح قابو میں رکھتا تھا۔ رعایا بھی اس سے بہت خوش تھی۔ اس کے پاس بہت سی توپیں تھیں اور ایک لشکر جرار تھا، جس کو فرانسیسی افسروں نے سدھایا اور فن حرب سکھایا تھا۔ اس لشکر اور توپ خانے کی مدد سے رنجیت سنگھ نے کشمیر کا ملک بھی فتح کر لیا تھا۔

40 برس کی سلطنت کے بعد 1839ءمیں رنجیت سنگھ نے وفات پائی اور اس کی 5 رانیاں اس کی چتا پر ستی ہوئیں۔ اس کا بڑا بیٹا گدی پر بیٹھایا گیا لیکن وہ تھوڑے ہی عرصے بعد مر گیا۔ پھر سازش پر سازش اور فساد پر فساد ہونے لگا۔ رنجیت سنگھ کے خاندان کے بہت سے شہزادے قتل ہوئے اور سکھوں کی فوج کا سپہ سالار تیج سنگھ سب پر غالب آ گیا۔ انگریزوں کے افغانستان سے بازگشت کرنے کے زمانے سے سکھ سپاہی اس زعم میں تھے کہ ہم انگریزوں سے لڑنے کی قابلیت رکھتے ہیں اور دہلی کو لوٹیں گے۔ یہ ستلج پار جا کر انگریز علاقے میں داخل ہوئے۔ سکھوں اور انگریزوں میں 3 ہفتے کے اندر اندر 4 بڑی لڑائیاں ہوئیں۔ سکھ قواعددان اور فن حرب کے ماہر تھے۔ بہادری کے ساتھ لڑے۔ انگریزوں کو ہند میں جن لوگوں سے اب تک لڑنے کا کام پڑا تھا۔ ان میں سکھ سب سے زبردست تھے لیکن انہوں نے دسمبر 1845ءمیں مدکی اور فیروزپور پر سر ہیوگف کمانڈر انچیف اور لارڈ ہارڈنگ گورنر جنرل کے ہاتھ سے اور جنوری 1846ءمیں علی وال اور سوبراﺅن پر سرہیری سمتھ اور سر ہیوگف کے ہاتھ سے شکست کھائی۔

 اب پنجاب کی پہلی جنگ کا خاتمہ ہوا۔ سکھوں کی فوج کی تعداد تخفیف کر کے 20 ہزار کر دی گئی اور ستلج اور راوی کے درمیان کا علاقہ انگریزوں نے لے لیا۔ گلاب سنگھ راجپوت جو رنجیت سنگھ کے ماتحت کشمیر کا گورنر یا صوبیدار تھا۔ کشمیر کا راجہ بنا دیا گیا۔ اس کے عوض اس نے انگریزوں کو لڑائی کا خرچ ادا کیا۔ رنجیت سنگھ کا خوردسال بیٹا دلیپ سنگھ پنجاب کا راجہ قرار پایا اور اس کے سن بلوغ کو پہنچنے تک اس کی ماں مدارالمہام مقرر ہوئی۔(جاری ہے ) 

نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم“ نے شائع کی ہے ۔ ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -