پنجاب کا موجودہ سیاسی منظر نامہ

پنجاب کا موجودہ سیاسی منظر نامہ
پنجاب کا موجودہ سیاسی منظر نامہ

  

تحریر :انس گوندل

لاہور اور پنجاب کے دیگر شہروں میں گزشتہ چند دنوں کے دوران ہونے والی صحت مند بارش نے گزشتہ کئی ہفتوں سے غیر معمولی گرمی کی لہر کو توڑ دیا ہے، لیکن صوبے کا سیاسی درجہ حرارت مسلسل بڑھتا چلا جارہا ہے۔ جاری سیاسی بحران کے تھمنے کے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے، آئے روز مزید قانونی اور آئینی پیچیدگیاں جنم لے رہی ہیں کیونکہ نوخیز حمزہ شہباز حکومت غیر یقینی حالات میں اپنے قدم جمانے کی بھرپور جدوجہد کر رہی ہے۔

چند روز قبل گورنر پنجاب کی جانب سے جاری کیے گئے آرڈیننس کے بعد حکومت کی قانونی حیثیت مزید شکوک و شبہات کا شکار ہو چکی ہے کیونکہ یہ اس وقت جاری کیا گیا جب صوبائی اسمبلی کا اجلاس جاری تھا۔

آرڈیننس نے سپیکر سے اجلاس بلانے یا ملتوی کرنے کا اختیار چھین لیا اور اسمبلی کو سیکرٹری قانون کے ماتحت کر دیا۔ یہ اس وقت جاری کیا گیا جب سپیکر چوہدری پرویز الٰہی نے  اگلے سال کے بجٹ کو لگاتار 2دن تک روکے رکھا، جس سے  صوبائی حکومت پیچیدہ صورتحال میں پھنس گئی۔ اگراپوزیشن یعنی پی ٹی آئی اور مسلم لیگ (ق) اسے عدالت میں چیلنج کرتے ہیں جیسا کہ وہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور اگر اسے قانون کی حمایت حاصل نہیں ہوتی تو آرڈیننس کی منسوخی تمام کارروائیوں کو کالعدم قرار دے سکتی ہے جس میں حکومت کا نیا اجلاس بلانا بھی شامل ہے۔ سیکرٹری قانون اور اس کے تحت بجٹ کی پیش کش اور منظوری نے ایک اور بحران پیدا کر دیا ہے۔ یہ کہ سیکرٹری قانون نے آرڈیننس کے نفاذ کی اطلاع سے پہلے ہی اپنے نئے اختیارات کو ایوان کے نگران کے طور پر استعمال کرنا شروع کر دیا تھا جس سے حکومت کے لیے قانونی معاملات مزید خراب ہو گئے ہیں۔ دریں اثنا، مسلم لیگ (ن) کی زیرقیادت حکمران اتحاد اور پی ٹی آئی، پی ایم ایل (ق) مشترکہ اور الگ الگ اجلاس  کر رہے ہیں، جس میں اس بات کی بہت کم وضاحت کی گئی ہے کہ کون سا قانون کے مطابق ہے۔

اپوزیشن نے ملک کے سیاسی مرکز، پنجاب کو حکمران اتحاد کے ساتھ اپنی جنگ کا مرکز بنا لیا ہے، جو اپریل میں عمران خان کو عدم اعتماد کے ووٹ کے ذریعے ہٹا کر کے اقتدار میں آیا تھا، یہ بات قابل فہم ہے۔پاکستان کے سب سے زیادہ آبادی والے صوبے پر سیاسی کنٹرول دونوں حریفوں کے لیے اگلے عام انتخابات کا وقت طے کرنے اور ان میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے بہت اہم ہے۔ کوئی تعجب کی بات نہیں کہ اپوزیشن حکمران اتحاد کو مایوس کرنے کے لیے ہر حربہ استعمال کر رہی ہے اور اس پر غلطیاں کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہی ہے۔حمزہ شہباز حکومت کے لیے اگلے سال کا بجٹ پیش کرنا ایک بڑا چیلنج تھا اور سپیکر نے وزیر خزانہ کو بجٹ تقریر کرنے سے روکنے کے لیے ہر حربہ استعمال کیا۔

صوبے میں دونوں فریقوں کی سیاسی قسمت کا دارومدار 17 جولائی کو صوبے بھر کی 20 صوبائی نشستوں پر ہونے والے ضمنی انتخابات کے نتائج پر ہے کیونکہ نتائج اس بات کا تعین کریں گے کہ ایوان میں 186 ارکان کی سادہ اکثریت کس کے پاس ہے۔ مسلم لیگ (ن) اور اس کے اتحادیوں سے صوبے میں دوبارہ اقتدار حاصل کرنے کے لیے اپوزیشن کو کم از کم 15 نشستیں جیتنی ہوں گی۔اگر وہ یہ مطلوبہ تعداد کو اکٹھا کرنے میں ناکام رہتے ہیں، تو ممکنہ طور پر سیاسی عدم استحکام مزید گھمبیر ہوجائے گا اورحکومتی اتحاد کے لیے مرکز میں حکومت کرنے اور معاشی معاملات کو سنبھالنے کی کوشش کرنے کو مزید مشکل بنا دے گا۔

     نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید :

بلاگ -