قومی ڈھانچے میں تبدیلیاں 

 قومی ڈھانچے میں تبدیلیاں 
 قومی ڈھانچے میں تبدیلیاں 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


 پاکستان میں پچھلی کئی دہائیوں سے جو کچھ ہو رہا ہے باشعور لوگ اب اس ساری صورتحال کے خدوخال سے آگاہ ہو چکے ہیں، لیکن حل کسی کے پاس نہیں، خاص کر آج کل جو کچھ ہو رہا ہے یہ انتہائی پستی کی طرف سفر ہے اس سے عام آدمی کی پریشانی بڑھی ہے،دنیا میں بھی پاکستان ایک مذاق بن گیا ہے بہرحال سوچ مثبت رکھنی چاہئے۔ توقع کی جاتی ہے کہ سیاسی غبار بیٹھ جائے گا اور اسی سال انتخابات ہو جائیں گے اور ملک صراط مستقیم پر چل پڑے گا اگرچہ سیاسی، معاشرتی اور اقتصادی شعبوں میں جو نقصان ہو گیا ہے اس کی تلافی میں کافی وقت لگے گا۔ اکتوبر میں انتخابات بہت مثبت بات ہو گی کیونکہ تیسری دفعہ پارلیمنٹ اپنی مدت پوری کرے گی۔ ہمارا اگلا ہدف یہ ہونا چاہئے کہ وزیراعظم بھی مدت پوری کرے۔
اکتوبر میں انتخابات ہو گئے اور جائز اور قانونی حکومت وجود میں آ گئی تو پھر بھی اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں کہ موجو دہ بگاڑ بالکل ٹھیک ہو جائے گا، اِس بگا ڑ سے کچھ ایشوز اُبھر کر سامنے آئے ہیں جن پر باشعور لوگوں کو غور کرنا چاہئے۔ اِن باتوں پر اتفاق رائے کے لئے مختلف فورمز پر اوپن ڈیبیٹ کرنے کی ضرورت ہے اور پھر غیرجانبدار، صاحب الرائے اشخاص پر مشتمل ایک کمیشن تشکیل دینا چاہئے جس میں اداروں،پارٹیوں اور سول سوسائٹی کی نمائندگی ہو اِس میں طے ہونے والے ایجنڈے پر معمولی تبدیلیوں کی گنجائش کے ساتھ تمام پارٹیوں کو Own کرنا چاہئے۔
-1پہلی بات یہ ہے کہ جب بھی کوئی بحران آتا ہے اُس کے خاتمے کے لئے ہم آرمی چیف سے رجوع کرتے ہیں یہ مناسب نہیں کیونکہ اس سے ہم خود فوج کو سول معاملات میں مداخلت پر مجبور کرتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہمارے ملک میں اورکوئی ادارہ یا شخصیت ایسی نہیں جو صحیح معنوں میں غیرجانبدار ہو اور ثالث کا کردار ادا کر سکے۔ صدر مملکت موجودہ نظام کے تحت ایک پارٹی کا نمائندہ ہوتا ہے وہ صحیح معنوں میں غیرجانبدار نہیں ہو سکتا، کیا ہمیں صدارتی نظام اپنانا چاہئے یا صدر کے انتخاب میں کوئی تبدیلی کرنی چاہئے، اس مسئلے پر گہرے غوروفکر کی ضرورت ہے۔


-2 اس تجویز کا میں اعادہ کرنا چاہتا ہوں کہ سرکاری محکموں میں 1300 سی سی سے اوپر گاڑی کا کوئی جواز نہیں۔
-3 سرکاری افسروں، ججوں اور پارلیمنٹ کے سپیکر یا سینیٹ چیئرمین کی بعداز ریٹائرمنٹ سہولتوں میں اضافے کا قطعاً کوئی جواز نہیں۔ ہماری معیشت اس کی اجازت نہیں دیتی۔
 -4پارلیمنٹ کی مدت پانچ سال کی بجائے چار سال کر دینی چاہئے کیونکہ ہم میں صبر کی کمی ہے اور ہم زیادہ انتظار نہیں کر سکتے۔ امریکہ میں بھی یہ مدت چار سال ہے۔
-5صوبوں کی تعداد بڑھانے کی ضرورت ہے پنجاب کو تین اور باقی صوبوں کو دو دو حصوں میں تقسیم کر دینا چاہئے اس سے بہت سے جھگڑے ختم ہونے کا امکان ہے۔ بھارت سمیت دنیا کے بہت سے ملکوں نے چھوٹے یونٹ بنائے ہیں اس سے ملک میں پنجاب کے سائز اور آبادی سے جو عدم توازن پیدا ہوا ہے وہ ختم ہو جائے گا مجھے احساس ہے کہ یہ بہت مشکل کام ہے۔ افسوس کہ فوجی حکمرانوں نے تمام تر طاقت کے باوجود یہ کام نہیں کیا۔سینیٹ کی تشکیل سے یہ مقصد پوری طرح حاصل نہیں ہوا۔
-6وزیراعظم پر عدم اعتماد کے لئے ارکان اسمبلی کی اکثریت کے علاوہ کچھ اور شرائط عائد کرنے کی ضرورت ہے۔ مثلاً ایک وزیراعظم نے پارلیمنٹ کے کتنے سیشنز میں شرکت کی ہے یعنی اُس نے پارلیمنٹ کو عملی طور پر کتنی اہمیت دی ہے۔ اس سلسلے میں صوبوں کی رائے پر بھی غور کرنا چاہئے۔ اِس کے لئے کوئی میکنزم بنانا ہو گا۔


-7پارلیمنٹ کے ارکان کے لئے گریجوایشن کی شرط مناسب قدم ہو گا۔اِس کے علاوہ ایک شخص کو زیادہ سے زیادہ دو حلقوں سے انتخاب لڑنے کی اجازت ہونی چاہئے۔ 
-8کابینہ کا سائز طے ہونا چاہئے صرف غیرمعمولی حالات میں اس سے انحراف کی اجازت ہونی چاہئے اور یہ رعایت زیادہ سے زیادہ 5 وزراء یا مشیروں یا معاونین خصوصی تک محدود ہونی چاہئے۔ میرے خیال میں کابینہ میں زیادہ سے زیادہ 30 وزیر مشیر مناسب ہو ں گے۔ حلف اُٹھانے کے ساتھ ہی وزراء کا بائیو ڈیٹا ماضی کا ریکارڈ اور کسی شعبے میں تجربے کی وضاحت ضروری ہے یہ سب کچھ پبلک ہونا چاہئے۔
-9ہرحال میں بلدیاتی انتخابات وقت پر ہونے چاہئیں کیونکہ یہ سیاست کے لئے نرسری ہے بلدیاتی نمائندوں کے ہوتے ہوئے صوبائی اور قومی اسمبلی کے ارکان کو ترقیاتی فنڈز دینے کا قطعاً کوئی جواز نہیں۔یہ کھلم کھلا کرپشن کی ایک شکل ہے۔
-10ججوں اور جرنیلوں کو بھی اثاثے ڈکلیئر کرنے چاہئیں اور پبلک کو ان تک رسائی ہونی چاہئے۔ ججوں اور جرنیلوں کے علاوہ سول بیوروکریسی کی مراعات میں کمی کرنے کی ضرورت ہے، کیونکہ ملک کی معیشت اس کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ ان سب کو قوم کے وسیع تر مفاد کے لئے مراعات کے پیکیج کو Rationalize کرنے پر رضامند ہو جانا چاہئے۔


-11کسی ملک کی ترقی کے لئے تعلیم ایک بنیادی چیز ہے لہٰذا تعلیم کو اولین ترجیح دینی چاہئے اور تعلیم کے بجٹ میں خاطر خواہ اضافہ کرنے کی ضرورت ہے۔ تعلیم کے معیار کو یقینی بنانے کے لئے بھی ضروری اقدامات کی ضرورت ہے۔ہمارا لٹریسی ریٹ ریجن میں بھی سب سے کم ہے یہ بہت افسوسناک بات ہے۔
-12پارلیمنٹ کے Electables کی باجماعت کسی پارٹی میں شمولیت اور پھر ہجرت کا ڈرامہ ختم کرنے کے لئے متناسب نمائندگی کے اصول پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔
-13سیاسی پارٹیوں میں بھی اصلاحات لانے کی ضرورت ہے۔ پارٹی میں ہر سال انتخابات ہونے چاہئیں۔ اقرباء پروری کی حوصلہ شکنی کرنی چاہئے اور شیڈوکیبنٹ بنانے کی ضرورت ہے خواہ اِس کا پبلک میں اعلان نہ کیا جائے لیکن حکومت کے لئے تیاری اور ارکان کی تربیت کے لئے یہ بہت اہم ہے۔ پارٹیوں میں تھینک ٹینک کی بھی ضرورت ہے جو بدلتے ہوئے حالات میں عملی اور نظریاتی طور پر پارٹی کی رہنمائی کر سکے۔ 
-14بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو پاکستان کی سیاست میں عملی طور پر عمل دخل کی اجازت نہیں ہونی چاہئے۔ وفاقی حکومت کسی خاص پاکستانی کے تجربے سے فائدہ اُٹھانا چاہتی ہے تو اُسے بلایا جا سکتا ہے بشرطیکہ وہ کسی خاص شعبے میں مہارت رکھتا ہو زلفی بخاری جیسے لوگوں کی کوئی گنجائش نہیں۔ بیوروکریسی کے لئے بھی دوہری شہریت ممنوع ہونی چاہئے۔ سیاسی پارٹیوں کو بھی غیرملکوں میں اپنا وجود ختم کر دینا چاہئے۔

مزید :

رائے -کالم -