ہم نے غم اور خوشیاں ساتھ دیکھیں، اکثر اکٹھے باہر جاتے، تعلقات بہت ہی قریبی نوعیت کے تھے اور یہ محبتیں آخری وقت تک ساتھ رہیں 

ہم نے غم اور خوشیاں ساتھ دیکھیں، اکثر اکٹھے باہر جاتے، تعلقات بہت ہی قریبی ...
ہم نے غم اور خوشیاں ساتھ دیکھیں، اکثر اکٹھے باہر جاتے، تعلقات بہت ہی قریبی نوعیت کے تھے اور یہ محبتیں آخری وقت تک ساتھ رہیں 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

مصنف:محمد سعید جاوید
قسط:309
ہم نے بہت سارے غم اور خوشیاں ایک ساتھ دیکھیں۔ ہمارے آپس کے تعلقات بہت ہی قریبی نوعیت کے تھے اور اکثر ہم اکٹھے ہی باہر جاتے اور ان کی یہ محبتیں آخری وقت تک ہمارے ساتھ رہیں۔ اب بھی جب وہ رخصت پر پاکستان آتے ہیں تو بہت خلوص اور محبت سے ملنے آتے ہیں۔ یہ اور بات ہے کہ یہ ساری ملاقاتیں اس کی اپنی شرائط پر طے پاتی ہیں۔ ابتدا میں وہ ہمیں جیل میں آئے ہوئے ملاقاتیوں کی طرح منٹوں کے حساب سے ملاقات کا وقت دیتا ہے، مگر اس کے آجانے کے بعد اس کی طرف سے رخصتی کی مسلسل دھمکیوں اور اصرار کے باوجود ہم لوگ بھی ان کو زیادہ دیر تک بٹھائے رکھنے کا کوئی نہ کوئی بہانہ نکال ہی لیتے ہیں۔ میرا یہ دوست ابھی تک سعودی عرب میں ہی مقیم ہے اور ہماری طرح دونوں تنہا ہی رہتے ہیں۔کچھ برس پہلے اس کو بھی مستقل طور پر پاکستان آنے کا جنون اٹھا تھا، لیکن یہاں کے حالات سے گھبرا کر آخری وقت پر توبہ کر لی اور واپس آنے کا ارادہ ترک کر دیا۔اب آخری اطلاعات یہ ہیں کہ وہ لوگ سعودی عرب کو مستقل طور پر خیر آباد کہہ کر اسلام آباد میں اپنا ٹھکانہ بنا چکے ہیں۔    
مسرت حسین اعوان
مسرت بھی ہمارے بہت ہی قریبی دوستوں میں سے تھا، وہ تلہ گنگ کے ایک بہت ہی صاف ستھرے گاؤں سے آیا ہوا تھا، یہ میں اتنے وثوق سے اس لیے کہہ رہا ہوں کہ سعودی عرب میں رہتے ہوئے یہ واحد دوست ہے جس کا گاؤں میں نے دیکھا اور ان کی مہمان نوازی کا لطف اٹھایا ہے۔اپنے ”نرم و نازک“ نام ہی کی طرح اسے اپنے ”اعوان“ ہونے پر بھی بڑا ناز تھا اور وہ برملا اس کا اظہار بھی کیا کرتا تھا۔
بینک میں اعلیٰ عہدے پر فائز مسرت عادتاً اور حقیقتاً بہت ہی نفیس انسان ہے۔ ہر اچھے شخص کی طرح اس کی بھی کوشش ہوتی ہے کہ وہ محفل یاراں میں کسی دوسرے ساتھی کی عیب جوئی میں ملوث نہ ہو۔ بہت کم بولتا ہے اور ہمیشہ حقائق اور دلائل سے بات کرتا ہے۔ مالیاتی ادارے میں کام کرنے کے باوجود اس نے ہمیشہ اپنے آپ کو حالات حاضرہ کی تیزی سے بدلتے ہوئے رخوں سے آشنا رکھا۔ وہ جتنے اعتماد سے بینک کے معاملات پر اچھی گفتگوکرتا ہے، اس سے کہیں زیادہ شناسائی اسے اپنے ملک کے سیاسی اور زمینی حقائق سے تھی۔ احمد کی طرح اس کا جھکاؤ بھی اسی خصوصی سیاسی جماعت کی طرف تھا جس سے میں نے مُکھ موڑ لیا تھا۔بس یہی ایک نکتہ ہم دونوں کے بیچ تنازعہ کا باعث بنتا، ہماری کوشش ہوتی تھی کہ کھانا شروع ہونے سے پہلے اس نیک کام کو انجام تک پہنچا دیا جائے۔ اس حوالے سے اس کا طنز کرنے کا اپنا ہی ایک انداز تھا، وہ ایک زور دار چوٹ بھی لگا جاتا اور پھر قدرے تسلسل سے دیر تک میٹھا میٹھامسکراتا بھی رہتا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو ایک بڑی ہی خوبصورت بیٹی عطا کی جو ماشاء اللہ اپنی ڈاکٹر بننے کی خواہش کو پایہ تکمیل تک پہنچا چکی ہے۔ مسرت بھی اپنی ہجرت مکمل کرکے خیریت سے پاکستان آن بسا ہے۔ ابھی تو وہ مصروف رہنے کے بہانے ڈھونڈ رہا ہے دیکھتے ہیں اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔ (جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

ادب وثقافت -