خود کو بڑا خوش قسمت سمجھتا ہوں کہ ایسے شاندار ساتھی ملے، ہم گالف کھیلتے ، ہنستے ، لطیفے سناتے اور ایک دوسرے پر برہم بھی ہو جاتے ہیں

 خود کو بڑا خوش قسمت سمجھتا ہوں کہ ایسے شاندار ساتھی ملے، ہم گالف کھیلتے ، ...
 خود کو بڑا خوش قسمت سمجھتا ہوں کہ ایسے شاندار ساتھی ملے، ہم گالف کھیلتے ، ہنستے ، لطیفے سناتے اور ایک دوسرے پر برہم بھی ہو جاتے ہیں

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

مصنف:محمد اسلم مغل 
تزئین و ترتیب: محمد سعید جاوید 
 قسط:140
ڈاکٹر کھوکھر بہت زندہ دل انسان ہے۔ جو بہت باقاعدگی سے اور دل لگا کر گولف کھیلتا ہے۔ میں خود کو بڑا خوش قسمت سمجھتا ہوں کہ مجھے ایسے شاندار ساتھی ملے۔ ہم گالف کھیلتے ہیں، ہنستے ہیں، لطیفے سناتے ہیں، ایک دوسرے پر آوازے   کستے ہیں اور کبھی کبھار معمولی سی بات پر جھگڑا بھی کرلیتے ہیں جس کے بعد کچھ عرصے کے لیے ہمارے مزاج برہم بھی ہو جاتے ہیں۔ لیکن مجموعی طور پر ہم بہت لطف اندوز ہوتے ہیں۔ اب تو عادت سی بن گئی ہے کہ میں اپنے دن کا آغاز گالف سے ہی کرتا ہوں اور پچھلے 18 سال سے میرا یہی شوق ہے۔ ابھی کچھ ہی عرصہ پہلے میں نے جمخانہ کلب میں ہی تیراکی بھی شروع کر دی ہے تاکہ میں تازہ دم رہنے کے لیے اضافی ورزش کر سکوں۔ 
عمر چھٹیوں پر گھر آیا  تومیں نے محسوس کیا کہ وہ بے چینی کے عالم میں گھر کے اندر باہر ٹہل رہا تھا۔ مجھے فوراً علم ہو گیا کہ اس کے ذہن پر کچھ بوجھ ہے جو وہ بتا نہیں پا رہا تھا، میں نے پوچھا بھی نہیں لیکن میں تھوڑا بہت جان گیا تھا کہ اس کے دماغ میں کس قسم کا مبہم سا خیال چل رہا ہے۔ 2دن بعد وہ میرے دفتر آن پہنچا جو ایک غیر معمولی بات تھی۔ اس نے کہا کہ وہ مجھ سے بات کرنا چاہتا ہے۔ میں نے اپنی ساری توجہ اس کی طرف مبذول کر دی اور اسے کہا کہ مجھے بتائے کہ ایسا کیا مسئلہ ہے۔ لیکن اس نے کہا کہ وہ مجھ سے علیٰحدگی میں بات کرنا چاہے گا، چنانچہ ہم اٹھ کر دوسرے کمرے میں چلے گئے۔ میں نے اس کو سنے بغیر ہی براہ راست اس سے پوچھ لیا کہ ”وہ کہاں رہتی ہے؟“ وہ  یہ سن کر چکرا سا گیا کیونکہ اس نے جس کہانی کو سنانے کے لیے کئی بار مشق کی ہو گی اس کو بیان کرنے کی نوبت ہی نہ آئی۔ ویسے بھی اب اس کی ضرورت بھی نہ تھی۔ اس نے بتایا کہ اس کا گھر ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی میں ہے۔ میں نے اسے کہا کہ ٹھیک ہے ہم اس سلسلے میں جلد ہی ان کو ملنے جائیں گے۔ یوں ہماری یہ میٹنگ صرف 2منٹ کے مختصر عرصے میں ختم بھی ہوگئی۔ اسے ایک بار پھر حیرت ہوئی جس میں خوشی کا عنصر بھی نمایاں تھا۔ اسے امید ہی نہیں تھی کہ اتنا ”بڑا“ مسئلہ اتنی جلدی اور وہ بھی مثبت نتائج کے ساتھ حل ہو جائے گا۔ چند روز بعد ہی میں،وسیمہ اور عمر ڈیفنس میں اس ”ضروری“ملاقات کے لیے بیگم اور بریگیڈیئر ریٹائرڈ سراج الحق کے خوبصورتی سے سجائے گئے گھر میں پہنچ گئے۔
میں نے ان دونوں کو انتہائی سیدھے سادے اور نفیس پایا، جن میں دکھاوا بالکل بھی نہیں تھا۔ ہم نے بہت ہی دوستانہ انداز میں مختلف موضوعات پر بات چیت کی اور یوں پہلی ہی ملاقات میں وہ ہمارے دل میں گھر کر گئے۔ اس دوران رابعہ بھی وہاں موجود رہی اور میں نے اس کو پرسکون اور خود اعتماد پایا۔ ان کے ساتھ کچھ دیر اور پر مسرت وقت گزارنے اور بہترین چائے نوشی کے بعد ہم نے ان کا شکریہ ادا کیا اور جانے کی اجازت چاہی۔ جب ہم ان کے گھر سے نکل رہے تھے تو میں نے بریگیڈئیر سراج سے ان کے گھر کی خوبصورتی کی تعریف کی تو انھوں نے بتایا کہ یہ ان کا نہیں بلکہ کرائے کا گھر ہے۔ ہماری سوسائٹی میں اکثر لوگ ایسی معلومات چھپا جاتے ہیں۔ ان کی اس سچائی نے مجھے ان کی شخصیت سمجھنے کا موقع دیا وہ یقیناً ایک ایماندار انسان تھے جو اس منافقت سے بہت دور تھے جو ہمارے معاشرے کے زیادہ تر افراد کے دل میں گھر کر گئی تھی۔ (جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

ادب وثقافت -