دوسروں کی بات کو غور سے سننےسے تجارت کو فروغ دیا جاسکتا ہے،جو لوگ منصوبہ بندی کرتے ہیں انہیں معلوم نہیں حقیقی مسائل کیا ہیں 

دوسروں کی بات کو غور سے سننےسے تجارت کو فروغ دیا جاسکتا ہے،جو لوگ منصوبہ ...
دوسروں کی بات کو غور سے سننےسے تجارت کو فروغ دیا جاسکتا ہے،جو لوگ منصوبہ بندی کرتے ہیں انہیں معلوم نہیں حقیقی مسائل کیا ہیں 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

مصنف:ڈاکٹر ڈیوڈ جوزف شیوارڈز
ترجمہ:ریاض محمود انجم
 قسط:127
دوسروں کی بات کو غور اور دلچسپی سے سننے کے عمل سے تجارت کو بھی فروغ دیا جاسکتا ہے:
منصوعات فروخت کرنے والے اکثر تجارتی ادارے عام طور پر فروخت میں اضافے کے ضمن میں سالانہ اجلاس منعقد کرتے ہیں اور پھر مقامی افراد اس اجلاس سے پہلے اس امر کی منصوبہ بندی کرتے ہیں کہ آئندہ سال فروخت کی مقدار کو زیادہ بہتر کیسے کیا جائے۔ اس قسم کے انداز فکر اور سوچ کو اپنانے میں مشکل یہ پیش آتی ہے کہ جو لوگ منصوبہ بندی کرتے ہیں، انہیں معلوم نہیں ہوتا کہ اصلی اور حقیقی مسائل کیا ہیں، نتیجہ یہ ہوتا ہے آئندہ سال فروخت کی مقدار میں اضافہ کرنے کے لیے کی گئی کوششیں مطلوبہ نتائج پیدا نہیں کر سکتیں۔
ملبوسات تیار کرنے والے ایک ادارے میں میرا ایک دوست مارکیٹنگ منیجر (Marketing Manager) (شعبہ فروخت کا سربراہ) کی حیثیت سے کام کرتا ہے۔ میرا یہ دوست ”دوسروں کی باتیں سننے“ پر مبنی انداز فکر اور طریقہ اپناتا ہے اور عظیم نتائج حاصل کر لیتا ہے۔ اس کا طریقہ کچھ یوں ہے: ”اپنے ادارے کی فروخت میں اضافہ کرنے کی خاطر ہر سالانہ اجلاس سے پہلے میں اپنے شعبے کے ہر رکن (Sales Representative) کو فون کرتا ہوں اور اس سے پوچھتا ہوں کہ آئندہ سال ادارے کی فروختگیوں میں اضافہ کرنے کے لیے اداروں کی کیسے مدد کر سکتا ہے (اور زیادہ فروخت کے ذریعے زیادہ دولت کمانے کے ضمن میں ادارہ ان کی کیا مدد کر سکتا ہے)۔ میں اس ترکیب کے ذریعے بہت اچھے نتائج حاصل کرتا ہوں کیونکہ میرے شعبے کے تمام ارکان، مصنوعات کی قیمتوں، مصنوعات کی فروخت میں اضافہ کے لیے طرائق کے علاوہ مختلف مسائل کی نشاندہی بھی اپنی تجاویز کے ذریعے کر دیتے ہیں۔“
اس نے اپنی بات جاری رکھی ”اس طرح کے سالانہ اجلاس ہائی سکول میں ہونے والی کلاسوں کی مانند ہوتے ہیں۔ استاد (سیلز منیجر Sales Manager)، طالبعلموں (شعبہ فروخت کے ارکان) کے سامنے کھڑا ہو جاتا ہے اور اصول و قوانین سے انہیں آگاہ کرتا ہے۔ پھر اس اجلاس کے دوران مختلف تجاویز زیر بحث آتی ہیں، کوئی کہتا ہے، یہ کرو، کوئی کہتا ہے یہ نہ کرو، کوئی کہتا ہے یہ بات غلط ہے، کوئی کہتا ہے یہ بات صحیح ہے۔ اور اسی طریقے کے ذریعے ہم (استاد اور اس کا عملہ) طالبعلموں (شعبہ فروخت کے ارکان) کے ساتھ مل کر آئندہ کی منصوبہ بندی طے کرتا ہے۔“
اس نے اپنا سلسلہ کلام جاری رکھا: ”ہمارا انداز فکر اور طرز عمل مختلف ہے۔ پہلے ہم وہ مسائل زیر غور لاتے ہیں جن کا شعبہ فروخت کے ارکان حقیقی طور پر سامنا کرتے ہیں اور ان کا حل تلاش کرتے ہیں۔ اور پھر یہ شعبہئ فروخت کے ارکان اس منصوبے کو اپنے لیے ذہنی بوجھ نہیں سمجھتے کیونکہ اس کی تیاری میں وہ خود بھی شامل ہوتے ہیں۔“
میرا دوست مجھے بتانے جا رہا تھا: ”آپ کو نہیں معلوم کہ اس طریقے کس قدر زیادہ اور بہترین تجاویز ہمارے سامنے آجاتی ہیں تاکہ فروختگیوں میں اضافہ کیونکر کیا جائے۔“(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

ادب وثقافت -