ٹڈّی دَل

ٹڈّی دَل
ٹڈّی دَل

  

حشرات الارض میں ٹڈی دل بڑی منفرد حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ انتہائی منظم ہوتے ہیں۔ یہ کسی تربیت یافتہ فورس کی طرح حملہ آور ہوتے ہیں اور اپنے پیچھے تباہی و بربادی کی داستانیں چھوڑ جاتے ہیں۔ یہ متحد ہو کر لہلہاتے کھیتوں کا رُخ کرتے ہیں اور فصل تباہ کر کے آگے گزر جاتے ہیں۔ ٹڈی دل کی فوج جس کھیت پر حملہ آور ہونے کا ارادہ کرتی ہے، اس پر یہ منظم ہو کر ایک سرے سے داخل ہوتی ہے اور دوسرے سرے تک پہنچتے کھیت اُجاڑ دیتی ہے۔ یہ فورس اس وقت تک تباہی پھیلاتی رہتی ہے، جب تک اس کھیت میں تمام فصل تباہ و برباد نہ کر دے۔ جب اسے مکمل یقین ہو جائے کہ اب اس کھیت میں اس کی دلچسپی کے لئے کچھ باقی نہیں بچا، تو پھر یہ اگلے کھیت کا رُخ کرتی ہے اور اسے بھی اپنا شکار بنا ڈالتی ہے۔ فصلوں کو نقصان پہنچانے والے حشرات میں یہ سب سے بے رحم اور خوفناک قسم ہے۔ کسان اس سے پناہ مانگتے ہیں۔

حشرات الارض کی یہ سب سے ظالم و بے رحم قسم ”ٹڈی دل“ ہماری سیاست میں بھی مکمل طور پر حملہ آور ہو چکی ہے۔ سیاسی ٹڈی دلوں کا یہ گروہ بظاہر انسانی شکل میں ہے، لیکن ان کی سوچ، فطرت اور نظریہ سو فیصد حشرات ٹڈی دلوں سے مماثل ہے۔ یہ ہر دور میں اقتدر کے لہلہاتے کھیت میں بڑے منظم طریقے سے داخل ہوتے ہیں۔ وزارتیں، عہدے اور مراعات لے کر اقتدار کی فصل کا پھل کھاتے ہیں اور اسے اُجاڑ کر آگے نئے اقتدار کے لہلہاتے کھیت کی طرف بڑھ جاتے ہیں۔ یہ اپنی فورس کو کبھی پیٹریاٹ کا نام دیتے ہیں، کبھی ہم خیال، تو کبھی فارورڈ بلاک اور کبھی کسی مشہور پارٹی کے نام کے آگے ایک ہجہ لگا کر اپنا کھیل کھیتے ہیں۔ یہ اپنے غیر اخلاقی و بے اصول نظریے کو کبھی کسی آمر کی چھتری میں چھپاتے ہیں اور اسے سو سو بار وردی میں منتخب کرانے کے دعوے کرتے ہیں۔ اس کی نا اہل شخصیت کو صلاح الدین ایوبی اور شیر شاہ سوری کے القابات سے نوازتے ہیں اور اس کی خوشامد میں سیاسی پارٹیوں اور قائدین کو گالیاں دیتے ہیں۔ جمہوریت کا مذاق اُڑاتے ہیں اور خوب تباہی پھیلا کر جب دیکھتے ہیں کہ آمر کا سورج زوال کا شکار ہو چکا، تو انہی جمہوری قوتوں اور لیڈروں کی گود میں آبیٹھتے ہیں ، جن کو بُرا بھلا کہنا یہ عبادت سمجھتے تھے۔

ٹڈی دل کا یہ گروہ کسی سے مخلص نہیں، ان کا کوئی نظریہءسیاست نہیں، ان کی زندگی کا کوئی اخلاقی اصول نہیں، سوائے اقتدار کے کھیتوں کو اُجاڑنے کے....اقتدار کی طرف بڑھتے لیڈر یا پارٹی ، جسے چند روز پہلے تک یہ گالیاں دے رہے ہوتے ہیں اور بدترین الزامات لگا رہے ہوتے ہیں۔ اچانک انہیں وہ پارٹی لیڈر دودھ میں نہایا نظر آنے لگتا ہے اور اس پارٹی کے بارے میں ان کے تحفظات محض چند لمحوں میں ختم ہو جاتے ہیں اور بغیر کسی ہچکچاہٹ، شرم و حیا اور اخلاقی جرا¿ت کے ڈھٹائی سے اس کے ساتھ پریس کانفرنس میں اس کی قیادت میں اپنے آپ کو پیش کر رہے ہوتے ہیں۔ ٹڈی دل کا یہ گروہ پہلے پرویز مشرف کے کھیت میں داخل ہوا۔ اسے بے رحمی سے اُجاڑ کر آصف علی زرداری کے لہلہاتے کھیتوں کا رخ کیا۔ اسے بھی اُجاڑ کر مکمل چٹیل میدان بنا کر اب پوری قوت سے میاں نواز شریف صاحب کے کھیت کا رخ کر چکا ہے۔ اب اس کا اگلا ٹارگٹ میاں صاحب کا اقتدار ہے۔ اسے اجاڑ کر یہ پھر کسی نئے لہلہاتے کھیت کی طرف بڑھیں گے۔ فی الحال یہ رائے ونڈ پر یلغار کئے ہوئے ہے۔

افسوس! اس بات کا ہے کہ ہمارے لیڈر بھی اقتدار کے حصول میں اس قدر بے تاب ہیں کہ انہیں ان ٹڈی دلوں کے کردار سے کراہت محسوس نہیں ہو رہی اور ان کے ذاتی مفاد میں لتھڑے ماضی سے بالکل گھن محسوس نہیں ہو رہی۔ یہ انہیں بڑی گرمجوشی سے خوش آمدید کہہ رہے ہیں اور اپنے مخلص و دیرینہ پارٹی کارکنوں پر انہیں فوقیت دے رہے ہیں۔ سیاسی جماعتیں اپنے اندر سے بھی ان مفاد پرست لوٹوں کے خلاف آواز اٹھا کر مزاحمت نہیں کر رہیں، جس کی وجہ سے یہ ناکام، نا اہل، کرپٹ اور ملک کو ہر دور میں پستی کی طرف لے کر جانے کے ذمہ دار دیدہ دلیری سے اقتدار میں شریک ہو جاتے ہیں۔ یہ ہماری سیاسی جماعتوں کی اندرونی کمزوری اور سیاسی جماعتوں کے اندر جمہوری کلچر نہ ہونے کا بہت بڑا المیہ ہے۔

 قوم کو مل کر ان ٹڈی دلوں کے خلاف مزاحمت کرنا ہوگی اور اپنے ووٹ کی طاقت سے ان کے عزائم ناکام بنانا ہوں گے، کیونکہ اب یہ گروہ ایک بار پھر اپنا مکروہ کھیل کھیلنے کے لئے نئے کھیت میں گھس رہا ہے۔ مشرف دور کی بربادی اور زرداری دور کی تباہی میں یہ برابر کا شریک تھا۔ اب یہ اگلے پانچ سال بھی خدانخواستہ اپنی نااہلیوں اور ہوس اقتدار کی بھینٹ چڑھانے پر تلا ہے۔ قوم کے پاس اس کا راستہ روکنے کے لئے ووٹ ایسا طاقتور ہتھیار ہے، جس سے یہ آئندہ کبھی اقتدار کے کھیتوں میں پہنچنے کے قابل نہ ہے اور اس ٹڈی دل گروہ کا راستہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے روکا جائے، کیونکہ اس سے ہمارا ملک دن بدن پستی کا شکار ہو رہا ہے۔   ٭

مزید : کالم