افسانے اور حقائق(1)

افسانے اور حقائق(1)
افسانے اور حقائق(1)

  

وطنِ عزیز پاکستان میں حقائق سے زیادہ افسانوں پر زور دیا جاتا ہے۔ افسانے جب زیادہ مشہور ہو جاتے ہیں تو حقائق بعد میں خواہ کتنے بھی مستند اور باوثوق ہو کے سامنے آئیں، ان پر اعتبار نہیں کیا جاتا، مثلاً اگر میڈیا پر کوئی سنسنی خیز خبر نشر ہوگئی یا چھپ گئی تو لوگ اس کو گلے کا تعویز بنا لیں گے۔ اگلے روز اگر اس کی تردید شائع اور نشر ہو بھی جائے تو پھر بھی لوگ اس پر یقین نہیں کرتے۔ قیاس کے گھوڑے دوڑائے جاتے ہیں کہ اس خبر کو پہلے سیاہ اور بعد میں سفید بنانے کے پیچھے کون سے مفادات وابستہ تھے!

جو معاشرہ زیادہ روشن خیال اور پڑھا لکھا ہوگا وہاں افسانوں کے انبار کم ہوں گے۔ لوگ پہلے کسی خبر کی حقیقت کو جاننا چاہیں گے، کسی حیران کُن یا ناقابلِ اعتبار نیوز بریک کا ماخذ تلاش کریں گے اور اس طرح کراس چیک کرنے کے بعد ہی کسی سنسی خیز یا انہونی خبر پر یقین لائیں گے، مگر وہ سوسائٹی جس میں کامن سینس کا عنصر کم ہو، نیم خواندہ یا اَن پڑھ لوگوں کی اکثریت ہو، وہم و گمان کا الاو¿ زیادہ روشن ہو اور توہم پرستی کی یلغار ہو تو اس سوسائٹی میں حقیقت (Reality) سے زیادہ افسانے (Perception) کو سندِ قبول عطا ہوتی ہے۔

مَیں اگلے روز کسی دوست کے ہاں گیا۔ وہ ایک عرصے تک ملک کے حساس اداروں میں کام کر چکے تھے۔ باتوں باتوں میں جنرل پرویز مشرف کا ذکر آیا تو مَیں نے پوچھا، ان کے زمانے میں آپ حاضر سروس تھے، اب وہ واپس پاکستان آ رہے ہیں تو آپ ان کی مجموعی کارکردگی پر کیا روشنی ڈالیں گے؟.... پھر مَیں نے پوچھا کہ مشرف نے جب اقتدار سنبھالا تو امریکہ ان سے ناراض تھا، حتیٰ کہ اس وقت کے صدر بل کلنٹن مارچ 2000ءمیں، اپنے ایک دیرینہ وفادار ملک اور قوم کو چھوڑ کر بھارت چلے گئے تھے اور پاکستان میں صرف دو اڑھائی گھنٹے ہی قیام کیا تھا۔ کیا یہ پاکستان اور جنرل پرویز مشرف کی تضحیک نہ تھی؟.... کیا CIA اور ISI کے درمیان اتنی دوریاں تھیں کہ وہ ایک ایسے فوجی صدر سے بے اعتنائی برت رہے تھے، جو اب ISI کے بھی باس بن چکے تھے۔

میرے دوست نے یہ سُن کر ایک کاغذ میری طرف بڑھایا اور کہا کہ اس پر اپنے تحفظات اور وہ سوالات لکھ لیں جو آپ پر گراں گزرتے رہے ہیں۔ مَیں اگر کر سکا تو آپ کو اصل حقیقت سے آگاہ کرنے کی کوشش کروں گا۔ مَیں نے ان کی طرف بڑے غور سے دیکھا اور کہا:”چائے وغیرہ کا ایک اور دور ہونا چاہئے“!....

اس وقت میرے ذہن میں جو سوال اٹھے ،وہ مندرجہ ذیل تھے:

-1 وزیراعظم نواز شریف نے اکتوبر1999ءمیں جب جنرل ضیاءالدین بٹ کو چیف آف آرمی سٹاف بنایا تو کیا امریکہ نے اس کی حمایت کی تھی؟.... اور اگر نہیں تو CIA نے وزیراعظم کو ان کے عہدے پر واپس بحال کرنے میں کیا، کوئی کردار ادا کیا تھا؟

-2 جنرل عثمانی کو کیوں مستعفی ہونا پڑا؟

-3 جنرل محمود (کمانڈر 10 کور، راولپنڈی) کا 12 اکتوبر1999ءوالے واقعہ میں کوئی ہاتھ تھا؟ اگر تھا تو کتنا تھا؟

-4 کلنٹن نے بھارت کو پاکستان پر ترجیح کیوں دی؟.... کیا وہ دنیا کو بتانا چاہتے تھے کہ وہ پاکستان کی فوجی آمریت کے خلاف ہیں؟

-5 کلنٹن نے جنرل مشرف کو اس دورے میں بڑے بُرے طریقے سے نظر انداز کیا۔ کیا مشرف کا پندار مجروح نہیں ہوا تھا؟

-6 کلنٹن کا چند منٹ تک پی ٹی وی پر خطاب اور پاکستانی ایڈمنسٹریشن یا پبلک کا بائیکاٹ ....چہ معنی دارد؟

اتنے میں چائے آگئی اور ہم نے بہتر جانا کہ پہلے اس کو”بھگتا“ لیا جائے۔ اس کے بعد خشک اور تلخ باتیں شائد زود ہضم بن سکیں۔

اس کے بعد یہ ہوا کہ میرے وہ دوست بولتے رہے اور مَیں سنتا رہا۔ ان کی ایک بہت اچھی عادت یہ بھی ہے کہ رُک رُک کر اور بڑے تحمل سے گفتگو کرتے ہیں۔ ان کو تاریخ وار واقعات اس طرح یاد ہوتے ہیں، جیسے ابھی ان کے سامنے رونما ہو رہے ہیں۔ ان کی اس خوبی کی تقلیدکرنے کی، مَیں نے ہزار بار کوشش کی، لیکن شعوری کاوش کے باوجود ناکام رہا.... ان کی گفتگو کا نچوڑ میں قارئین کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں تاکہ وہ حقیقت اور افسانے میں فرق معلوم کر سکیں.... انہوں نے کہنا شروع کیا:

”-1 آپ نے بڑے اچھے سوال کئے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ان کے جواب میں جو کچھ مَیں عرض کرنے لگا ہوں، وہ ایک تو عام پاکستانی پبلک کو معلوم نہیں اور کچھ معلوم ہے بھی تووہ صرف پرسپشن ہے، جس پر کسی بھی ملک کی انٹیلی جنس ایجنسی کبھی اعتبار نہیں کرتی.... 12اکتوبر والے واقعے میں اصل بات یہ تھی کہ چونکہ جو شخص آئی ایس آئی اور سی آئی کے درمیان انٹر ایکشن کا ذمہ دار تھا اور جو بہت سے رازوں سے واقف تھا، اس کو وزیراعظم نے پروموٹ کر کے آرمی چیف بنا دیا تھا۔ سی آئی اے، جنرل بٹ کو (Dull-minded) افسر سمجھتی تھی جو پیشہ ورانہ اعتبار سے کمزور گردانے جاتے تھے۔ امریکی سفارت خانے سے یا سی آئی اے سے جب بھی کوئی بلاوا آتا، وہ فوراً لبیک کہتے، اس لئے سی آئی اے کے لئے وہ زیادہ قابلِ قبول تھے۔ پاک فوج کے سینئر رینک میں یہ گپ عام تھی کہ بٹ صاحب نے ISI کو سیاست زدہ کر دیا ہے۔اگر مَیں یہ کہوں کہ CIA نے وزیراعظم نواز شریف کو بطور وزیراعظم بحال کرنے کا کبھی سوچا بھی تھا، تو یہ بات بالکل غلط ہوگی۔ CIA ، ایک معزول شدہ وزیر اعظم کو کیسے بحال کروا سکتی تھی؟

-2 آپ کا دوسرا سوال کراچی کور (5 کور) کے کمانڈر عثمانی صاحب کے بارے میں تھا۔ جنرل پرویز مشرف کی بحفاظت لینڈنگ میں ان کا رول صرف اتنا تھا کہ وہ اینٹی مشرف گروہ میں نہیں تھے۔ پاک آرمی کا اندرونی ڈسپلن کافی مضبوط رہاہے، اس لئے جنرل عثمانی، باقی کور کمانڈروں کی مخالفت مول نہیں لے سکتے تھے، البتہ اس کے بعد جب جنرل عثمانی نے جنرل مشرف کا میلان، امریکہ کی طرف زیادہ پایا تو ان کو خبردار کیا کہ وہ اپنے ہمسائے میں آگ سے نہ کھیلیں۔

-3 جنرل محمود حسین، کور کمانڈر10 کور، راولپنڈی کا رول،12 اکتوبر والے واقعے میں اہم ترین تھا۔ یہ CIA والے، پاکستان ہی نہیں دنیا کی ساری افواج کے سینئر جرنیلوں کی”اِیچی بِیچی“ جانتے ہیں۔ ان کو معلوم تھا کہ جنرل مشرف اور جنرل محمود کا تعلق توپخانے سے ہے۔ دونوں نے ایک آرٹلری یونٹ میں اکٹھے ملازمت کی تھی۔ اسلام آباد کے امریکی سفارت خانے میں ”کیس افسروں“ (Case officers) کو یہ تک معلوم تھا کہ جنرل محمود کہ جب وہ سٹاف کالج کوئٹہ میں زیر تربیت تھے تو ان کا شمار بڑے ہوشمند اور لکھے پڑھے افسروں میں کیا جاتا تھا۔ اس زمانے میں انہوں نے جس لڑائی پر مقالہ لکھا تھا، وہ گیٹس برگ (Gatlesburg) کی لڑائی تھی....

یہ تو آپ کو معلوم ہی ہے کہ یہ لڑائی1863ءمیں امریکہ کی خانہ جنگی کے دوران لڑی گئی تھی۔ یہ خانہ جنگی 1861ءسے 1865ءتک چار برس تک لڑی گئی جس میں شمالی ریاستوں نے جنوبی ریاستوں پر فتح پائی۔ گیٹس برگ کی لڑائی(Battle) امریکی خانہ جنگی میں ایک فیصلہ کن موڑ سمجھی جاتی ہے۔ یہ اس جنگ کی سب سے بڑی لڑائی تھی اور اس کی خونریزی کا عالم یہ تھا کہ دونوں طرف سے ہزاروں امریکی مارے گئے اور ہزاروں زخمی ہوئے تھے۔ اس لڑائی نے فیصلہ کر دیا تھا کہ امریکہ کا مستقبل کن لوگوں کے ہاتھوں میں ہوگا۔ جنوب میں کاشتکار لوگ زیادہ تھے اور شمالی ریاستوں میں کارخانہ داروں کو اکثریت حاصل تھی۔ CIA نے یہ اندازہ لگانے میں غلطی نہ کی کہ جنرل محمود، امریکہ کی جنگی تاریخ سے کماحقہ آگاہ ہیں۔

CIA والے یہ سمجھتے تھے کہ جنرل محمود، مستقبل میں انہی وجوہات کی بناءپر امریکہ کے طرفدار سمجھے جائیں گے، ان کے مخالف نہیں۔

اکتوبر1999ءوالے واقعہ میں جنرل محمود کا کردار پرو(Pro) مشرف تھا۔ مشرف نے جنرل محمود کو راولپنڈی کور کا کمانڈر بناتے ہوئے جن نکات کو ملحوظ رکھا تھا، ان میں سب سے بڑا نکتہ یہی تھا کہ 111 بریگیڈ کس کے زیرِ کمانڈ ہے۔ اگرچہ 111 بریگیڈ کا حصہ کسی بھی ”کُو“ میں بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے ،لیکن یہ پرسپشن بھی غلط ہے کہ اس ٹرپل ون بریگیڈ کا اولین اور آخرین کام یہی ہے کہ مارشل لاءلگانے میں آرمی چیف کی معاونت کرے.... حقیقت یہ ہے کہ اگر پاک فوج کے باقی عناصر (یونٹیں اور فارمیشنیں)111 بریگیڈ کی حرکات و سکنات کے خلاف بغاوت کرنا چاہیں تو اس کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جاسکتا،لیکن پاک فوج کا اندرونی ، ڈسپلن اتنا کڑا ہے کہ اس سنریو کو عملی صورت میں ڈھلنے کے امکانات”صفر“ ہیں۔

جہاں تک فوج کی درمیانی درجے کی لیڈر شپ (میجر اور لیفٹیننٹ کرنل) کا تعلق ہے تو وہ سویلین حکومت سے پہلے ہی ناراض تھی۔ ایک تو وزیراعظم نے جنرل جہانگیر کرامت کو گھر بھیج دینے پر مجبور کر دیا تھا اور دوسرے جنرل پرویز مشرف کی جگہ ایک ایسے جنرل کو لے آئے تھے جن کا پروفیشنل ماضی، پاک فوج کے مجموعی پروفیشنل ماضی کا حقیقی ترجمان اور عکاس نہیں تھا“۔(جاری ہے)    ٭

مزید : کالم